کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کورونا وائرس زندگی کا حصہ بن سکتا ہے یہ وبا صحت اور معیشت پر اثر انداز ہو تی رہے گی اور ساتھ ساتھ چلے گی، تنقید کی بجائے اپوزیشن حکومتی کوششوں کا ساتھ دے کورونا وائرس صرف حکومت ہی کا نہیں بلکہ اپوزیشن اور پورے ملک کا مسئلہ ہے، محاصل کی مد میں ملک کو 400سے 500 ارب روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
معیشت اور امن وامان کا چیلنج حکومت اور اپوزیشن سب کے لئے ہے اپوزیشن کو معاشی اور امن وامان کے چیلنجوں پر بھی اعتماد میں لیں گے،این ایف سی پر اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار ہیں اور انہیں ساتھ لیکر چلیں گے،دہشت گرد ملک اور صوبے میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم نے گھبرانا نہیں بلکہ ان کا مقابلہ کرنا ہے۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو بلوچستان اسمبلی کے ریکوزیشن اجلاس کے دوران بحث سمیٹتے ہوئے کہی،وزیراعلیٰ جام کمال خان نے کہا کہ اسلام آباد میں زو دیکر دلیل کے ساتھ بات منوانی پڑتی ہے، این ایف سی فورم ٹیکنیکل سے زیادہ سیاسی ہے۔
این ایف سی کے گزشتہ اجلاسوں اور فیصلوں میں سیاسی وزن دیکھا گیا ہے ماضی میں ڈاکٹر قیصر بنگالی ڈاکٹر گل فراز سے دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے ماہرین معاشیات نے این ایف سی اور دیگر فورمز پر بلوچستان کی نمائندگی کی ہے، این ایف سی میں بلوچستان کا مضبوط کیس پیش کرنا چاہتے ہیں اگر ہم نے این ایف سی میں بلوچستان کے غیر سرکاری ممبر کی تقرری کو سیاسی رنگ دیا تو صوبے کو نقصان پہنچے گا۔
جاوید جبار سے پہلے سے کوئی ذااتی تعلق اور رابطہ تھا نہیں تھا دس دن پہلے انکا فون نمبر اپنے موبائل میں محفوظ کیاایک دو فورمز پر جاوید جبار کو بلوچستان کا کیس پیش کرتے دیکھا و ہ بلوچستان کے پس منظر سے بخوبی آگاہ ہیں حفیظ پاشا اور جاوید جبار گزشتہ 20 سال سے این ایف سی میں بلوچستان اور چھوٹے صوبوں کے لئے کام کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لئے وہ فیصلے کرینگے۔
جو یہاں کے عوام کے حق میں بہتر ہوں کوئی بھی فیصلہ حرف آخر نہیں ہوتااین ایف سی پر اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار ہیں اور انہیں ساتھ لیکر چلیں گے،انہوں نے کہا کہ بیرون ملک بیٹھے عناصر بھارت اور دیگر ملک دشمن عناصر کے ساتھ ملکر بلوچستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں دہشت گرد ملک اور صوبے میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم نے گھبرانا نہیں بلکہ ان کا مقابلہ کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی بھرپور مذمت کرتے ہیں معیشت اور امن وامان کا چیلنج حکومت اور اپوزیشن سب کے لئے ہے اپوزیشن کو معاشی اور امن وامان کے چیلنجوں پر بھی اعتماد میں لیں گے وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے کہا کہ صوبائی حکومت کی تما م تر توجہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام پر مرکوز ہے صوبائی حکومت کورونا وائرس کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
ہم نے کورنا وائرس کے مسئلہ کو اس وقت اٹھایا جب دیگر صوبوں کو زیادہ معلومات بھی نہیں تھیں ایران میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد فوری طور پر تفتان میں دستیاب سہولتوں کو بہتر بنانے کے اقدامات کا آغاز کیامیں نے خود اور صوبائی وزراء اور متعلقہ حکام نے تفتان کے دورے کیے اور وہاں پر محدوو سائل کے ہوتے ہوئے اقدامات کئے،انہوں نے کہا کہ تفتان کو وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ قرار دینا صیح نہیں تفتان کے راستے پاکستان آنے والے تمام افراد کا ریکارڈ موجود ہے۔
جبکہ فضائی راستوں سے آنے والے 7 لاکھ سے زائد افراد کا ریکارڈ موجود نہیں،وزیراعلیٰ نے کہا کہ آنے والے دنوں میں کورونا وائرس کی وباء کو ملک میں پھیلنے سے روکنے پر سراہا جائیگااپوزیشن اراکین تفتان اور کورونا وائرس کی روک تھام کی حکومتی کوششوں کے حوالے سے اپنا ریکارڈ درست کریں تنقید کی بجائے اپوزیشن حکومتی کوششوں کا ساتھ دے کورنا وائرس صرف حکومت ہی کا نہیں۔
بلکہ اپوزیشن اور پورے ملک کا مسئلہ ہے کورنا وائرس کو حکومت نے سنجیدگی سے لیا ہے اور عوام کو اس محفوظ رکھنے کے لئے اقدامات کررہی ہے،انہوں نے مزیدکہا کہ حکومت نے تمام طبقات کا خیال رکھنا ہے مکمل لاک ڈاؤن کو سمارٹ لاک ڈاؤن میں تبدیل کرنے کا مقصد محنت کشوں مزدوروں اور کاروباری طبقے کو معاشی تحفظ دینا ہے مستحق افراد اور خاندانوں کو راشن پکی پکائی روٹی اور احساس پروگرام کے تحت مالی معاونت دی جا رہی ہے صوبائی حکومت نے چھو ٹے پیمانے پر قرضہ فراہمی کی سکیم بھی شروع کی ہے،انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس زندگی کا حصہ بن سکتا ہے۔
یہ وبا صحت اور معیشت پر اثر انداز ہو تی رہے گی اور ساتھ ساتھ چلے گی انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے معاشی استحکام کے لئے بہت سے ٹیکسوں میں چھوٹ دی ہے جسکا اثر محاصل پر پڑے گا کثیر فنڈز صحت کے شعبے پر خرچ کئے جا رہے ہیں محاصل کی مد میں ملک کو 400سے 500 ارب روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا ہمیں اپنے اخراجات میں کمی لانا ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ اراکین اسمبلی آئندہ سال کے بجٹ کے لئے صحت معاشی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقعوں کے حامل منصوبوں کی تجاویز اور نشاندہی کریں۔واضح رہے کہ اپوزیشن کی ریکوزیشن پر بلائے گئے اجلاس سے حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے تمام اراکین نے خطاب کیا اجلاس کی صدارت ڈپٹی سپیکر سردار بابر خان مسی خیل نے کی جبکہ اجلاس تین کی بجائے چھ گھنٹے جاری رہا۔