کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ قوانین میں ترامیم اور ریفامز لائے بغیراداروں کی استعداد کار بڑھانا نا ممکن ہے، حکومت کو ریونیو دینے والے اداروں کی بہتری کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔
بلوچستان مائنز اینڈ منرل ڈوپلمنٹ پالیسی سے صوبے میں سرمایہ کار متوجہ ہونگے،محکمہ مائنراینڈ منرلز کا ریونیو ہدف 5ارب روپے تک لیکر جائیں گے، یہ بات انہوں نے جمعہ کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں بلوچستان مائنر اینڈ منرلز ڈوپلمنٹ پالیسی 2019کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر صوبائی وزراء و مشیران میر ظہور بلیدی، انجینئر زمرک خان اچکزئی،میر سلیم کھوسہ، نور محمد دمڑ، نصیب اللہ مری،مٹھا خان کاکڑ، سینیٹر نصیب اللہ بازئی،اراکین اسمبلی میر سکندر عمرانی، بشریٰ رند،مبین خلجی،ترجمان حکومت بلوچستان لیاقت شاہوانی،ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات عبدالرحمن بزدار،سیکرٹری مائنز اینڈ منرلز زاہد سلیم سمیت دیگر بھی موجود تھے۔
وزیراعلیٰ جام کمال خان نے کہا کہ بلوچستان کابینہ سے مائنز اینڈ منرلز پالیسی کی منظوری کے بعد پالیسی پرمختلف اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا گیا بلوچستان میں مختلف اقسام کے منرلز موجود ہیں لیکن پالیسی فرسودہ ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاروں اور مائنرز کو مشکلات کا سامنا تھا مائنز اینڈ منرلز کا شعبہ بلوچستان کا اہم ترین شعبہ ہے جس سے صوبے کو وافر آمدن حاصل ہوسکتی ہے۔
لیکن ماضی میں اس پر توجہ نہیں دی گئی صوبائی حکومت نے اس شعبے کو بہتر کر نے کے لئے اقدامات کر نے کاآغاز کیا ہے جس کا پہلا قدم نئی مائنز اینڈ منرلز ڈوپلمنٹ پالیسی ہے انہوں نے کہا کہ جب اداروں کو بہتر نہیں کیا جاتا تو اداروں کی کارکردگی نیچے کی طرف جاتی ہے ادارے حکومت کو کما کر نہیں دے پاتے اگر ادارے ریونیو حاصل نہ کریں تو حکومت چل نہیں سکتی نہ پی ایس ڈی پی نہ ہی ترقیاتی کام ہو سکتے ہیں اداروں سے آمدن حاصل کرنے کے لئے انکی بہتری انتہائی ضروری ہے صوبائی حکومت اداروں کی بہتری اور ان میں ڈسپلن لانے کے لئے کارفرما ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی علاقے میں جانے سے قبل سرمایہ کار وہاں کی پالیسی دیکھتے ہیں بلوچستان میں پالیسیاں پرانی ہونے کی وجہ سے یہاں سرمایہ کار نہیں آرہے تھے لیکن نئی منرل پالیسی کے سرمایہ کاری پر مثبت اثرات مرتب ہونگے اس پالیسی کو سرمایہ کار دوست بنایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ چھوٹی سطح کی مائنگ سے 5ارب روپے ریونیو حاصل کر نے کا کام مشکل ضرور ہے لیکن امید ہے۔
ہم اسے حاصل کرنے میں کامیاب ہونگے صوبائی حکومت ریونیو دینے والے اداروں کے لئے ایسی پالیسی مرتب کرنا چاہتی ہے کہ جو ادارے حکومت کو کما کر دیں انکی کمائی کا کچھ حصہ ان اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لئے بھی استعمال ہو سکے انہوں نے کہا کہ ہم اداروں کے موجودہ انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنا نے کے لئے کوشاں ہیں،اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری مائنز اینڈ منرلز زاہد سلیم نے کہا کہ بلوچستان میں محکمہ مائنز اینڈ منرل کا قیام 2002میں عمل میں لایا گیا۔
اس سے قبل صوبے میں 1923،1948،1967،1970،1973،1978کے قوانین رائج رہے جبکہ 2002میں بلوچستان منرل رولز بنائے گئے جن میں دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی تبدیلی نہیں کی گئی بلوچستان مائنز اینڈ منرل پالیسی 2019صوبے میں اقتصادی ترقی، منرل ڈوپلمنٹ، سمیت دیگر شعبوں کو مد نظر رکھ کر بنائی گئی ہے پالیسی بنا نے میں تمام اسٹیک ہو لڈرز کو اعتماد میں لیا گیا جبکہ محکمہ مائنز اینڈ منرلز میں شفافیت اور برق رفتاری لانے کے لئے محکمے کی موبائل ایپ بھی بنائی گئی ہے جس کے تحت راہداریوں سمیت دیگر اہم امور آن لائن سرانجام دئیے جائیں گے۔
ایسا کرنے سے محکمے میں شفافیت اور ریونیو میں اضافہ ہوگا انہوں نے بتایا کہ محکمہ مائنز اینڈ منرلز نے 2.4ارب روپے کے ریونیو ہدف کو عبور کرتے ہوئے 2.79ارب روپے ریونیو حاصل کیا امید ہے کہ ہم 5ارب روپے کا ہدف بھی حاصل کریں گے اس موقع پر انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستا ن کو بلوچستان مائنز اینڈ منرلز پالیسی 2019حوالے کی جبکہ وزیراعلیٰ نے محکمہ مائنز اینڈ منرلز میں احسن کارکردگی دیکھانے والے افسران میں اسناد تقسیم کیں دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اجلاس میں ایمرجنسی ریسکیو سروس 1122 کے قیام سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔
جو پبلک پرائمری ہیلتھ انیشیٹیو(پی پی ایچ آئی) کے زیرانتظام قائم کی جارہی ہے، اس منصوبے کی لاگت کا تخمینہ ساڑھے تین ارب روپے ہے جس کے تحت بلوچستان کی آٹھ قومی شاہراہوں پر 25ایمرجنسی سینٹر قائم کئے جائیں گے جہاں ڈاکٹر طبی عملہ اور تربیت یافتہ ایمرجنسی عملہ تعینات ہوگا، صوبائی وزراء میر نصیب اللہ مری، میر ظہور احمد بلیدی، سیکریٹری صحت، سیکریٹری قانون اور سیکریٹری خزانہ نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
جبکہ پی پی ایچ آئی کے چیف ایگزیکٹیو عزیز احمد جمالی کی جانب سے اجلاس کو منصوبے کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی، اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ایمرجنسی سٹاف کے پہلے بیچ کی تربیت پنجاب کی ایمرجنسی سینٹر میں جاری ہے اور کنٹینرز پر مشتمل جدید ایمرجنسی سینٹرز کے قیام کا عمل جاری ہے جن میں تمام ضروری سہولیات دستیاب ہوں گی، ابتدائی طورپر ایمرجنسی سروس کے لئے 50ایمبولینس اور 25فائر بریگیڈ کی گاڑیاں خریدی جائیں گی۔
اس سال کے آخر تک ایمرجنسی سینٹرز باقاعدہ طور پر فعال کردیئے جائیں گے جہاں روڈایکسیڈنٹ اور دیگر حادثات کے زخمیوں کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرکے انہیں قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا جائے گا جس سے قیمتی انسانی جانوں کو بچانا ممکن ہوسکے گا۔ وزیراعلیٰ نے ایمرجنسی سروسز کے اس منصوبے کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ خزانہ کو منصوبے کے لئے درکار مزید فنڈز کے اجراء کی ہدایت کی۔ اجلاس میں پی پی ایچ آئی کے امور اور کارکردگی کا جائزہ بھی لیا گیا، اجلاس کو پی پی ایچ آئی کی کارکردگی اور مسائل سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا۔
کہ پی پی ایچ آئی کے قیام کا بنیادی مقصد بنیادی مراکز صحت کو جدید سہولتوں سے آراستہ کرتے ہوئے دیہی علاقوں کے عوام کو علاج معالجہ کی بہتر سہولتوں کی فراہمی ہے اور اس وقت صوبہ بھر میں یہ پروگرام کامیابی سے چل رہا ہے، تاہم گذشتہ دور حکومت میں بنیادی مراکز صحت کے بارہ سو کنٹریکٹ ملازمین کی اسامیوں پر مستقل طور پر بھرتی کے باعث پی پی ایچ آئی کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے اس موقع پر وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم کو ان بھرتیوں کے عمل کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے پٹ فیڈر کینال میں کشمور اور سندھ کے دیگر علاقوں کا ڈرینیج کا پانی شامل کرنے کے خدشات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پی پی ایچ آئی کو دریائے سندھ اور پٹ فیڈر کے پانی کے نمونے حاصل کرکے ان کے ٹیسٹ کرانے اور باقاعدہ طور پر اس عمل کی سٹڈی رپورٹ کی تیاری کا ٹاسک سونپتے ہوئے کہا کہ پٹ فیڈر میں سندھ کے علاقوں سے ڈرینیج کا پانی شامل کیا جانے انتہائی خطرناک ہے۔
جس سے نصیرآباد ڈویژن میں ہیپاٹائٹس سمیت دیگر وبائی امراض میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ بڑی مقدار میں ڈرینیج پانی کی شمولیت سے بلوچستان کو دریائے سندھ سے اس کے حصے کا پورا صاف پانی بھی نہیں مل رہا، اجلاس میں پی پی ایچ آئی کی کارکردگی کی مانیٹرنگ کے نظام کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا۔