کوئٹہ : وزیراعلئ بلوچستان جام کمال خان سے کوئیٹہ میں تعینات قونصل جنرل اسلامی جمہوریہ ایران محمد رفیعی نے اتوار کے روز یہاں ملاقات کی ملاقات کے دوران پاک ایران تعلقات اور دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین تجارتی معاشی ثقافتی شعبوں میں تعاون کے فروغ سے متعلق امور پر بات چیت کی گئ۔
قونصل جنرل نے کوئٹہ میں گزشتہ 4 سالوں کے دوران اپنی کارکردگی کے بارے میں وزیر اعلی بلوچستان کو آگاہ کیاقونصل جنرل نے بارٹر ٹریڈ کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بارٹر ٹریڈ خطے میں موجود غربت کے خاتمہ میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے ۔
اس وقت 1700 کے قریب کنٹینر جس میں پیٹروکیمیکل مصنوعات اور کافی مقدار میں خوردنی اشیاء موجود ہیں تفتان- میرجاوہ بارڈر پر رکے ہوئے ہیں اور بارڈر کراس کرنے کے منتظر ہیں جس میں مال خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ قونصل جنرل نے کہا کہ بلوچستان میں 4 سال کا عرصہ گزار کر وابستگی اور دلی لگاو بلوچستان سے پیدا ہوا ہے قونصل جنرل نے پاکستانی مسافروں کو زبردستی بارڈر پر دھکیلنے کی سختی سے تردید کی۔
جن میں زائرین ، تاجر ، طالب علموں کی بڑی تعداد شامل ہیں انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت نے صدر حسن روحانی کی ہدایات کے مطابق تمام مسافروں کو لازمی اسکریننگ پروسیس سے گزار کر ہیلتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے تاکہ اگر خدانخواستہ کسی بھی پاکستانی مسافر میں کرونا کی تصدیق ہو تو اسے ایران کے اندر مفت علاج و معالجہ کی سہولیات فراہم کی جا سکیں قونصل جنرل نے وزیر اعلی بلوچستان کے اقدامات کو سراہا جس میں صوبائ حکومت کی جانب سے بہت ہی مختصر عرصے کے دوران ایران سے واپس لوٹنے والے تمام مسافروں کیلئے تفتان بارڈر پر قرنطینہ اور دیگر سہولیات کی فراہمی شامل ہیں۔
وزیر اعلی بلوچستان نے ایرانی قونصل جنرل کی خدمات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں وہ ایران کے اندر بھی اپنی کوششیں مزید جاری رکھیں گے وزیراعلئ نے کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال کے تناظر میں ایران میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا وزیر اعلی بلوچستان نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاو کے حوالے سے ایک غلط تاثر دیا گیا کہ یہ وائرس زائرین کے ذریعےایران سے تفتان کے راستے ملک میں داخل ہوا ہے اس حوالے سے عوام کیلئے وضاحتیں پیش کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی جس کے بعد یہ تاثر کافی حد تک زائل ہو چکا ہے ۔
ہم نےایمرجنسی بنیادوں پر ایران سے لوٹنے والے تمام مسافروں بشمول زائرین کو تفتان اور کوئٹہ میں کئی دن قرنطینہ میں رکھا اور زائرین کو انکے صوبوں کے حوالے کیا صوبائ حکومت تفتان میں زائرین کے لیۓ مستقل بنیادوں پر رہائشی سہولیات تیار کر رہی ہے وزیراعلئ نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر اسد عمر سے تفتان بارڈر پر تجارتی پالیسی اور انفراسٹرکچر کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی ہےاور سہولیات کا جائزہ لینے کیلئے انہوں نے خود بھی تفتان بارڈر کا دورہ کیا ہے۔
وزیر اعلی بلوچستان نے قونصل جنرل کیلئے نیک خواہشات اور تمناوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا ختم ہونے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کو تمام شعبوں میں ایک نئی جہت ملے گی۔