کوئٹہ: کچلاک کی ایک مسجد میں بم دھماکے کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق اور23افراد زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق کوئٹہ سے تقریباً بیس کلومیٹر دور کچلاک کے علاقے کلی قاسم خان میں واقع ایک مسجد میں دھماکا ہوا۔ کچلاک پولیس کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ شفقت جنجوعہ نے بتایا کہ دھماکا جمعہ کی نماز سے نصف گھنٹے قبل 2بجکر 40منٹ پر اس وقت ہوا جب امام مسجد خطاب کررہے تھے۔
مسجد میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور مزید لوگ نماز پڑھنے آرہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکا مسجد کی منبر میں نصب کئے گئے بم کے ذریعے کیا گیا جس سے مسجد کا منبر اور اس کے قریب والا حصہ تباہ ہوگیا جبکہ دھماکے کی شدت سے مسجد اور اس سے ملحقہ مدرسہ کے دروازے اور کھڑکیاں اکھڑ گئیں اور اس کے شیشے ٹوٹ گئے۔ پولیس نے تصدیق کی ہے۔
کہ دھماکے میں چار افراد جاں بحق اور23زخمی ہوئے جن میں سے چار لاشوں اور22زخمیوں کو سول ہسپتال اورایک زخمی کو بولان میڈیکل ہسپتال پہنچایا گیا۔ سول ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق دھماکے کے فوری بعد سول ہسپتال کے شعبہ حادثات اور ٹراما سینٹر میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد دی گئی اور انہیں ٹراما سینٹر منتقل کردیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے22زخمیوں کو سول ہسپتال لایا گیا جن میں سے سات کی حالت تشویشناک ہے۔ ترجمان کے مطابق دھماکے میں جاں بحق افراد کی شناخت حافظ احمد اللہ ولد مولوی محمد خا ن نورزئی، رحیم گل ولد محمد علی نورزئی، حاجی محمد سرور ولد فضل محمدبادیزئی اورمحمد خان ولد حبیب اللہ کے نام سے ہوئی۔ ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کا کہنا ہے کہ یہ مسجد اور مدرسہ ایک بلوچ معزز عالم الحاج محمد حسنی کی ملکیت تھے وہی اس مدرسے کے مہتمم بھی تھے وہ خود ان دنوں حج کرنے گئے ہیں اس لئے ان کے بیٹے مدرسے اور مسجد کے معاملات کو دیکھ رہے تھے۔
دھماکے میں مرنے والوں کی شناخت سے متعلق ڈی آئی جی عبدالرزاق چیمہ نے بتایا کہ مرنے والے سبھی افراد مقامی ہیں ان کی لاشیں وصول کرنے والے بھی مقامی لوگ ہی آئے تھے۔
جبکہ زخمیوں کی شناخت عزت اللہ ولد حاجی گل محمد، حاجی مراد ولد دولت خان، محمد قسیم ولد حاجی حیدر، قدرت اللہ ولد گل محمد، حکمت ولد گل محمد، حاجی ندا ولد شن گل، وحید اللہ ولد احمد اللہ، حاجی اکبر ولد عبدالرحمان، عبدالجبار ولد محمد گل، عبدالحکیم ولد محمد خان، آغا محمد ولد عبدالکریم، صدیق ولد عبدالرزاق، عبدالرحمان ولد عبداللہ، عزت اللہ ولد عبداللہ، حیات اللہ ولد عبدالباقی، دھیان ولد سفر خان، رحٰم الدین ولد عبدالکریم، سعدالدین ولد محمد سعید، حاجی غلام سرور ولد محمد صدیق، رحمت اللہ ولد عبداللہ جان، عنایت اللہ ولد احمد خان اور محمد عیسیٰ کے نام سے ہوئی ہے۔
دھماکے کے فوری بعد پولیس، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس، سپیشل برانچ، کرائم برانچ، سی ٹی ڈی اور سیکورٹی اداروں کے تفتیشی ٹیموں نے بھی موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کئے۔ایک عینی شاہد حیات اللہ نے بتایاکہ وہ دھماکے کے وقت مسجد سے ملحقہ مدرسے کی نچلی منزل میں سورہا تھا اچانک زوردار دھماکا ہوا اورکوئی چیز آکر انہیں لگی۔
ہر طرف دھواں تھا ہم نے باہر جاکر دیکھا تو مسجد میں بڑی تعداد میں زخمی پڑے ہوئے تھے۔مدرسے میں پڑھنے والے میرے دو چچا زاد بھائی بھی زخمی ہوئے ‘۔ ایک اور عینی شاہد محمد الیس نے بتایا کہ وہ مین گیٹ سے داخل ہورہے تھے تب زوردار دھماکا ہوا۔ ‘دھماکے کی آواز سے میرے کان بند ہوگئے۔لوگ ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ہم بھی بھاگ گئے اور چار پانچ منٹ بعد آکر زخمیوں کو اٹھاکر نجی گاڑیوں میں ڈالا اور سول ہسپتال تک پہنچایا۔
انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے وقت مسجد میں پولیس موجود نہیں تھی۔صوبائی مشیر برائے ایکسائز و ٹیکسیشن ملک نعیم بازئی اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے دھماکے کی جگہ کا دورہ کیا۔ ڈی آئی جی پولیس عبدالرزاق چیمہ نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ دھماکے میں چار افراد کی موت ہوئی۔23افراد زخمی ہوئے جن میں سے چار کی حالت تشویشناک ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ دھماکا مسجد کے منبر میں ہوا جہاں سے ہمیں ٹائم ڈیوائس بم کے شواہد ملے ہیں۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کی رپورٹ کے مطابق بم دو سے تین کلو گرام وزنی تھا۔ڈی آئی جی پولیس کے مطابق باقی تحقیقات بعد میں ہوگی کہ دھماکے کا ہدف کون تھا اور اس میں کون لوگ ملوث ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’اس مسجد کی حفاظت کا کام پولیس اور مسجد کی انتظامیہ ملکر انجام دیتی تھے مسجد کے انتظامیہ کے بڑے تربیت یافتہ رضاکار تھے ہمارا بھی ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر اور دو پولیس سپاہی وہاں موجود تھے ہم ایک انڈرسٹینڈنگ کے تحت ملکر کام کرتے تھے۔