کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام بناکر درحقیقت بلوچستان کے اندر سازش پیدا کرنے کی کوشش کو ناکام بنایا، اپوزیشن جماعتیں چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے پارٹی پالیسی کی پاسداری نہ کرنے والے سینیٹرز کو نکال دیں۔
اگر اپوزیشن کے کسی سینیٹر نے اپنی جماعت کی مرضی سے ہٹ کر ووٹ دیا ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی پارٹی کی پالیسیوں سے ناخوش ہو، سینٹ کے حوالے سے ہارس ٹریڈنگ کی باتیں فرضی ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان ڈیلی نیوز پیپر ایڈیٹرز کونسل کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جس نے کونسل کے صدر انور ساجدی کی سربراہی میں ان سے ملاقات کی۔
ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر خان موسیٰ خیل، صوبائی وزراء زمرک خان اچکزئی اور میر اسد بلوچ بھی اس موقع پر موجود تھے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کا سیاسی ماحول دیگر صوبوں سے مختلف ہے، چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے اس قسم کا ماحول سینٹ میں بھی متعارف کرایا جو حکومتی اور اپوزیشن کے سینیٹرز کو پسند آیا ہے اور چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے پہلے ہی سے اپوزیشن کے سینیٹر ز میں اختلاف رائے تھا، کشمیر کے موجودہ حالات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370کا خاتمہ خطرناک قدم ہے۔
جس سے وادی میں خونریزی میں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے جس کا احساس کشمیری قیادت کو بھی ہے اور انہوں نے مسلم امہ اور عالمی برادری کی توجہ اس جانب دلائی ہے، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے حالیہ کامیاب دورہ امریکہ اور امریکی صدر سے مفید ملاقات کے بعد بھارت نے یہ انتہائی قدم اٹھایا ہے، انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
اس وقت پوری قوم کشمیری بھائیوں سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کررہی ہے تاکہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے مظلوم کشمیریوں کی آواز بین الاقوامی سطح تک پہنچائی جاسکے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی قومی سطح پر ابھر رہی ہے، کے پی کے کے تین ایم پی اے پارٹی میں شامل ہوئے ہیں جبکہ دیگر صوبوں سے مزید لوگ بلوچستان عوامی پارٹی میں شامل ہونا چاہ رہے ہیں ہم بتدریج پارٹی کو قومی سطح کی پارٹی بنانے کی جانب پیشرفت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ قدرتی طور پر ذہین ہیں صوبے کی آبادی کم اور یہاں کے لوگ فطری طور پر آزاد منش اور اپنی قبائلی روایات کے پاسدار ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ میڈیا معاشرے کے اچھے کاموں اور اچھے لوگوں کو رول ماڈل کے طور پر پیش کرے، پرنٹ میڈیا مصدقہ اور بااعتماد خبروں کی اشاعت کے ذریعہ اپنی ساکھ برقرار رکھ کر سوشل میڈیا پر لوگوں کے انحصار کو کم کرسکتاہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک اور صوبے کے موجودہ حالات میں صحافتی اقدار کی پاسداری اور قلم کو کسی وابستگی کے بغیر استعمال کرکے میڈیا معاشرے کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، وزیراعلیٰ نے کونسل کی جانب سے پیش کئے گئے اخباری صنعت کو درپیش مسائل کے حل کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ محکمہ اطلاعات کا قلمدان ان کے پاس ہے اور صوبے کے سینئر صحافیوں اورایڈیٹرز کی مشاورت سے محکمے کی کارکردگی میں بہتری اور جدت لائی جائے گی، اشتہارات کی منصفانہ اور میرٹ کے مطابق تقسیم کویقینی بنایا جائے گا اور اخبارات پر لاگو بی آر اے ٹیکس کے استثناء کا معاملہ کابینہ میں پیش کرکے اسے حل کیا جائے گا۔