وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نہیں جانتے مستقبل میں کورونا وائرس کی ویکسین کب آئے گی۔
انھوں نے چھوٹا کاروبار امدادی پیکج کے اعلان کے دوران کہا کہ ’کسی اور حکومت نے ایسی مراعات نہیں دیں۔۔۔ ہم چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو مراعات دے رہے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں اگلے چھ ماہ سے ایک سال تک کورونا کے ساتھ رہنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں تیار رہنا ہوگا۔‘
’عام آدمی کا بوجھ کم کرنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم رکھی ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اس مرتبہ ٹیکس کی وصولی بھی 35 فیصد گِر گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’جن کا کورونا ٹیسٹ مثبت آتا ہے ان میں سے زیادہ تر کو کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ صرف 5 فیصد لوگوں کو ہسپتال جانا پڑتا ہے۔
’مثبت ٹیسٹ والے افراد کو اپنے گھروں میں قرنطینہ کرنا چاہیے۔ لوگ قرنطینہ مراکز میں خوش نہیں ہوتے جب انھیں زبردستی لایا جاتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو خود ذمہ داری لینی پڑے گی اور خود فیصلہ کرنا ہوگا۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اکاسی ارب روپے بانٹے گئے ہیں۔ ’معاشی مشکلات کے پیش نظر ہم نے احساس پروگرام شروع کیا۔‘
انھوں نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن اور کورونا کی وجہ سے بے روزگار ہونے والے افراد کے لیے امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے جس میں ویب سائٹ کے ذریعے لوگ اپنی معلومات درج کرنے کے بعد رقم وصول کر سکیں گے۔
’میں گزارش کرتا ہوں کہ ٹائیگر فورس ان لوگوں کی مدد کریں تاکہ یہ لوگ ویب سائٹ پر اپنی معلومات درج کر سکیں۔ رجسٹر ہونے والوں کو جائزے کے بعد رقم ادا کی جائیں گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ ان لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنھوں نے کووڈ ریلیف فنڈ میں پیسے عطیہ کیے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہت زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ ’امیر ملک بھی ہر متاثرہ انسان تک نہیں پہنچ پا رہے۔‘
’لاک ڈاؤن زیادہ عرصے تک نہیں چل سکتے۔ امیر ملکوں کو بھی احساس ہو رہا ہے اور وہ بحالی کی طرف جا رہے ہیں۔‘
’ہر ملک کی کوشش ہے کہ اب کاروبار دوبارہ شروع ہو۔۔۔ نیویارک نے بھی تعمیرات کا شعبہ کھول دیا ہے۔‘
’لاک ڈاؤن کے منفی اثرات بہت زیادہ ہیں۔‘
انھوں نے تعمیرات کے شعبے کے لیے مراعات کا کا وعدہ کیا ہے۔