|

وقتِ اشاعت :   August 24 – 2019

گوادر: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ گوادر میں جب بھی کسی نئے منصوبے کاآغاز ہوتا ہے تو اس کا ایک مثبت اثر دیکھنے کو ملتا ہے، اوراسے ہر جگہ محسوس کیا جاتا ہے۔

دیگر ترقیاتی منصوبوں کی طرح گوادر 3منصوبے کے تحت ایک ایسی عمارت کا قیام جو مکمل طور پر توانائی کے متبادل ذریعہ گرین انرجی پر مشتمل ہوگی ایک انتہائی اہم پیشرفت ہے، گوادر کے ماسٹر پلان کو بھی حتمی شکل دی جارہی ہے جس کا ایک مثبت پیغام ہر طرف جائے گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوادر 3منصوبے کے تحت گرین انرجی کے تصور کے مطابق عمات کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تقریب میں وفاقی وزیر محترمہ زبیدہ جلال، صوبائی وزراء میر ظہور احمد بلیدی، زمرک خان اچکزئی، محمد سلیم کھوسہ، نورمحمد دمڑ، چیف سیکریٹری بلوچستان ڈاکٹر اختر نذیر اور دیگر حکام بھی موجودتھے،وزیراعلیٰ نے کہا کہ گوادر ابھرتا ہوا ایک نیا شہر ہے جو دنیا کے نئے تقاضوں کو پورا کرے گا، گوادر کی ترقی کے نئے منصوبے سرمایہ کاروں کی توجہ بھی حاصل کریں گے، 2019ء گوادر کی ترقی کے لئے اہم سال ثابت ہوگا، گوادر نیوایئرپورٹ، ایسٹ بے ایکسپریس وے کی توسیع، گوادر ماسٹر پلان اور وفاقی اور صوبائی پی ایس ڈی پی میں شامل گوادر کی ترقی کے دیگر منصوبوں پر عملدرآمد کے آغاز سے گوادر کی مجموعی ترقی کا عمل کو تیزہوگا۔

انہوں نے کہاکہ ہماری دعا ہے کہ یہ تمام منصوبے گوادر کی ترقی کی بنیاد بنیں اور اس شہر کو آگے لے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت سرمایہ کاری کے حوالے سے نجی شعبہ کو بھرور تعاون فراہم کرے گی، ہم اصلاحات لانے کی کوشش کررہے ہیں ہم گوادر کے اندر ایک ایسا گورننس کا نظام لارہے ہیں جس کے تحت ون ونڈو آپریشن کے ذریعہ سرمایہ کاروں کو تمام سہولیات ایک جگہ مل سکیں۔

اور سرمایہ کاروں کو چھوٹے چھوٹے مسائل کے حل کے لئے پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، انہوں نے کہا کہ ہم سرکاری محکموں او رسرکاری ملازمین کی استعداد کار میں اضافہ کررہے ہیں کیونکہ جب تک ہم اپنے محکموں کو بہتری کی جانب نہیں لے جائیں گے ہم کبھی بھی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ گوادر سمارٹ سٹی کے تصور کو عملی جامہ پہنانے اور اس حوالے سے تمام تقاضوں کو پورا کیا جارہا ہے۔

گوادر کو جلد اسپیشل اکنامک ضلع کا درجہ مل رہا ہے، گوادر کے پانی کے مسئلے کے حل کی جانب بھی ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں، اور گوادر میں شجر کاری میں بھی اضافہ کیا جائے گا، گوادرمیں یونیورسٹی کا سب کیمپس بھی بن رہا ہے جہاں گوادر 3کے تحت گرین انرجی کے تصور کو عملی جامہ پہنایا جاسکتا ہے، قبل ازیں وزیراعلیٰ نے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے پونے چار ارب روپے کی لاگت سے سوڑ ڈیم تا گوادر پانی کی پائپ لائن کی تنصیب کے منصوبے کا افتتاح کردیا۔

جس کے ذریعہ گوادر شہر کو سوڑ ڈیم سے روزانہ پچاس لاکھ گیلن پانی فراہم ہوگا، وزیراعلیٰ نے گوادر میں جی ڈی اے کے تحت تعمیر ہونے والی کثیر لاگت کی مختلف سڑکوں اور گوادر ڈگری کالج کے ایڈمن بلاک کا بھی افتتاح کیا، افتتاحی تقریب میں وفاقی وزیر محترمہ زبیدہ جلال، صوبائی وزراء میر ظہور احمد بلیدی، زمرک خان اچکزئی، محمد سلیم کھوسہ، نورمحمد دمڑ، چیف سیکریٹری بلوچستان ڈاکٹر اختر نذیر اور دیگر حکام بھی موجو دتھے۔

وزیراعلیٰ نے شینزنی ڈیم کے منصوبے کا سنگ بنیاد بھی رکھا جس پر لاگت کا تخمینہ پچاس کروڑ روپے ہے اور یہ ڈیم عرصہ دو سال میں مکمل ہوگا، اس ڈیم میں تقریباً سولہ ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جاسکے گا اور تقریباً پانچ ہزار ایکڑ فٹ پانی زراعت کے لئے استعمال میں لایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گوادر کی ترقی کے منصوبوں خاص طور پر فراہمی آب کی اسکیموں کی تکمیل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے گوادر کی مجموعی ترقی کے لئے سنگ میل قراردیا۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پائپ لائن کے ذریعہ گوادر کو پانی کی فراہمی سے مقامی لوگوں کو ریلیف ملے گا اور پانی کی کمی کے بحران کا خاتمہ ہوگا، وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ سڑکوں کی تعمیر سے ضلع گوادر کے دوردراز اور شہری علاقوں سے کٹی ہوئی آبادیوں کو آمدورفت کی بہتر سہولیات ملیں گی، وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ زیرتعمیر شادی کور ڈیم سے پائپ لائن کے ذریعہ گوادر کو پانی کی فراہمی کے منصوبے کو بھی جلد از جلد مکمل کیا جائے۔


تاکہ گوادر کی ضرورت کے مطابق پانی دستیاب ہوسکے اور ٹینکروں کے ذریعہ پانی کی فراہمی پر اٹھنے والے کثیر اخراجات کی بچت ہوسکے، واضح رہے کہ موجودہ دور حکومت میں سو کروڑ ر وپے کی لاگت سے سوڑ ڈیم مکمل کیا گیا ہے جس سے پائپ لائن کے ذریعہ گوادر کو پانی کی فراہمی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ دریں اثناء چیئرمین گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی گورننگ باڈی وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت گورننگ باڈی کا اجلاس جمعہ کے روز یہاں منعقد ہو۔

گورننگ باڈی کے اراکین رکن قومی اسمبلی محمد اسلم بھوتانی، رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی، صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی، چیف سیکریٹری بلوچستان ڈاکٹر اختر نذیر سمیت دیگر حکام اجلاس میں شریک تھے جبکہ ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے شاہ زیب کاکڑ نے اجلاس کو گورننگ باڈی کے ایجنڈے کے حوالے سے بریفنگ دی جس میں سرفہرست گوادر ماسٹر پلان کا تفصیلی جائزہ لیناتھا، اجلاس میں گوادر کے مجوزہ ماسٹر پلان پر تفصیلی غوروخوض کیا گیا۔

اور اس امر سے اتفاق کیا گیا کہ ماسٹر پلان کا سب سے زیادہ فائدہ مقامی آبادی کو ملنا چاہئے، اجلاس میں اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ ماسٹر پلان میں مقامی آبادی کے مفادات کو مکمل تحفظ دیا گیا ہے۔

گوادر کی پرانی آبادی موجودہ جگہ پر ہی رہے گی اور ماہی گیروں کے روزگار اور ماہی گیری کی صنعت کو بھی تحفظ حاصل رہے گا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جلد ماسٹر پلان کی منظوری دے دی جائے گی جس سے گوادر میں جاری صنعتی، تجارتی اور ہاؤسنگ سمیت دیگر ترقیاتی اور سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، اجلاس میں گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بعض دیگر انتظامی امور کی منظوری بھی دی گئی۔