|

وقتِ اشاعت :   March 15 – 2020

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے وفاقی حکومت سے ایران اور افغانستان سے ملنے والی سرحدوں کو مکمل طور رپر بند کرنے کے لئے متعلقہ وفاقی اداروں کے بھرپور تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کی طویل سرحدیں ان دونوں ممالک سے ملتی ہیں اور کورونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس کے فیصلے کے مطابق ان سرحدوں کی مکمل بندش ضروری ہے جبکہ وزیراعلیٰ نے سرحدی علاقوں کے عوام کے کاروبار اور انہیں روزمرہ کی اشیائے ضرورت کی فراہمی کے لئے بھی وفاقی حکومت کی معاونت کو ناگزیر قراردیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی زیرصدارت کورونا وائرس کی روک تھام اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے منعقدہ نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے منعقدہ اجلاس میں بذریعہ وڈیو لنک شرکت کرتے ہوئے کیا، اجلاس میں گذشتہ روز منعقد ہونے والے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس کے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لیاگیا۔وزیراعلیٰ نے بلوچستان سے دیگر صوبوں کے زائرین کی واپسی کے طریقہ کار، تفتان میں موجود زائرین کو فراہم کی جانے والی سہولتوں اور کوئٹہ میں قرنطینہ میں موجود زائرین کے ٹیسٹ کے حوالے سے بھی تفصیلات سے آگاہ کیا اور وفاقی حکومت سے بلوچستان کو ضرورت کے مطابق ٹیسٹنگ کٹس کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا۔

دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت کورونا وائرس کی روک تھام کے اقدامات اور احتیاطی تدابیر کے جائزہ اجلاس میں شریک قائد حزب اختلاف ملک سکندر خان ایڈووکیٹ اور اپوزیشن کے دیگر اراکین کی جانب سے کورونا وائرس کی روک تھام اور زائرین کی واپسی کے علاوہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے زائرین کے حوالے سے طے کی گئی حکمت عملی کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اس ضمن میں حکومت کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

جبکہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبے کے عوام کے بہترین مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے صورتحال کے مطابق سخت فیصلے بھی کئے جائیں گے اورکسی قسم کا رسک نہیں لیا جائے گا، اس ضمن میں عوام میں آگاہی اجاگر کرنے کے لئے حکومت اور حزب اختلاف مل کر کام کریں گے، اجلاس میں وزیراعلیٰ کی تجویز پر حکومت اور اپوزیشن کے اراکین پر مشتمل مشترکہ ورکنگ کمیٹی کے قیام سے بھی اتفاق کیا گیا، اجلاس کو سیکریٹری صحت اور ڈی جی پی ڈی ایم اے کی جانب سے ایران سے آنے والے زائرین کی ان کے صوبوں کو واپسی اور کوئٹہ کے زائرین کے لئے پی سی ایس آئی آر لیبارٹری میں قائم قرنطینہ میں فراہم کی گئی۔

سہولیات کے علاوہ کورونا کی علامات ظاہرہونے والے افراد کی ٹیسٹنگ شیخ زید اورف فاطمہ جناح چیسٹ اینڈ جنرل ہسپتال میں آئسولیشن وارڈز کے قیام اور کورونا وائرس کے مسئلے سے نمٹنے کے اقدامات اور حکمت عملی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی، اجلاس میں اس امر سے اتفاق کیا گیا کہ کورونا وائرس پر 90%قابو پانا عوام کے تعاون سے ہی ممکن ہے جس کے لئے بھرپور آگاہی مہم شروع کی جارہی ہے جس میں پی ڈی ایم اے کے ذریعہ مختلف زبانوں پر مشتمل احتیاطی تدابیر بذریعہ ایس ایم ایس سروس کا آغاز بھی شامل ہے جنہیں بلوچستان کے 36لاکھ موبائل فون صارفین تک پہنچایا جائے گا، اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت محکمہ صحت کے پاس تقریباً 200ٹیسٹنگ کٹس اور چار اضافی پی سی آر دستیاب ہیں، جن کے ذریعہ روزانہ پچاس افراد کے ٹیسٹ کئے جاسکتے ہیں۔

اور آئندہ ہفتے تک پانچ سو ٹیسٹ روزانہ کرنے کی استعداد حاصل ہوجائے گی، تفتان میں موبائل ٹیسٹنگ لیب پہنچ چکی ہے جہاں مشتبہ زائرین کے ٹیسٹ کئے جارہے ہیں، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کوئٹہ کے قرنطینہ میں موجود زائرین کے بیجز بناکر پچاس پچاس کی تعداد میں روزانہ ٹیسٹ کئے جائیں گے اور جن افراد کے ٹیسٹ منفی ہوئے انہیں گھروں کو جانے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ مثبت ٹیسٹ کے حامل افراد کو آئسولیشن وارڈ میں منتقل کیا جائے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت تفتان کے علاوہ تمام سرحدی مقامات بند ہیں تاہم حفظ ماتقدم کے طور پر ایران اور افغانستان سے منسلک دس سرحدی مقامات پر قرنطینہ قائم کئے جارہے ہیں، تفتان میں پانچ ہزار افراد پی سی ای آئی آر میں دوہزار افراد اور چمن میں تین ہزار افراد کے لئے قرنطینہ کی سہولت میں اضافہ کیا جارہا ہے، اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ کورونا وائرس کو روکنے کے لئے احتیاطی تدابیر بنیادی اہمیت رکھتی ہیں جن میں جسمانی اور ماحول کی صفائی سرفہرست ہے۔

وائرس کھلی فضا میں نہیں رہ سکتا تاہم اشیاء پر کچھ عرصہ تک رہ سکتا ہے، سینیٹائزر کے استعمال سے وائرس کو ہاتھوں کے ذریعہ اثرانداز ہونے سے روکا جاسکتا ہے، اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان نے زائرین کے حوالے سے ذمہ داری اٹھائی اور نبھائی بھی ہے، حکومت بلوچستان نے کورونا کے مسئلے کو پہلے دن سے ہی سنجیدگی کے ساتھ لیا اور زائرین کے حوالے سے حکمت عملی وضع کی اور کم وسائل کے باوجود اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کورونا ایک قومی مسئلہ ہے اور اس سے نمٹنا مشترکہ سماجی ذمہ داری ہے، ہمیں سیاست سے بالاتر ہوکر کورونا وائرس کے تدارک کے لئے اپنا فرض ادا کرنا ہوگا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے قومی سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں ایران اور افغانستان کے ساتھ منسلک طویل سرحدوں کی مکمل بندش کے لئے وفاقی حکومت کی معاونت کی بات اٹھائی اور اس کے ساتھ ساتھ سرحدی علاقوں کے عوام کے کاروبار اور ان کی روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے وفاقی حکومت کے تعاون کی حصول کی نشاندہی بھی کی، امید ہے کہ اس ضمن میں وفاقی حکومت صوبائی حکومت سے بھرپور تعاون کرے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ دیگر صوبوں کے ساتھ مکمل رابطے میں رہتے ہوئے ان صوبوں سے تعلق رکھنے والے زائرین کو واپس ان کے صوبوں میں بھجوانے کا عمل جاری ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ اپوزیشن اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اجلاس میں شرکت کرکے صورتحال سے آگاہی حاصل کی اور اپنے تعاون کا یقین دلایا جو صوبے کے وسیع تر مفاد کے لئے خوش آئند ہے، وزیراعلیٰ نے اس موقع پر پی ڈی ایم اے کو پی سی ایس آئی آر لیبارٹری میں مقیم زائرین کے لئے سہولتوں میں مزید اضافے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے وبائی امراض اور قدرتی آفات کی صورت میں عوام کی امدادو ریلیف کے لئے کوئٹہ میں پچاس ایکڑ جبکہ ڈویڑنل ہیڈکوارٹروں میں پندرہ پندرہ ایکڑ پر محیط ریلیف اور بحالی مراکز کے قیام کا فیصلہ کیا ہے، اپوزیشن اراکین نے حکومتی فیصلے کو سراہا۔صوبائی وزراء نوابزادہ طارق مگسی، میر عارف جان محمد حسنی، محمد خان طور اتمانخیل، محمد خان لہڑی، اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی ملک نصیر شاہوانی، نصراللہ زیرے، سید فضل آغا، شکیلہ دہوار، متعلقہ محکموں کے سیکریٹری اور حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔