|

وقتِ اشاعت :   August 4 – 2019

کوئٹہ: ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں نیشنل پارٹی کیلئے یہ بڑی بات ہے کہ چیئرمین سینیٹ کیلئے اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو کے نام پر اتفاق کیا، یہ وہ کردار ہے۔

جو نیشنل پارٹی اور میرحاصل خان بزنجو نے 1990ء سے لیکر اب تک اسلام آباد میں سیاسی حوالے سے ادا کیا۔جہاں تک بلوچستان کی محرومیوں کا تعلق ہے تو نہ میرحاصل خان بزنجو محرومیوں کاخاتمہ کرسکتے ہیں اور نہ ہی صادق سنجرانی بلکہ بلوچستان کی محرومیاں ایک الگ موضوع اور مسئلہ ہے،ریکوڈک منصوبہ کے متعلق سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا کہ بی ایچ پی کے ساتھ جو معاہدہ ہوا تھا۔

اسے میں صحیح سمجھتا ہوں جس طرح سے مجھے اس معاہدے کے حوالے سے بریف کیا گیا تھاکہ اس منصوبے سے 25فیصد بلوچستان جبکہ 75فیصد بی ایچ پی کا حصہ تھا۔مگر بی ایچ پی نے جب اپنے شیئرز انٹرنیشنل اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کئے تو تھیتان کاپرکمپنی نے شیئرز خریدے پھر اس کے بعدسننے میں آیا کہ منصوبے میں گڑبڑ ہوگئی ہے۔

مگر وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ میرے پاس اس کے ثبوت موجود نہیں ہیں البتہ جونیامعاہدہ ہوا تھا اس میں بلوچستان کو جو 25 فیصد شیئر ملنے تھے اسے ختم کردیا گیا اور اس میں یہ شرط رکھی گئی کہ بلوچستان25 فیصد سرمایہ کاری کرے گا تب جاکر اسے 25 فیصد شیئر دیئے جائینگے جس کے بعد معاہدہ آگے نہ بڑھ سکا یعنی بلوچستان کو اس منصوبے سے کچھ نہیں ملے گا۔سی پیک منصوبہ پر ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ کا کہنا ہے۔

کہ چائنا کو انڈین سی میں آنا تھا اوروہ گوادر کے ذریعے ہی آسکتا تھا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ اکنامیکل کوریڈور ہے یا اسٹر اٹیجکل میں سمجھتا ہوں کہ زیادہ تریہ اسٹراٹیجکل کوریڈور ہے تھوڑا بہت اکنامیکل ہوسکتاہے۔ ایک دور میں شور مچ رہا تھا کہ روس گرم پانی کیلئے آرہا ہے ہم بھی سوشلسٹ کیمپ میں تھے خوب نعرے بازی کررہے تھے البتہ روس تو نہیں آیا مگر چائنا بڑی خاموشی کے ساتھ داخل ہوگیا اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلا۔

ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے اپنی وزارت اعلیٰ کے حوالے سے کہنا تھا کہ نواز شریف اور محمودخان اچکزئی کی مہربانی تھی جنہوں نے مجھے وزیراعلیٰ بلوچستان نامزد کیا کیونکہ میں امیدوار نہیں تھا بلکہ ہم نے لکھ کر دیا تھا کہ وزیراعلیٰ مسلم لیگ ن سے ہوگا،وفاقی حکومت سے پہلے بلوچستان میں میرا حال اسی طرح تھا کہ جس کی تین بیویاں ہوں اس کا حال کیا ہوگا، صبح ایک ناراض، دوپہرکودوسری اور شام کو تیسری ناراض ہوجاتی ہے۔

میرے وزارت اعلیٰ کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے نہیں بلکہ زیادہ مشکلات اتحادیوں کی وجہ سے درپیش تھیں۔ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے مخلوط حکومت کے متعلق مشکلات کے حوالے سے کہنا تھا کہ کچھ حکومتیں کسی حد تک بہتر چلی ہیں مگر مجموعی طورپرمخلوط حکومتوں کو بڑی مشکلات کا سامنا کرناپڑاہے، مسکراتے ہوئے ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہا کہ سننے میں آ رہا ہے۔

کہ جام کمال خان کی حکومت بہتر طریقے سے چل رہی ہے، ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے اپنے دور کے میگاکرپشن سامنے آنے پر کہاکہ نیشنل پارٹی کی سب سے بڑی خوبی ایمانداری تھی اس کرپشن کی وجہ سے بیشک اسے داغ لگ گیاہے مگر مجموعی طور پر نیشنل پارٹی کی قیادت ایماندار ہے۔

سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے بلوچستان کی پسماندگی کے ذمہ دار پرکہنا تھا کہ ایک تو وہ لوگ ذمہ دار ہیں جو اسٹیٹس کوکے قائل ہیں، جنہوں نے ابھی تک رابرٹ سنڈیمن کی کتاب کو تھاما ہوا ہے اور اس کو پڑھتے ہیں کہ بلوچستان میں صرف اشرافیہ ہی ہوگی۔جب تک اسٹیٹس کو تبدیل نہیں ہوگا آپ کی چیزیں آگے نہیں بڑھیں گی دوسر ا وفاقی اورصوبائی حکومتیں بھی ذمہ دار ہیں۔

ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے متعلق کہنا تھا کہ جس طریقے سے سردار ثناء اللہ زہری کو نکالاگیا وہ غلط تھا، نواز شریف نے کہاتھا کہ میرے ایم پی ایز پر چیک رکھنا ہم نے کہاتھا کہ ان پر ایک پتھر پھینکاگیا تو یہ سب اڑجائینگے، ہمیں اڑھائی سال کی حکومت نہیں لینی چاہئے تھی، جلاوطن بلوچوں کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہاکہ میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی۔

سیاسی وعسکری قیادت سے میں نے بات کی کہ یہ مسئلہ بات چیت سے حل ہو جس کے بعد دونوں قیادت راضی ہوگئیں اور میں نے مذاکرات شروع کئے، میں نے براہمداغ بگٹی پر واضح کردیا تھا کہ میں ایک پُل کا کردار ادا کررہا ہوں اور براہمداغ بگٹی مکمل راضی ہوگئے تھے اور مذاکرات میں کافی پیشرفت بھی ہوگئی تھی مگر درمیان میں میری مدت پوری ہوگئی پھر بات چیت کا عمل مکمل رک گیا، لاپتہ افراد کے مسئلے پر ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہاکہ حلف اٹھانے کے کچھ دن بعد ہی میں لاپتہ افراد کے کیمپ پر گیا ماماقدیر کے ساتھ میرے پرانے تعلقات ہیں۔

فرق یہ ہے کہ میں نے لاپتہ افراد کے نام پر سیاست نہیں کی، جب کراچی پریس کلب میں ایک تقریب کے دوران مجھ سے پوچھا گیا کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے تو میں نے کہاکہ میری تمام تر کوششوں کے باوجود میں لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے پر ناکام ہوگیا ہوں، خضدار ضمنی انتخاب کے اتحاد پر ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ کچھ ناکردہ گناہوں کی سزاہمیں ملی ہیں۔

جیسے ٹینکی لیکس دوسرا یہی فیصلہ جو خضدار کے ضمنی انتخاب کے اتحاد میں کیا گیا،ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے نیشنل پارٹی اور بی این پی مینگل کے درمیان اتحاد کے حوالے سے کہاکہ ہمارے دوست کوشش کررہے ہیں کہ یہ کھچاؤ کم ہو، یہ جوکھچاؤ سرداراخترمینگل یا کسی اور کے ساتھ ہو بحیثیت بلوچ قوم اور بلوچستان کے گھمبیر مسائل کے پیش نظر ہم اس کھینچاتانی کو برداشت نہیں کرسکتے جتنا کھینچاتانی کم ہوگی بہترہے۔

جام کمال خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے حوالے سے کہاکہ مجھے نہیں لگتا کہ بلوچستان میں اس وقت عدم اعتماد کی تحریک پختہ ہے کیونکہ گنتی میں جام کمال خان کی پوزیشن مضبوط ہے،ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے امریکہ ایران کشیدگی اورممکنہ جنگ پر کہنا تھا کہ بلوچستان پہلے سے ہی جنگ زدہ ماحول میں ہے۔

جب سے افغان جنگ شروع ہوا ہے یہاں حالات خراب ہوئے ہیں، اگر خدانخواستہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ جائے گی تو اس کا مرکز بلوچ علاقے ہونگے جو کسی زمانہ میں فاٹاتھا۔