|

وقتِ اشاعت :   August 23 – 2019

کوئٹہ: انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے2018ء میں انسانی حقوق کی ملکی صورتحال سے متعلق 341صفحات پر مشتمل کمیشن کی رپورٹ جاری کردی۔ رپورٹ کے مطابق2018ء میں انسانی حقوق کے معاملات التواء کا شکار رہے۔ مستونگ اور کوئٹہ میں ہونے والے واقعات میں 180افراد ہلاک، صوبے میں فرقہ وارانہ تشدد میں شیعہ ہزارہ برادری کو نشانہ بنایاگیا۔

صوبے میں پیش آنیوالے تین بڑے حادثات میں 57کان کن ہلاک ہوئے ہیں۔غذائیت کی کمی صوبے کے بچوں کی صحت کے لئے اب بھی ایک سنگین خطرہ ہے،رپورٹ کے مطابق 250 سے زائد نچلی، خصوصی اور اعلیٰ عدالتوں میں 19 لاکھ مقدمات زیر التواء رہے ہیں۔

ایک سال کے دوران خواتین کیخلاف جنسی تشدد کے 845 غیرت کے نام پر 316 واقعات رونماپہلے چھ ماہ کے دوران لڑکوں کیساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں 47 فیصد5 سال تک کی عمر کے بچوں کیساتھ75 فیصد اضافہ ہوا۔ 2018ء میں کل 13584افغان رجسٹرڈ مہاجرین اپنے ملک لوٹ گئے یہ تعداد2017ء سے کافی کم ہے۔

رپورٹ میں قانون کی حکمرانی، قانون کے نفاذ، بنیادی آزادیاں، فروغ جمہوریت، محروم طبقات کے حقوق، سماجی اور معاشی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لیکر تنظیم نے اپنی سفارشات مرتب کرکے ایک سال کے دوران سامنے آنے والے رجحانات کی عکاسی کی ہے۔ جمعرات کے روز آئی اے رحمان، حارث خلیق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے2018ء کی رپورٹ جاری کی اس موقع پر حسن نقی، حبیب طاہر،ظہور شاہوانی ایڈووکیٹ ودیگر بھی موجود تھے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی اے رحمان اور حارث خلیق نے کہا کہ ایچ آر سی پی نے اپنی سالانہ رپورٹ انسانی حقوق کی صورتحال2018ء کی صوبائی تقریب رونمائی کے موقع پر اس بات کانوٹس لیا ہے کہ عام انتخابات کے برس اگر انسانی حقوق کے معاملات پر پیش رفت اور ان کے تحفظ کو مکمل طورپر پس پشت نہیں ڈالاگیا تاہم انہیں تعطل کا شکار ضرور کیاگیا انتخابات بذات خود قبل از انتخابات ہونے والی ساز باز اور ووٹوں کی دھاندلی جیسے الزامات جن کا مکمل ازالہ نہیں ہوسکا۔

نیز تشدد کے بعض خوفناک واقعات کی لیپٹ میں رہے خاص طورپر مستونگ اور کوئٹہ میں ہونے والے واقعات میں کم از کم180افراد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ رپورٹ میں یہ مشاہدہ کیاگیا کہ بلوچستان میں فرقہ وارانہ تشدد میں شیعہ ہزارہ برادری کو نشانہ بنایاگیا یہ لوگ کوئٹہ میں ہزارہ علاقوں تک محدود ہیں ان کی نقل وحرکت کے علاوہ بازاروں اور سکولوں تک رسائی محدود ہے۔

اور ریاست نے اس حوالے سے جو اقدامات کئے ہیں وہ سیکیورٹی قافلوں کا قیام ہے جن میں برادری کے لوگوں کو لے جایاجاتاہے جب وہ ہزارہ علاقوں سے باہر نکلتے ہیں لیکن یہ اقدام ان کی سیکیورٹی کی ضمانت نہیں یہ اقدام صوبے میں جاری فرقہ وارانہ تشدد کا قلیل المدت حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ2018ء میں بلوچستان میں مبینہ طورپر ہونیوالی گمشدگیوں کے541جزوی اطلاعات سامنے آئیں اگست2018ء میں گمشدگیوں سے متعلق تحقیقاتی کمیشن نے کہا تھا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کے محض131مقدمات زیر سماعت تھے گمشدگیوں پر جامع اعدادوشمار کی کمی اس بات کی عکاسی کرتاہے۔


کہ سنگین مسئلے کا سیاسی حل تلاش کیاجائے، انہوں نے کہا کہ غذائیت کی کمی صوبے کے بچوں کی صحت کے لئے اب بھی ایک سنگین خطرہ ہے جس کا اندازہ اس بات سے ہوتاہے کہ نومبر2018ء میں صوبائی وزیر صحت نے بلوچستان میں غذائی ایمرجنسی نافذ کردی تھی اگرچہ غذائیت کی کمی پر قابوپانے کیلئے ایک نیوٹریشن سیل قائم کیاگیاہے تاہم ریاست کواس کے تحفظ کے حوالے سے اقدامات کو ترجیح دینا ہوگی اوران میں استحکام لانا ہوگا۔

بلوچستان میں کانوں کے حادثات میں خطرناک اضافے کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ صرف2018ء میں کم از کم تین بڑے حادثات ریکارڈ کئے گئے ہیں جن میں کم از کم57کان کن ہلاک ہوئے رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ستمبر میں سپریم کورٹ نے بلوچستان حکومت کوایک پٹیشن کا جواب جمع کرانے کو کہاتھا اس پٹیشن میں 2010 سے اب تک300سے زائد کان کنوں کی اموات کی نشاندہی کی گئی تھی۔

اس کے باوجود بلوچستان کی کانوں میں پیشہ ورانہ صحت اور تحفظ کی نگرانی اورنفاذ کیلئے کسی قسم کے ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے۔ ایک سوال کے جواب میں آئی اے رحمان نے کہا کہ بلوچستان کے سنگین معاملات کی بڑی وجہ درست رپورٹنگ کا نہ ہونا ہے انہوں نے کہاکہ دوران کام کمیشن کو بہت سی مشکلات کا سامناکرناپڑتا ہے کمیشن کو حاصل عوامی تائید کو کم کرنے کیلئے ہمارے مخالف پروپیگنڈہ کیاجارہاہے۔

اس کے باوجود ہم کام کررہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی پارلیمان نے 2018ء میں کل 30 قوانین بنائے ہیں 2017ء میں 34 قوانین بنائے گئے تھے۔ 2000ء میں بنائے گئے آرڈیننس کی جگہ بچوں کے نظام انصاف ایکٹ2018ء منظور کیا گیا، رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت سب سے زیادہ قوانین بنانے والا صوبہ رہا ہے 2018ء کے آخر تک 250 سے زائد نچلی، خصوصی اور اعلیٰ عدالتوں میں 19 لاکھ مقدمات زیر التواء رہے ہیں۔رپورٹ میں آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلہ کو خوش آئندہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا۔

کہ فیصلہ سے یہ بات ثابت ہوئی کہ قانو ن کی حکمرانی ایک بے گناہ فرد کے تحفظ کی اہلیت رکھتی ہے۔ رپورٹ میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی نظام ہائے کار پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں 2018ء کے دوران خواتین کے جنسی تشدد کے 845 واقعات پیش آئے غیرت کے نام پر 316 واقعات رونما ہوئے ہیں۔

2017ء کی نسبت 2018ء کے پہلے چھ ماہ کے دوران 32 فیصد لڑکوں کیساتھ ہوبنے والے جنسی زیادتی کے واقعات میں 47 فیصد اضافہ ہوا5 سال تک کی عمر کے بچوں کیساتھ رونما ہونے والے جنسی زیادتی کے واقعات میں 75 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ قانون سازی کے باوجود خواجہ سراہ برادری کے خلاف تشدد جاری رہا اور پاکستان بھر میں سائبر کرائم اور آن لائن ہراسمنٹ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

ر پورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی رکھے گئے ہیں جن کا تناسب 57 فیصد ہے۔سال2018ء میں ای سی ایل کے بے جا اور من مانا استعمال خبروں کی زینت بنا رہا، سیاسی احتجاجی ریلیوں میں شرکت کرنے والوں پر نقل و حمل کی پابندی عائد کی گئی، مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد میں کوئی نمایاں کمی واقع نہیں ہوئی2018ء میں بھی ان کی املاک پر حملوں کی اطلاع موصول ہوتی رہی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عام انتخابات کے دنوں میں تقریر اور اظہار رائے پر پابندی بے مثال سطح پر پہنچ گئی میڈیا کوریج میں رکاوٹیں پیدا کی گئیں۔رپورٹ کے مطابق اجتماع کی آزادی، انجمن سازی کی آزادی، سیاسی عمل میں شرکت کی صورتحال مخدوش رہی۔

صنفی عدم مساوات کے عالمی گوشوارے2018ء کے مطابق خواتین کے خلاف تشدد اور غیر قانونی سرگرمیاں نہ صرف جاری رہیں بلکہ ان میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹ کے مطابق2018ء میں کل 13584افغان رجسٹرڈ مہاجرین اپنے ملک لوٹ گئے ہیں یہ تعداد2017ء سے کافی کم ہے۔رپورٹ کے مطابق اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد22.63 ملین سے بڑھ کر22.84 ملین ہوگئی۔ رپورٹ کے مطابق صحت کے شعبے میں جی ڈی پی کا ایک فیصد بھی خرچ نہیں کیا جارہا،ملک میں 70 لاکھ سے ایک کروڑ گھروں کی قلت ہے۔