کوئٹہ: سینئرصحافی رہنماؤں نے شہیدصحافیوں کے ورثاء سے حکومتی وعدوں پرعملدرآمدنہ ہونے پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت شہیدصحافیوں کے قاتلوں کی گرفتاری کویقینی بناتے ہوئے شہداء کے ورثاء کوروزگاراوراعلان کردہ مالی معاونت فراہم کرتے ہوئے۔
ان کے بچوں کیلئے مفت تعلیم کابندوبست کرے۔ان خیالات کااظہار بی یوجے کے زیراہتمام کوئٹہ پریس کلب میں شہداء صحافت کے دن کے موقع پرمنعقدہ تعزیتی ریفرنس سے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدرایوب ترین، فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سینئرنائب صدرسلیم شاہد،کوئٹہ پریس کلب کے صدررضاالرحمن،سینئرصحافی سیدعلی شاہ اوربی یوجے کے جنرل سیکریٹری رشید بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر شہیداعجاز رئیسانی کے والد،شہیدارشاد مستوئی کے بھانجے عابدمیر،شہیدعبدالرسول کے بھائی حبیب اللہ،ڈاکٹرلعل خان ودیگرنے بھی تعزیتی ریفرنس سے خطاب کیا۔تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی رہنماؤں نے شہداء صحافت کوانکی لازوال قربانیوں پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ معاوضوں کی ادائیگی یقیناًانسانی جانوں کانعم البدل نہیں تاہم حکومت وقت کی آئینی ذمہ داری ہے۔
کہ شہداء کے لواحقین سے اظہاریکجہتی کرتے ہوئے ان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ان سے کئے گئے وعدوں کوعملی جامہ پہنائے، انہوں نے کہا کہ کوئٹہ پریس کلب اوربلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے اداروں سے آج تک جتنا بن سکا شہداء کے خاندانوں کی ہرممکن معاونت کی ہے اورآئندہ بھی انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے کیونکہ اس شعبے سے منسلک تمام صحافی ایک خاندان کی مانندہیں شہداء کی جدائی کاجتنا صدمہ ان کے اہلخانہ کو ہے۔
اتنا ہی ہمیں ہے۔انہوں نے کہا کہ شہداء نے اپنی ساری زندگی اس شعبے سے منسلک ہوکر گزاری ہے حکمرانوں کوچاہئے کہ وہ ان شہداء کے پسماندگان سے اظہا ریکجہتی کے طورپران سے مل کران کے مسائل کے تدارک کیلئے بروقت عملی اقدامات اٹھائے،حکومتوں نے سانحہ 8اگست میں شہیدہونے والے صحافیوں کے ورثاء کو روزگار فراہم کرنے کاوعدہ کیاتھاانہیں روزگار توفراہم کیا۔
لیکن اب تک انہیں مستقل نہیں کیاگیاہے،شہداء کے بچے تعلیم کے حصول کیلئے سرگرداں ہیں ان کیلئے مفت تعلیم کابندوبست کرنا حکومت وقت اورریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہاکہ صحافیوں کیلئے زیرالتواء ہاؤسنگ اسکیم کی منظوری ہوتے ہی شہید صحافیوں کے اہلخانہ کوبھی گھر فراہم کئے جائیں گے۔ شہید کے اہلخانہ کی مالی معاونت کیلئے کوئٹہ پریس کلب نے شہدا ٹرسٹ قائم کیا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیاکہ شہداء کے پسماندگا ن کے مسائل کاحل کوئٹہ پریس کلب اوربلوچستان یونین جرنلسٹس کی اولین ترجیح ہے اورہرسال یوم شہداء پرتعزیتی ریفرنس منعقد کرنے کامقصد شہدا صحافت کو انکی عظیم قربانیوں پر انہیں خراج عقیدت پیش کرکے ان کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے انہیں برور کرنا ہے کہ ہم اپنے شہید ساتھیوں کو نہیں بھولے۔
اس موقع پر شہید اعجاز رئیسانی کے والد نے کہا کہ شہید اعجاز رئیسانی میرا سہارا تھا آج اس کے اپنے بچوں کے پاس ا سکول کی کتابیں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں شدید مالی مشکلات درپیش ہیں اس ضمن میں اقدامات اٹھائے جائیں۔ تعزیتی ریفرنس کے اختتام پر شہداء کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔