|

وقتِ اشاعت :   August 19 – 2019

کوئٹہ: صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہاہے کہ خضدار کے علاقے زہری میں سیاسی وقبائلی شخصیت ودیگر کے قتل کا واقعہ قبائلی تنازعہ کاشاخسانہ ہے،مدعی کی جانب سے جن افراد کے خلاف مقدمہ کی اندراج کیلئے درخواست دی گئی تھی ان سب کے خلاف ایف آئی آر چاق کی گئی ہے،نامزد افراد 2دن کے اندر خود کو قانون کے حوالے کرے بصورت دیگر ان کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے سول سیکرٹریٹ کوئٹہ میں ترجمان حکومت بلوچستان لیاقت شاہوانی،انسپکٹرجنرل پولیس محسن حسن بٹ ودیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ میر ضیاء اللہ لانگو کاکہناتھاکہ گزشتہ روز خضدار کے علاقے زہری میں قبائلی شخصیت امان اللہ زرک زئی ان کے نواسے اور محافظین کو قتل کیاگیا مذکورہ واقعہ قبائلی تنازعہ کاشاخسانہ ہے۔

تاہم پہلی دفعہ ان تمام ملزمان کے خلاف مقدمہ چاق کیاگیاہے جنہیں مدعی کی جانب سے نامزد کیا گیاہے ہم مقدمہ میں نامزد تمام 10افراد کو 2دن کے اندر خود کو قانون کے حوالے کرنے کاکہتے ہیں بصورت دیگر ان کے خلاف قانون نافذ کرنے والے ادارے کارروائی کرینگے،،انہوں نے کہاکہ ہمارا قبائلی معاشرہ ہے نہیں چاہتے کہ چادر اور چار دیواری کی تقدس پامال ہوانہوں نے کہا کہ قبائلی تنازعات کی وجہ سے بلوچستان پسماندگی کا شکار ہے بلوچستان حکومت متاثرہ خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہے متاثرہ خاندان نے 10افراد کو نامزد کیا ہے۔

کمشنر قلات کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ دو دن انتظار کر ے کہ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان خود کو قانون کے حوالے کرے اگر نامزد ملزمان گرفتار ی نہیں دینا چاہتے تو پھر ہم خود ان کوگرفتار کرینگے بے گناہ اور نہتے لوگوں کا خون مزید بہانے کی اجازت کسی کو نہیں دینگے انہوں نے کہا کہ سیاسی وقبائلی رہنما میر امان اللہ زہری نے سیکورٹی کی حوالے سے کوئی درخواست نہیں دی۔

اگر سیکورٹی کے حوالے سے درخواست دیتے تو ہم ان کو سیکورٹی فراہم کردیتے انہو ں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت ملوث رہا ہے سیکورٹی فورسز نے امن و امان کی صورتحال کافی بہتر بنائی ہے۔

بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں سیف سٹی پروجیکٹ جلد مکمل کر لیا جائے گا دو دہائیوں سے دہشتگردی کے واقعات رونما ہورہے ہیں ان واقعات کی روک تھام کیلئے حکومت اپنا کردار ادا کررہے ہیں ماضی کے مقابلے میں دہشتگردی کے واقعات میں کمی ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ کچلاک واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہے اور مسجد کے چوکیدار کی گرفتاری کے حوالے سے خبر بے بنیاد ہے اور اس خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے۔