کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت خوشحال اور پر امن بلوچستان کے وژن پر کام کر رہی ہے گزشتہ دوسالوں کے دوران بلوچستان کو تیز اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامز ن کرنے کے لئے پر اثر اقدامات کئے ہیں صوبے میں قوانین اور قوائد و ضوابط کو موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جارہا ہے، یہ بات انہوں نے جمعرات کو این این آئی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت زیر تکمیل منصوبوں کی موثر نگرانی کر رہی ہے اب تک صوبے میں 24نئے قوانین بنائے گئے جبکہ 11میں ترامیم کی گئی ہیں جلد ہی تمام پالیسوں کو موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے انکا از سر نو جائزہ لیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ کو بڑھانے کے لئے حکومت اپنے ذرائع آمدن بڑھا رہی ہے جبکہ پی ایس ڈی پی میں بھی اصلاحات لاتے ہوئے تھرو فارورڈ 28فیصد کم کیا گیا۔
اور سماجی و معاشی فوائد نہ رکھنے والے منصوبوں کو پی ایس ڈی پی سے نکالاگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2018میں 188جبکہ 2019میں 85ایسے منصوبے جو سالہاسال سے جار ی تھے کو ختم کیا گیا اب پی ایس ڈی پی کے ہر منصوبے کی نشاندہی نقشے پر کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ 2019-20میں ترقیاتی اخراجات بلند ترین سطح پر 74.5ارب روپے رہے جبکہ بہتر منصوبہ بند ی سے ضمنی ترقیاتی بجٹ صرف 3.5ارب روپے رہا 2019-20میں منصوبوں کی تکمیل کا تناسب بلند ترین سطح پر 58فیصد یعنی 1437منصوبے مکمل کئے گئے۔
انہوں نے کہا کہ فنانشنل مینجمنٹ ایکٹ کے تحت اب صرف منظور شدھ منصوبے ہی پی ایس ڈی پی کا حصہ بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2019-20 صوبے میں 2550کلو میٹر جبکہ اور 2020-21کے بجٹ میں 2700کلو میٹر شاہراہوں کا جال بجھا یا گیا کوئٹہ شہر کے انفراسٹرکچر کو بہتر کرنے کے لئے 5ارب روپے کی لاگت سے جوائنٹ روڈ کی توسیع کی گئی جبکہ سبزل روڈ کی توسیع و تعمیر کے لئے 4.8ارب روپے، سریاب روڈ کی توسیع کے لئے 5.4 ارب،4ارب کی لاگت سے مشرقی اور مغربی بائی پاس کو منسلک کرنے کے لئے مختلف رابطہ سڑکوں کی تعمیر کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں خطیر رقم کی لاگت سے مختلف مرحلوں میں تمام اضلاع میں اسپورٹس کمپلکس تعمیر کئے جارہے ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبے کی بجلی کی ضروریات کو پوراکرنے کے لئے پاور ایوکیوایشن پلان بنایا جارہا ہے۔
بلوچستان پاور بورڈ کی جانب سے 750میگا واٹ شمسی توانائی اور 500میگا واٹ کے ہوا سے بجلی پیداکرنے کی سفارش کی گئی ہے جس کے تحت نوکنڈی میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کو اولین ترجیح دی جارہی ہے،حبیب اللہ کوسٹل پاور پلانٹ کو فعال کرنے کی سفارش کی گئی ہے،محکمہ توانائی کی استعدار کار بڑھانے کے لئے اوپن مارکیٹ سے ماہرین کی خدمات لی جائیں گی۔