کوئٹہ:بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس جناب جسٹس نذیر احمد لانگو پر مشتمل بینچ نے صوبائی پی ایس ڈی پی 2020-21 کے ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد روکتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان کے خصوصی فنڈز پر اسٹے آرڈر جاری کردیااور ریمارکس دئیے کہ نئے اسکیمات کے حوالے سے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر مذکورہ انجینئر ودیگر کے خلاف کارروائی کی جائے۔
عدالت عالیہ نے یہ حکم متحدہ اپوزیشن کی جانب سے صوبائی پی ایس ڈی پی 2020-21 ء سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کے موقع پر دیا۔سماعت کے دوران درخواست گزار ملک سکندر ایڈووکیٹ، ساجد ترین ایڈووکیٹ، منیر احمدکاکڑ ایڈووکیٹ، نصیب اللہ ترین ایڈووکیٹ،ملک منیراحمد کاکڑایڈووکیٹ،ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان ارباب طاہر ایڈووکیٹ اور اپوزیشن اراکین اسمبلی ملک نصیر شاہوانی، اخترحسین لانگو،احمد نواز بلوچ، نصر اللہ زیرے،عبدالواحد صدیقی،یونس عزیز زہری، ٹائٹس جانسن،صوبائی سیکرٹریز خزانہ،قانون اور وزیراعلیٰ انسپیکشن ٹیم کے چیئرمین سجاد احمد بھٹہ ودیگر عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
سماعت شروع ہوئی توچیئرمین وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم سجاد احمد بھٹہ نے عدالت کوبتایاکہ زیادہ تر منصوبوں کے پی سی ون نہیں ہے جس پر عدالت نے سجاد احمد بھٹہ کو ہدایت کی کہ وہ تمام پی ایس ڈی پی میں شامل اسکیمات کاجائزہ لیں کہ کوئی اسکیم تو پلاننگ کمیشن آف پاکستان کے گائیڈ لائنز اور سپریم کوٹ آف پاکستان،بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات کے برخلاف تو نہیں ہے جائزہ لینے کے بعد رپورٹ عدالت میں پیش کرے،سماعت کے دوران ساجد ترین ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایاکہ حکومت کی جانب سے اپرووڈ اور فنڈز ریلیز کئے بغیر جلدی میں اسکیمات کی ٹینڈرز اپنی غفلت چھپانے کی کوشش ہے،
وزیراعلیٰ بلوچستان کے اسپیشل فنڈز سے 7کروڑ روپے ریلیز کئے جاچکے ہیں اس طرح کی بندربانٹ غریب پسماندہ صوبے کے ساتھ ناانصافی ہے جس پر عدالت عالیہ نے صوبائی پی ایس ڈی پی 2020-21 ء کے ترقیاتی اسکیمات پر عملدرآمد روک دیا اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے خصوصی فنڈز پر اسٹے آرڈرجاری کردیااور حکم دیاکہ جب تک اس حوالے سے عدالتی احکامات جاری نہیں کئے جاتے یا مذکورہ کمیٹی کی رپورٹ پیش نہ ہوجائے تب تک منصوبوں پرعملدرآمد نہیں ہوگا،عدالت نے ریمارکس دئیے کہ نئے اسکیمات کے حوالے سے کام کے دوران عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی گئی تو انجینئر ودیگر متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کی جائے،خلاف ورزی پر مذکورہ آفیسر ودیگر کے خلاف اینٹی کرپشن اور نیب کو لکھاجائے۔
بعدازاں سماعت کو عید کے بعد تک کیلئے ملتوی کردیا۔یاد رہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ نے آئندہ مالی سال 2020-21 کی پی ایس ڈی پی کی جانچ پڑتال اور جائزہ لینے کیلئے سی ایم آئی ٹی کے چیئرمین کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں دوممبران حکومت اوردوممبران اپوزیشن سے ہوں گے،صوبائی سیکرٹریز خزانہ،لا اور چیف اکنامسٹ بھی کمیٹی میں شامل تھے جو اپنی رپورٹ مرتب کرکے عدالت کو پیش کریگی۔
پی ایس ڈی پی کے ترقیاتی منصوبوں کو روکدیا گیا‘وزیراعلی کے خصوصی فنڈز پر حکم امتناعی جاری
![]()
وقتِ اشاعت : July 29 – 2020