|

وقتِ اشاعت :   August 6 – 2019

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ محاذ پر کامیابیاں بھارت کو ہضم نہیں ہورہیں، پاکستان حکومتی اور انفرادی طو رپر کشمیر کی حمایت جاری رکھے گا، ریکوڈک کیس میں چھ ارب ڈالر یعنی نو سوپچاس ارب روپے کا جرمانہ حکومت بلوچستان نے ادا کرنا ہے۔

جو صوبے کے تین سال کے بجٹ کے برابر ہے ہمیں سپریم کورٹ کا فیصلہ مہنگا پڑا، ایک سائنسدان نے دو ارب کا سامان خرید کر کہا کہ ہم ریکوڈک سے معدنیات نکال لیں گے ماضی میں جذباتی فیصلے کرنے کا خمیازہ آج بھگت رہے ہیں، پڑھے لکھے برسرروزگارانجینئرز کی ہڑتال درست نہیں ہے حکومت بے روزگاری کے خاتمے کے لئے اقدامات کرے گی لیکن بیس لاکھ لوگوں کو سرکاری نوکری نہیں دے سکتے اس کے لئے پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔

سیاسی دباؤ ضرور آتا ہے لیکن ہمیں جذبات کی بجائے عوامی مفاد میں فیصلے کرنے چاہئے یہ بات انہوں نے پیر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں ریکوڈک کیس سے متعلق تحریک التواء پر جاری بحث سمیٹتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے کہ جب بھی کشمیر کی بات آئی حکومت اور عوام دونوں نے بھرپور انداز میں کشمیریوں کا ساتھ دیا اور شانہ بشانہ کھڑے ہوئے۔

آج صوبے میں اجتماعی تقریبات کا انعقاد کشمیریوں پر نئے انداز میں کئے جانے والے مظالم کے خلاف اظہار یکجہتی کرنا تھا انہوں نے کہا کہ بھارت نے دو لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا ہے اور حالیہ دنوں میں کشمیر پر مظالم میں شدت آئی ہے اور اب ہم نے آرٹیکل 370کے خاتمے کے بعد ا س شدت میں ایک نیا اضافہ دیکھا ہے، کلسٹر بم آبادی پر گرانا بھارت کے غلط عزائم کی نشاندہی کرتا ہے سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن پی ٹی آئی اور عمران خان کو یہ کریڈٹ دینا ہوگا۔

کہ ان کی قابلیت کی وجہ سے امریکی صدر نے پاکستان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی پیش کش کی وزیراعظم کی قابلیت کی وجہ سے بیس ہزار لوگ امریکہ جیسے ملک میں جمع ہوئے پاکستان میں اثر رسوخ، قبائلیت، قومیت سمیت دیگر معاملات کو استعمال کرکے لوگ اکھٹے کئے جاسکتے ہیں لیکن باہر ایسا کرنا ممکن نہیں انہوں نے کہا کہ حکومت کی ایک سال کی خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔

کہ جن ممالک نے ہم پر سوالات کئے تھے آج ان کے سربراہان پاکستان آئے اور ہم سے مطمئن ہیں ہماری موجودہ خارجہ پالیسی ہمیں ایک اچھے مقام پر لے جاسکتی ہے آج ہم مشرق وسطیٰ، افغانستان سمیت دیگر عالمی معاملات میں اہم کردار ادا کررہے ہیں یہ تمام موجودہ حکومت کی محنت کا نتیجہ ہے انہوں نے کہا کہ بھارت ہماری خارجہ پالیسی، ذمہ دارانہ اقدامات اور قوت کے صحیح استعمال سے خوفزدہ ہوچکا ہے۔

افواج پاکستان نے حال ہی میں قوت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرکے دنیا کو اس بات پر مجبور کیا کہ ہمارے ادارے براہ نام نہیں بلکہ اپنا بھرپور دفاع کرنا جانتے ہیں دشمن پاکستان کو آگے جاتا نہیں دیکھ سکتا انہوں نے کہ ریکوڈک پر ماضی میں بہت بحث ہوئی قرار دادیں آئیں کیس ہوئے تقاریر ہوئیں لیکن یہ سب کچھ جذباتی عمل تھا ملکی معاملات جذبات پر نہیں چل سکتے۔

ہمیں پیشہ ورانہ طریقے سے معاملات آگے لے کر چلنے کی ضرورت ہے جذباتی فیصلوں کے نتائج ریکوڈک کیس کے فیصلے کی طرح نکلتے ہیں ہم نے آج یا کل چھ ارب ڈالر ضرور دینے ہیں اور وفاقی و صوبائی حکومت نے مل کر سرجوڑ کر بیٹھنا ہے کہ ہم یہ پیسے کیسے ادا کریں ماضی میں لوگوں کی کم نظری،گزارے کی پالیسی اور غلط اقدامات نے آج ہمیں اس موڑ پر لاکھڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کو اس میں گناہگار نہیں سمجھوں گا کیونکہ انہین بھی ایسے جذباتی حالات میں ڈالا گیا کہ انہیں یہ فیصلے کرنے پڑے حکومت اور پوزیشن کی لڑائی میں ایسے فیصلے ہوجاتے ہیں جس سے ملک کو نقصان پہنچتا ہے اگر ہم جذبات سے ہی فیصلے کرتے رہے تو ایک کی بجائے دس ریکوڈک سامنے آجائیں گے انہوں نے کہا کہ جب سپریم کورٹ نے ریکوڈک کیس کا فیصلہ دیا تو کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم نے وسائل بچا لئے، وقت او رحالات گواہی دیں گے کہ کیا ریکوڈک معاہدہ منسوخ کرنا ٹھیک تھا یا نہیں؟ آج دنیا بھر میں قومی مفاد معیشت ہے۔

ہمارے پاس جب پیسے نہیں ہوں گے تو ترقی نہیں ہوگی اور یہ ایوان بھی نہیں ہوگی ہم نہیں چاہتے کہ ایسے فیصلے کریں کہ اگلی حکومتیں ہمیں کوستی رہیں ہم نے لوگوں کو نوکریاں ضرور دینی ہیں لیکن یہ تمام سرکاری کھاتے میں نہیں دے سکتے ہمیں پرائیویٹ اور سرکاری ملازمتوں کو ملا کر لوگوں کی بے روزگاری دور کرنی ہوگی اس وقت صوبے میں بیس سے تیس لاکھ بے روزگار ہیں۔

کیا ہم سب کو سرکار پر ڈال دیں؟ہمیں ایک طریقہ کار بنانا ہے، انہوں نے کہا کہ پڑھے لکھے برسرر وزگار انجینئرز سے توقع نہیں تھی کہ وہ دفاتر کی تالہ بندی کریں گے ان کے پاس فورم موجود ہے وہ سٹینڈنگ کمیٹی، اپوزیشن یا دوسرے فورمز پر بات کرسکتے تھے اگر بے روزگارانجینئرز نعرے لگاتے یا ہڑتال کرتے تو سمجھ میں بھی آتا ہے پڑھے لکھے ایکسیئن کیوں ہڑتال کررہے ہیں۔

انہیں یہ چیزیں زیب نہیں دیتیں وہ سرکار کو مجبور کررہے ہیں کہ ہم ان کے خلاف اقدامات کریں ہمارے پاس بہت سے پڑھے لکھے انجینئر ہیں جو شاید ان سے بہتر کام کرسکتے ہیں اگر ہم نوجوان اور بے روزگار وں کو مواقع دیں تو وہ اچھا کام کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ایک ریکوڈک ہی نہیں بلکہ ہمارے پاس معدنیات، توانائی، فشریز سمیت بے شمارایسے شعبے موجود ہیں جہاں ہم روزگار کے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔


لیکن ہم حکومت بٹھا کر بے روزگاری ختم نہیں کرسکتے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایسی افرادی قوت اور پروفیشنل ازم نہیں کہ ہم بیک وقت تکنیکی اور قانونی پیچیدگیوں کو دیکھتے ہوئے فیصلے کرسکیں نئے قوانین لا کر سسٹم کو بہتر بنایا جاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ ریکوڈک کے چھ ارب ڈالر پاکستانی روپیے میں نو سو پچاس ارب روپے بنتے ہیں جو بلوچستان حکومت کا تین سال کا بجٹ ہے۔

اگر ہم سب مل کر یہ کہہ دیں کہ تین سال تک تنخواہ نہیں لیں گے ترقیاتی کام نہین کریں گے پی ایس ڈی پی نہیں بنائیں گے تو ہم یہ جرمانہ ادا کرسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس جرمانہ ادا کرنے کے پیسے نہیں لیکن ایسا نہیں کہ ہم نے یک مشت یہ جرمانہ ادا کرنا ہوگا اس کے لئے مدت ملے گی جبکہ ہم عالمی فورم پر مختلف پہلوؤں پر کیس کو آگے لیجانے پر غور کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بینکوں کو ساتھ ملا کر بانڈز جاری کرکے کمپنیوں کے ہمراہ مشترکہ منصوبے اور بڑے اداروں کو اکھٹا کرکے ہم اپنی آمدن میں اضافہ اور ریکوڈک کیس کا جرمانہ ادا کرسکتے ہیں ہمیں سپریم کورٹ کا فیصلہ مہنگا پڑ گیا میں سائنسدان کو اتنا بڑا منصوبہ حوالے کرنے کے حق میں نہیں ہوں گے دو ارب کا سامان خرید کر ڈیڑھ سو سے دو سو ارب کے منصوبے کو کیسے چلایا جاسکتا تھا یہ غلط فیصلہ تھا ہمیں تھر کی طرز پر منصوبوں پر کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت تمام شعبوں میں ماہرین تعینات کررہی ہے۔

معدنی وسائل سے متعلق ہم نے پالیسی بنائی ہے ہم خود نہیں کودیں گے ماہرین کو ہائیر کریں گے انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت قدم بہ قدم آگے بڑھ کر بلوچستان کے وسائل کو بروئے کار لانے کے لئے حکمت عملی مرتب کررہی ہے جس کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے بعدازاں تحریک التواء نمٹاتے ہوئے اجلاس 8اگست تک کے لئے ملتوی کردیاگیا۔