|

وقتِ اشاعت :   July 9 – 2019

کوئٹہ : بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی صدر و وزیراعلیٰ بلوچستان جام کما ل خان نے کہا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے خلاف اگر تحریک عدم اعتماد لائی گئی تو جمہوریت پسند قوتیں اور جماعتیں اسکی بھر پور مخالفت اور چیئر مین سینیٹ کا ساتھ دیں گی، بلوچستان سے ماضی میں معافی مانگنے والے آج خود وفاق میں بلوچستان کی نمائندگی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

چیئرمین سینیٹ کے عہدے کو ہٹا نے سے بلوچستان کے احساس محرومی اور جمہوریت کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوگا، یہ بات انہوں پیر کے روز این این آئی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہی، وزیراعلیٰ جام کمال خا ن نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے آج چیئر مین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ بلوچستان کے عوام کے لئے باعث تشویش ہے چیئر مین سینیٹ وفاق کی علامت ہے جسے ہٹانے سے وفاق کمزور ہوگا لیکن کچھ سیاسی جماعتیں بلوچستان کی محرومی اور پسماندگی کو نظر انداز کرتے ہوئے سیاسی بنیادوں پر صوبے کو اس عہدے سے محروم کرنا چاہتی ہیں جو کہ بلوچستان کے احساس محرومی میں اضافے کا سبب ہوگا۔

صوبے کو ماضی میں بہت نظر انداز کیا گیا چیئر مین سینیٹ کے انتخاب میں صادق سنجرانی کی حمایت کرنے والی جماعتیں آج خود اپنے موقف سے پیچھے ہٹ رہی ہیں جس سے یہ واضح ہورہا ہے کہ انہیں بلوچستان کے مفادات سے زیادہ اپنے ذاتی مفادات عزیز ہیں،ایک سوال کے جواب میں جام کمال نے کہا کہ حکومت کی مخالفت میں چیئر مین سینیٹ کو ہٹا نے سے اپوزیشن جماعتوں کو کیا فائدہ ہوگا یہ سمجھ سے بالاتر ہے بلوچستان میں بھی جمہوری انداز میں تبدیلی لائی گئی تھی لیکن وہ وقت اور حالات کی ضرورت تھی کہ بلوچستان کو اسکی حقیقی نمائندگی دی جائے لیکن وفاق میں اس طرح کے اقدام سے ملک اور جمہوریت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

اپوزیشن جماعتیں احتجاج ضرور کریں لیکن اس میں احتیاط برتیں تاکہ ملک کسی بڑے نقصان سے دو چار نہ ہو انہوں نے واضح کیا کہ اگر چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی تو اسکا بھر پور انداز میں مقابلہ کریں گے۔