|

وقتِ اشاعت :   December 5 – 2019

اسلام آباد: بلوچستان کے ضلع آواران میں 4خواتین کے خلاف دہشتگردی کے مقدمات اور شمالی وزیرستان کے ضلع حمزونی میں ایک نوجوان کی شہادت کے معاملے کو تحقیقات کیلئے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بھجوایا گیا ہے۔تحریک انصاف کے رکن اسمبلی سیف الرحمان نے راؤ انوار کے جرائم کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

بدھ کے روز قومی اسمبلی اجلاس کے دوران تحریک انصاف کے رکن اسمبلی سیف الرحمان نے کہا کہ کراچی میں شہید کئے جانے والے نقیب اللہ محسود کا قاتل راؤ انوار آج بھی آزاد ہے اور اس کو اپنا بچہ کہنے والے آج بھی اس کی حمایت کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ راؤ انوار کے ریکارڈ پر444جعلی مقابلے ہیں مگر آج تک کسی نے بھی اس سے پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کی ہے اور پاکستان خصوصاً کراچی کے نوجوانوں کا قتل عام کرتا رہا اور دہشتگرد بنا رہا۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی3کمیٹیاں یہ کہہ چکی ہیں کہ راؤ انوار قاتل ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات چیئرمین قائمہ کمیٹی آغا حسن بلوچ نے قومی اسمبلی اجلاس میں توجہ دلاؤ نوٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ آواران سے چار بلوچ خواتین کو غیر آئینی‘ غیر قانونی طریقے سے گرفتار کر کے کچھ دن لاپتہ کرنے کے بعد جعلی کیس بنا کر جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی ہے آواران بلوچستان کے وہ علاقہ ہے جہاں انسرجنسی ہے غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے باعزت بلوچ خواتین کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنا انسانی حقوق کی پامالی ہے۔

بلوچستان میں چار آپریشن ہو چکے ہیں مگر خواتین کے عزت نفس کو ملحوظ خاطر رکھ گیا ہے مگر گزشتہ دنوں ہونے والا واقعہ انتہائی شرمناک عمل ہے اس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں نوابزادہ شازین بگٹی نے جس انداز بلوچستان کی مخدوش صورتحال‘ پسماندگی پر بحث کی اور بلوچ آئی ڈی پیز کا ذکر کیا وہ بلکہ درست ہے آج بلوچستان کے حالات انتہائی مخدوش ہو چکے ہیں جس کے ذمہ دار جنرل مشرف ہیں جس نے بلوچستان کو اس نہج پر پہنچایا آج بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انسانی حقوق کی پامالی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ آواران میں اگر کوئی انتہاء پسندی میں ملوث ہے اس کے خلاف مقدمہ قائم کریں مگر آج بلوچستان کے روایات کو پامالی کیا گیا ڈپٹی اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ کا بھی تعلق بلوچستان سے ہے آپ بھی بلوچستان کے حالات سے بخوبی واقف ہیں آج بلوچستان میں جس طرح انسانی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے اس کی مثال کبھی نہیں ملی بلوچ خواتین کو پابند سلاسل بنایا گیا انہیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ محمد علی خان بھی آج یہاں موجود ہیں وہ بتائیں کہ بلوچستان کے حالات کی بہتری کیلئے کیا اقدامات کئے جائیں ہم نے موجودہ حکومت کا ساتھ اس لئے دیا کہ بلوچستان کے حالات بہتر ہیں لاپتہ افراد بازیاب ہوں مگر آج خواتین کے ساتھ جو روایہ رکھا گیا ہے۔

احتجاجاً آج ڈائس کے سامنے زمین پر بیٹھ کر احتجاج کریں گے اور جب تک جعلی مقدمہ واپس نہیں لیا جاتا ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اسی اثناء اراکین قومی اسمبلی آغا حسن بلوچ‘ حاجی ہاشم نوتیزئی‘ ڈاکٹر شہناز بلوچ‘ پیپلز پارٹی کی ایم این اے منور تالپور‘ پی ٹی ایم کے علی وزیر خان نے ڈائس کے سامنے بیٹھ کر احتجاج ریکارڈ کرایا۔

شمالی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی محسن داؤڑ نے کہا کہ شمالی وزیرستان کی تحصیل ہمزونی میں آئی ڈی دھماکے کے بعد سیکورٹی فورسز نے گاؤں کے چند افراد کو حراست میں لے لیا تھا،جن میں سے ایک نوجوان سیکورٹی فورسز کی حراست میں جاں بحق ہوگیا،اس کی تحقیقات کی جائیں۔وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ بلوچستان اور شمالی وزیرستان کے مسئلے کو داخلہ کمیٹی کو بھیج دیا جائے جس پر ڈپٹی سپیکر نے معاملے کو تحقیقات کیلئے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بھجوا دیا ہے۔