|

وقتِ اشاعت :   July 30 – 2020

کوئٹہ:وزیرداخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ چمن بارڈر پر مشتعل مظاہرین نے نادرا آفس اور قرنطینہ مرکز کو نذرآتش کیا جس پر فورسز کی فائرنگ سے تین افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں،مظاہرین میں شامل چند شرپسند عناصر نے ہجوم کو مشتعل کیا

جس پر واقعہ پیش آیا، واقعہ کی تحقیقات کی جارہی ہیں حکومت عوام اور ملک کے مفادمیں فیصلے کریگی اگر بارڈر پار سے کشیدیگی ہوئی تو اسکا جواب دیں گے، چمن بارڈر کامعاملہ وفاق کے ساتھ اٹھا دیا ہے

یہ بات انہوں نے جمعرات کی شب اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی، میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ چمن بارڈر پر مشتعل افراد سرحد کے اس پار جانا چاہتے تھے

جسکی اجازت نہ ملنے پر انہوں نے بارڈر پر قائم نادرا سینٹر اور قرنطینہ مرکز کو نذ ر آتش کردیا ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی جانب سے ہوائی فائرنگ کی گئی تاہم ہجوم میں موجود کچھ شرپسند عناصر کی جانب سے صورتحال کو مزید کشیدہ کیاگیا جس کے دوران تین افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں

،انہوں نے کہا کہ شہریوں پر سیدھی فائرنگ نہیں کرنی چاہیے تھی واقعہ کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کرکے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائیگی، وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے چمن بارڈر سیکورٹی خدشات کی بناء پر بند کیاتھا جس کی وجہ سے بے روزگار ہونے والے افراد کو لیویز میں بھرتی

،سرحد پر باڑ لگانے کے کام میں ملازمت دینے، احساس پروگرام کے تحت 20ہزار روپے ماہانہ دینے سمیت چار پیش کشیں کی گئی تھیں اس حوالے سے حکومت کی جانب سے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی حکومت اپنے اوپر بوجھ ڈال کر بے روزگار ہونے والے افراد کی معاونت کر رہی ہے ریاست جو بھی فیصلے کرتی ہے وہ ملکی اور عوامی مفادات کو مدنظر رکھ کر کئے جاتے ہیں

ہم کسی بھی صورت اپنی عوام کا نقصان نہیں چاہتے، انہوں نے مزید کہا کہ بارڈر پر افغان فورسز کی جانب سے اگر کسی بھی قسم کی کشیدیگی کی گئی تو اسکا موثر جواب دیا جائیگا ہم اپنے ملک میں کسی کو بھی دراندازی یا جارحیت کی اجازت نہیں دیں گے دشمن سرحد پار بیٹھ کر پاکستان کا امن خراب کرنے کے لئے اربوں ڈالر خرچ کررہا ہے ہم دہشتگردی کے تمام ترخدشات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ان کے تدارک کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں،