کوئٹہ +اندرون بلوچستان: بلوچستان بھر میں بارش وبرفباری متعدد علاقوں کے زمینی رابطہ منقطع چھتیں گرنے سے خواتین و بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق متعدد زخمی ہوگئے مکران ڈویژن میں بارشوں نے تباہی مچادی گوادر میں نشیبی علاقے زیر آب آگئے متعدد مکانات مہندم سیلابی طوفان سے ماہی گیروں کی کشتیاں ٹھوٹ گئیں،رودبن پل ٹوٹنے سے تمپ کا تربت سے زمینی رابطہ منقطع، تربت میں شدید بارش، تمپ اور مند میں بارش نے تباہی مچادی، سیلابی ریلا گھروں میں داخل ہوگیا، متعدد کچے مکانات بہہ گئے،۔
تربت اور نواح میں شدید بارشوں کے بعد میرانی ڈیم میں آنے والے سیلابی ریلے اور نہنگ سمیت کیچ کور کا پانی وافر مقدار میں جمع ہوگیا صوبے بھر کے قومی شاہراؤں پر ٹریفک کی روانی معطل رہی، نشیبی علاقے زیر آب آگئے گھروں کی دیواریں اور چھتیں مہندم ہونے کی اطلاعات ہیں ماشکیل میں سینکڑوں گاڑیوں بارش میں پھنس گئیں خواتین اور بچے بے یار و مدد گار پڑھے ہیں۔
ہفتہ اور اتوار کو کوئٹہ، زیارت، قلعہ سیف اللہ، مسلم باغ، قلعہ عبداللہ، قلات، ہرنائی، پشین،مستونگ میں شدید برفباری کے باعث مختلف علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیاکوئٹہ سمیت متعدد اضلاع میں گیس غائب بجلی کی غیر علانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں سے شہری کرب میں مبتلا رہے۔وادی کوئٹہ میں ہفتہ کی شب شروع ہونے والی برفباری کا سلسلہ اتوار کے روز بھی دن بھر جاری رہا برفباری سے شہری گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے بازار اور مارکٹیں بند رہیں۔
جبکہ سڑکوں پر بھی ٹریفک کی روانی معمول سے انتہائی کم رہی۔کوئٹہ کے شہریوں نے تفرعی مقامات کا رخ کرکے عرصہ بعد ہونے والی برفباری سے خوب محضوص ہوئے شہر کے اکثر علاقوں میں گیس غائب تمام فیڈرز سے بجلی بند کردی تاہم شہری علاقوں کو وفقہ وفقہ سے بجلی فراہم کی جاتی رہی تاہم دیہی علاقوں میں 24 گھنٹے سے زائد تک بجلی بند ہے ان علاقوں میں بجلی توار کو رات گئے تک بحال نہیں ہوسکی۔
برفباری اور بارشوں سے بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقہ بوستان میں پیش آنیوالے دالخراش واقعہ میں مکان کی چھت گرنے سے دو بچے جاں بحق تین زخمی ہوگئے،برشور کے زرخصار میں مکان کی چھت گرنے سے ایک خاتون جاں بحق جبکہ دو بچے زخمی ہوگئے، ژوب کے علاقے کلی شہاب زئی میں مکان کی چھت گرنے کے نتیجے میں 3خواتین اور 3بچے جاں بحق ہوگئے لیویز نے تمام افراد کی نعشوں اور زخمیوں کو ملبے تلے سے نکال کر ہسپتال منتقل کیا۔ ممکنہ حادثات کے پیش نظر کوئٹہ زیارت روڈ لواری ٹاپ اور کچلاک میں سملی کے مقام پربند کردیا گیا۔
کوئٹہ سے زیارت، قلعہ سیف اللہ کی جانب جانے والے سیاحوں کو بھی شہر سے باہر نہ جانے دیا گیا۔ تربت میں شدید بارش، تمپ اور مند میں بارش نے تباہی مچادی، سیلابی ریلا گھروں میں داخل ہوگیا، متعدد کچے مکانات بہہ گئے،رودبن پل ٹوٹنے سے تمپ کا تربت سے زمینی رابطہ منقطع۔ تربت اور نواح میں شدید بارشوں کے بعد میرانی ڈیم میں آنے والے سیلابی ریلے اور نہنگ سمیت کیچ کور کا پانی وافر مقدار میں جمع ہوگیا۔ محکمہ ایریگیشن کے مطابق میرانی ڈیم کے اسپیل وے سے ساڑھے4پانی کا اخراج ہورہا ہے جو کہ نارمل ہے جس میں اب تک خطرے کی کوئی بات نہیں ہے۔
دوپہر تک اطلاع کے مطابق نہنگ ندی میں 3لاکھ10ہزار کیوسک پانی اور کیچ کور سے ڑیڑھ لاکھ کیوسک پانی جمع تھا جو میرانی ڈیم میں شامل ہوگیا۔تربت کے مختلف علاقوں میں ندیوں کے کنارے آباد بستیوں میں گزشتہ رات سے افواہوں کے باعث شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ مختلف مقامات پر لوگ گھروں سے باہر رہے۔ بارش کی وجہ سے سردی کی شدت میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے جبکہ اتوار کو رات گئے تک آسمان تک گہرے بادل چھائے رہے۔
ادھر تحصیل تمپ و مند میں اٹھارہ گھنٹوں کی طوفانی بارش نے تباہی مچا دی، ندی نالوں میں سیلابی منظرپیدا ہوگیا،سیلابی ریلا کئی علاقوں میں مال مویشیوں کو بہہ کر لے گیاجبکہ کئی مقامات پر کچے مکانات اور دیواریں گرنے کی اطلاعات ملی ہیں۔اطلاع کے مطابق دازن میں صحافی حاجی مسلم یعقوب کے سو فٹ کی چاردیواری بمعہ ایک مکان،تمپ میں غفار نامی شخص کے مکانات، اکبر اور علی دازنی کے گھر سمیت متعدد لوگوں کی چاردیواریاں اور کچے مکانات گرگئے ہیں۔
اسی طرح پاکستان ایران کے سرحدی علاقے اسپی کہن میں درجنوں ڈیزل سے لوڈ گاڑیاں سیلابی پانی میں پھنس گئیں، گومازی پل ٹوٹنے کے باعث تحصیل تمپ کے چھ دیہاتوں کا دیگر علاقوں سے رابطہ بھی کٹ گیا ہے، رودبن کے مقام پر نہنگ پل سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے تمپ اور مند کا زمینی رابطہ کراچی اور تربت سے مکمل منقطع ہوگیا ہے۔ گومازی، ملانٹ، دازن، میرآباد، رودبن، تمپ، کورجو، پھل آباد سمیت کئی مقامات پر طوفانی بارش سے فصلیں تباہ ہوچکی ہیں اوردرجنوں بھیڑ بکریاں اور مویشیاں سیلابی ریلہ بہا کر لے گیا ہے۔
ہفتہ و اتوار کے درمیانی شب مستونگ و گردونواح میں شدید برفباری سے عوام کی معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوگئی۔ برفباری سے لکپاس ٹنل کے مقام پر کوئٹہ تفتان اور کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر پھسلن کے باعث ٹریفک کی روانگی میں شدید خلل پڑا جبکہ بڑے گاڈیوں کی آمدو رفت مکمل طور پر بند رہی بارگ ٹاپ اور کولپور کے مقام پر پھسلن سے کوئٹہ سبی اور کوئٹہ تفتان قومی شاہرائیں ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند رہے جس سے سینکڑوں گاڈیاں پھنس گئے خواتین و بچوں سمیت مسافروں جو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کولپور اور کنڈ میسوری سے اسپلنجی جانے والے دونوں راستوں کی بندش سے اسپلنجی مرو تلخ کاوی کابو و دیگر علاقوں کا اندرون بلوچستان سے زمینی رابطہ منقطع ہوگئے مقامی انتظامیہ رابطہ سڑکوں کو کھولنے میں مصروف ہیں۔
ضلع بھر میں برفباری اور شدید سردی میں مختلف علاقوں میں گیس پریشر نہ ہونے اور بجلی کی آنکھ مچولی سے نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی بازاریں بند اور سنسان رہے۔ بلوچستان کے ضلع خضدار میں تاریخ میں پہلی مرتبہ ہلکی برف باری ہوئی،توتک،زہری،باغبانہ میں بھی برف پڑے۔ وڈھ،زہری،فیروزآباد،نال کرخ مولہ،نوغے،کپر،میں اتوار کو الصبح شروع ہونے والی بارش رات گئے تک جاری رہی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پوری ضلع میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا۔ ضلع قلات و گردونواح میں برف باری سے درختوں اور پہاڑوں نے سفید چادر اوڑ لی ہربوئی میں دو فٹ سے زیادہ برف پڑی سے ہربوئی کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
قلات شہر اور گردونواح میں سات انچ برف اور23 ملی میٹر بارش رکارڈ کیا گیا ضلع میں بجلی اور گیس غائب رہی منگچرو گردونواح میں مواصلاتی نظام درہم برہم رابطہ سڑکیں پانی میں بہہ جانے سے دیہاتوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا متعدد مقامات پرکچے مکانات کو نقصان پہنچنے اور کچے دیواریں گرنے کی اطلاعات ہے شیخڑی کشان،بلولخے اورمورگند،کوہک میں ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ،کپوتوخورد میں سوا فٹ، اسکلکو کپوتو کلاں، آخرک،کھڈی، سرخین، توک،رود،ینجو وغیرہ میں آدھ فٹ جبکہ قلات شہر اورمنگچر شہر میں 8 سینٹی میٹر برف باری ریکارڈ کی گئی۔
جبکہ پندران،شیخڑی، اسکلکو،کپوتوکلاں،کپوتو خور د،نیچارہ،امیری مل شاہوری، دشت گوراں، کوئنگ، ملکی، ملغزار میں شدید بارش ہوئی ہے قلات ومنگچرمیں گیس کی مکمل بندش اورایندھن کے متبادل نظام نہ ہونے سے شدید مشکلات کاشکار ہے۔ بلوچستان کے ضلع لورلائی میں برف باری سے شہری گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے۔ ہرنائی میں برفباری سے خوست، زرد آلو، چھپ کے مقامات پر ہرنائی کوئٹہ اور ہرنائی سنجاوی روڈ بلاک ہوگئے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر ہرنائی کے مطابق سڑکوں کو بحال کرنے کے لئے ہیوی مشنری کی مدد لی جارہی ہے ، بارش اور برفباری کی وجہ سے ہرنائی کا ملک بھر سے زمینی منقطع ہوگیا ہرنائی کوئٹہ شاہراہ چپررفیٹ کے پہاڑی سے لیکر کچ موڑ تک شدید برفباری کی وجہ سے ہرقسم کی ٹریفک کیلئے مکمل طورپر بند ہے ہرنائی پنجاب قومی شاہراہ زندہ پیر، 22 میل ایریا میں شدید برفباری اور لینڈ سلائنڈنگ کے باعث ہرقسم کے ٹریفک کیلئے مکمل طورپر بند ہیشدید بارش و برفباری کی وجہ سے ہرنائی میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ بجلی کی آنکھ مچھولی اور طویل بریک ڈاؤن نے صارفین کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا گیا۔
بلوچستان کے ضلع خاران میں کلان،بڈو،کوڈکان،شے مزار،گروک،ندی میں اونچے درجے کا سیلابی پانی آ گیا ہے بارش اور سردی سے اکثر لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے بارش کے باعث خاران کے دیگر چھوٹے ندی نالوں میں بھی طغیانی آگئی جبکہ دیہی علاقوں سے مقامی لوگوں کی آمدورفت کا سلسلہ رک گیا اور دیہی علاقوں گواش پوپے ریک سرخاران،چارکوہان،جامک،گزی میں کئی دیہات زیر آب گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
خاران سے کوئٹہ خضدار کراچی لاڑکانہ جانے والی ٹریفک بھی معطل رہی شدید بارشوں سے خاران شہر سے گرردنواع جانے والی کئی سڑکین ٹھوٹ پوٹ کا شکار ہو گئے۔ بلوچستان کے ضلع پنجگور میں موسلادار بارش نشیبی علاقے زیر آب آنے سے ندی نالوں میں طغیانی کچے راستے متاثر متعدد گاؤں کا شہر سے رابطہ منقطع بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا متعدد کچی دیواریں منہدم ہوگئیں۔ بلوچستان کے ضلع گوادر میں دودنوں ہونے والی بارش سے بیشتر علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
جیونی سے لیکر اورماڑہ تک بارش اور تیزہواں کا راج رہا شدید موسلادار بارش کی وجہ سے بہت سے نشیبی علاقے ڈوب گئے جبکہ ندی نالوں میں آنے والی طغیانی نے سیلاب کا منظر اختیار کیا،گوادر کے دوسرے بڑے شہر پسنی میں بارش کی وجہ سے بہت سی چاردیواریاں منہدم ہوئی ہیں جبکہ متعددکشتیاں بھی ٹھوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہیں،تیزہوا اور بارش کی وجہ سے مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا پی ٹی سی ایل کا سسٹم بندہوگیا جبکہ یوفون کے نیٹ ورک بھی چلے گئے گوادر کے شہر اورماڑہ میں بھی تیزبارش اور ہوا نے تباہی مچادی ہے۔
فٹبال گرانڈ کی چار دیواری کا ایک حصہ زمین بوس ہوگیا اور متعدد رہائشی چاردیواروں کے منہدم ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔گوادر مصافاتی علاقوں کے ندیوں میں اونچے درجے کا سیلاب، شادی کور ڈیم اسپلوے سے 55600 کیوسک، بیلار ڈیم اسپلوے سے 12000 جبکہ کنیرو سے 650 کیوسک پانی کا اخراج ہورہاہے،ساحلی شہر اورماڑہ میں رہائشی گھروں کی چاردیواریاں گرگئیں نوکنڈی میں دوسرے دن وقفے وقفے بارش کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا جس سے پورا علاقہ جھیل کا منظر پیش کررہا ہے۔
گلی کوچوں بارش کے پانی سے بھرے ہوئے ہیں لوگ اپنی مدد آپ پانی نکال رہے ہیں سرکار سطح پہ کوئی امدادی سرگرمیاں نظر نہیں آرہی ہے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ندی نالوں میں طغیانی اگئی نواحی علاقے بگ میں بارش سے چار گاڑیاں پھنس گئی تھی جن میں عورتیں اور بچے سوار تھے جنہیں رات گئے تک ایف سی اور لیویز نے ریسکیو کردیا تفتان رائفلز ماشکیل،راجے ونگ اور لیویز فورس نے امدادی سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے گیارہ عورتوں،بچے اور سات مردوں کو باحفاظت نکال دئیے اس کے علاؤہ 72لانڈی کے قریب بھی لیویز نے دو افراد کو ریسکیو کردیا،توزگی کے مقام پر ریلوئے ٹریک کو تاحال بحال نہیں کی گئی ہے۔
مسلسل بارشوں سے کلی غریب آباد اور شہر کے دیگر علاقوں میں سورس تار اور گھروں کی وائرنگ جل جانے سے بجلی کی فراہمی معطل رہی شدید سردی میں صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،دس گھنٹوں کی طویل بریک ڈاؤن کے بعد بجلی بحال کی گئی، دو دونوں کے بارش تھم جانے کے بعد نوکنڈی اور نواحی علاقے یخ بستہ ہواؤں کی لپیٹ میں ہے جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے جس سے بازار سنسان اور لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئیں۔
پاکستان ایران سرحدی علاقے ماشکیل اور بگ کے ایریا میں بارشوں کے باعث ماشکیل سے دالبندین خاران اور پنجگور جانیوالے راستہ بند ہوگئے بارشوں سے بگ اور سیاہ پٹ کے مقام پر ماشکیل آنے جانے والی مسافر اور سامان لے جانی والی گاڑیاں پھنس گئیں گزشتہ رات سے پھنسے مسافر گاڑیوں میں خواتین اور بچے بھی ہیں شدید سردی کی وجہ سے لوگ بے یار و مددگار کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں،نصیرآبادڈویژن کے مختلف علاقوں ڈیرہ مرادجمالی،چھتر،منجھوشوری، باباکوٹ، میرحسن،پیروپل،کے نواحی علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ضلع کوہلو کی پہاڑی سلسلوں کوہ جاندران،پیر چوٹی سمیت ضلع کے مختلف علاقوں میں برف پڑھنے سے درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گرگیا۔ اتوار کے روز لسبیلہ کے مختلف علاقوں کنراج. لاکھڑا. ڈام بندر اور وندر سمیت دیگر پہاڑی اور میدانی علاقوں میں کہیں تیز کہیں بوندا بھاندی ہوئی بارش اور بالائی علاقوں میں برف بھاری کی وجہ سے سردی نے لسبیلہ کا رخ کرلیا