کوئٹہ+اندرون بلوچستان: بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے بارشوں نے تباہی مچادی ہے، خضدار میں دیوار گرنے سے بچہ جاں بحق جبکہ بچی سمیت تین افراد زخمی ہوگئے،ضلع لسبیلہ کے علاقہ لاکھڑا پیر قبرستان میں موجود قبروں کو بھی سیلابی ریلے نے شدید نقصان پہنچایا، لاکھڑا شہر سے یوسی ہاڑہ سیٹھار و علی محمد انگاریہ گوٹھ کا راستہ منقطع ہوکر رہ گیا لوگ اشیائے خوردونوش کے محتاج ہوگئے،ہرنائی میں شدید بارش اورسیلابی ریلہ آنے کے باعث ہرنائی کوئٹہ شاہراہ کھوسٹ کے مقام زیارت کچ کے قریب بند ہوگئی۔
جس کے باعث سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں۔ بولان،ڈھاڈر،سنی شوران،مچھ، سمیت دیگر علاقوں میں وقفے وقفے سے جاری بارشوں نے تباہی مچادی،دریائے ناڑی میں اونچے درجے کا سیلاب ایک لاکھ چونتیس ہزار کیوسک کا ریلہ مٹھڑی وئیر کے مقام سے گزرنے سے قرب جوار کے علاقوں کو سیلاب سے شدید خطرہ،ضلعی انتظامیہ نے مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کیلئے قریبی مساجد میں اعلانات،ایریگیشن حکام کی جانب سے ہیوی مشینری پہنچادی گئی،مچھ سے بیشتر علاقوں کا زمینی راستہ بھی منقطع ہوکر رہ گیا،ڈیرہ اللہ یار کے قریب سندھ بلوچستان کی سرحد پر سم شاخ کو 20 فٹ کا شگاف پڑگیا۔
انتظامیہ نے بروقت اقدام اٹھاتے ہوئے شگاف کو پْر کرکے شہر کو سیلاب سے محفوظ کر لیا،قلات کے علاقے نیمرغ میں طوفانی ہواوں اور بارش نے تباہی مچادی، کلی کاریز اور کالونی میں تیار فصلیں تباہ، زمینداروں کو نقصان،دکی میں بارش کے باعث کمرے کی چھت گرنے سے 5سالہ بچی زخمی ہوگئی،ڈیر ہ مراد جمالی شدید بارشوں کے بعدپہاڑوں سے آنے والے سیلابی ریلے نے نصیر آباد کی تحصیل چھتر کے کئی دیہاتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا لوگوں نے محفوظ مقامات پر نقل مکانی کرنا شروع کر دی ڈیرہ مراد جمالی ٹو چھتر زیر تعمیر روڈ بھی سیلابی پانی میں بہہ گیا چھتر کا ڈیرہ مراد جمالی سے زمینی ر ابطہ منقطع ہوکر رہ گیا۔
صحبت پور اورگردونواح میں دودن سے جاری بارشوں نے تباہی مچادی ہے۔جس کے باعث صحبت پور،مانجھی پور، فرید آباد،حیردین،سعیدآبادسمیت مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیداکردی ہے۔مسلسل بارش سے ندی،نالوں میں طغیانی آگئی ہے۔جس سے حیردین ڈرینج،آعظم خان ڈرینج،بھنڈڈرینج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔اوستہ محمدمیں بھی بارشوں نے تباہی مچا دی اوستہ محمد میں بارش دوسرے روز بھی جا ری رہی، املاک کو نقصان پیپلز مل میں سنیٹری اور مٹھائی کی دکان کی چھت گر گئی۔
تفصیلات کے مطابق ضلع خضدارمیں دیوار گرنے سے بچہ جاں بحق جبکہ بچی سمیت تین افراد زخمی پولیس کے مطابق جمعرات کے روز سونیجی کوشک خضدار میں بارش کے باعث خستہ حال دیوار گرنے سے محمد امین ولد آغا جان قوم آقا خیل جاں بحق ہوگئے جبکہ مسما باغان محمد عمر محمد طاہر زخمی ہوگئے نعش کو ضروری کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کردیا گیا جبکہ زخمیوں کو گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہیں۔ضلع لسبیلہ کے علاقے لاکھڑا میں حالیہ بارشوں سے آنے والے سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی،موضع جیزن،موضع چانکارہ،موضع اوبہ نمبر1،علی محمد گوٹھ،وڈیرہ غلام رسول موسیانی گوٹھ، و دیگر کئی علاقے زیر آب آگئے۔
موضع جیزن میں واقع لاکھڑا پیر قبرستان میں موجود قبروں کو بھی سیلابی ریلے نے شدید نقصان پہنچایا، لاکھڑا شہر سے یوسی ہاڑہ سیٹھار و علی محمد انگاریہ گوٹھ کا راستہ بالکل منقطع لوگ اشیائے خوردونوش کو محتاج ہوگئے۔ہرنائی میں شدید بارش اورسیلابی ریلہ آنے کے باعث ہرنائی کوئٹہ شاہراہ کھوسٹ کے مقام زیارت کچ کے قریب بند ہوگئی جس کے باعث سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں۔بولان،ڈھاڈر،سنی شوران،مچھ، سمیت دیگر علاقوں میں وقفے وقفے سے جاری بارشوں نے تباہی مچادی۔
دریائے ناڑی میں اونچے درجے کا سیلاب ایک لاکھ چونتیس ہزار کیوسک کا ریلہ مٹھڑی وئیر کے مقام سے گزرنے سے قرب جوار کے علاقوں کو سیلاب سے شدید خطرہ،ضلعی انتظامیہ نے مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کیلئے قریبی مساجد میں اعلانات،ایریگیشن حکام کی جانب سے ہیوی مشینری پہنچادی گئی،مچھ سے بیشتر علاقوں کا زمینی راستہ بھی منقطع ہوکر رہ گیا،ڈھاڈر،سنی بالاناڑی میں کچے مکانات کے مہندم ہونے کی مصدقہ اطلاعات تاہم کسی قسم کی جانی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
تفصیلات کے مطابق دوروز سے جاری وقفے وقفے سے بارشوں نے ڈھاڈر،بولان،بالاناڑی،سنی سمیت دیگرگردنواح کے علاقوں میں تباہی مچادی ہے بارشوں سے متعدد علاقوں میں کچے مقانات کی منہدم ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ ایکسئین ایریگیشن کچھی میر عبد الظاہر مینگل کے مطابق دریائے ناڑی میں مٹھڑی وئیر کے مقام سے انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلہ جوکہ ایک لاکھ چونتیس ہزار کیوسک ہے گزر رہاہے جس سے نشیبی علاقے حاجی شہر،بھاگ شہر سمیت قریبی ملحقہ دیہاتوں کو خطرہ لاحق ہوا ہے۔
جس کیلئے مقامی انتظامیہ نے مکینوں کو محفوظ مقانات پر منتقل ہونے کیلئے اعلانات بھی کیئے ہیں جبکہ سیلابی ریلہ نے قریبی راستوں میں تیار فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے ایرگیشن کی جانب سے ہیوی مشینری پہنچادی گئی ہے تاکہ کٹ لگاکر مذکورہ شہروں کو سیلابی پانی سے بچایا جاسکے علاوہ ازیں ڈپٹی کمشنر کچھی مراد خان کاسی کے مطابق ضلع کچھی میں سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی ہے۔
بی بی نانی پل جو پہلے ہی متاثر تھا ابھی دوبارہ سیلابی پانی کی بہاو سے متاثر ہوا ہے جبکہ مچھ پل منہدم ہونے سے مچھ شہر کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہے جس کیلئے سیکرٹری موصلات نے گزشتہ روز متاثرہ پل کا دورہ بھی کیا تھا جبکہ بولا ن ندی میں سیلابی ریلوں کے خدشوں کی پیش نظر بولان میں ٹریفک کیلئے عوام غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں کیونکہ بولان قومی شاہراہ شدید بارشوں سے بری طرح متاثر ہوا ہے جسکی مرمت میں وقت لگے گا۔ڈیرہ اللہ یار کے قریب سندھ بلوچستان کی سرحد پر سم شاخ کو 20 فٹ کا شگاف پڑگیا۔
انتظامیہ نے بروقت اقدام اٹھاتے ہوئے شگاف کو پْر کرکے شہر کو سیلاب سے محفوظ کر لیا، ڈیرہ اللہ یار میں دو روز سے جاری تیز طوفانی بارشوں کے باعث سم شاخ کو سندھ بلوچستان کی سرحد کے مقام پر 20 فٹ چوڑا شگاف پڑ گیا پانی تیزی کیساتھ آبادی کی جانب بڑھنے لگا جسکے باعث ڈیرہ اللہ یار شہر کی گنجان آبادی کے بھٹی محلہ ابڑو کالونی ودیگر علاقے زیر آب آنے کا خدشہ پیدا ہوا اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر جعفرآباد رزاق خان خجک اسسٹنٹ کمشنر بلال شبیر نے ایری گیشن محکمہ بی اینڈ آر اور ڈرینیج کے افسران اور عملے ہمراہ ہیوی مشینری کی مدد سے شگاف کی جگہ پہنچ کر بروقت امدادی کارروائیاں شروع کرکے شگاف کو پْر کرکے شہر کو زیر آب آنے سے بچا لیا۔
شگاف کی اطلاع کمشنر نصیرآباد اور جیکب آباد کی انتظامیہ کو بھی دی گئی کمشنر نصیرآباد عابد سلیم قریشی اور ڈپٹی کمشنر جیکب آباد غضنفر علی قادری نے بھی شگاف کی جگہ پہنچ کر معائنہ کیا اور جعفرآباد انتظامیہ کی جانب سے بروقت اقدام کو سراہا مون سون کے دوسرے اسپیل میں تیز طوفانی بارشوں کے باعث ذیلی نہروں اور سم شاخ میں طغیانی آنے سے پانی کا دباو بڑھ گیا نہروں اور سم شاخ کے پشتے کمزور ہونے کی وجہ سے شگاف پڑنے کے خدشات بڑھ گئے تھے انتظامیہ نے نہروں اور سم شاخ کو شگاف پڑنے کے پیش نظر پیشگی ریڈ الرٹ کردیا تھا۔
اور ڈپٹی کمشنر دفتر میں ایمرجنسی سیل بھی قائم کردی جبکہ بارشوں کے دوران کسی بھی آفت سے نمٹنے کے لیے محکمہ ایری گیشن ڈرینیج اور بی اینڈ آر کو تمام مشینری اور اسٹاف کو الرٹ رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔قلات کے علاقے نیمرغ میں طوفانی ہواوں اور بارش نے تباہی مچادی، کلی کاریز اور کالونی میں تیار فصلیں تباہ، زمینداروں کو نقصانات، تفصیلات کیمطابق گزشتہ روز نیمرغ کاریز کالونی سمیت اردگرد کے علاقوں میں طوفانی بارشوں اور ہواوں کی وجہ سے ٹماٹر پیاز و دیگر فصلوں کو شدید نقصان پہنچا۔ اور زمینداروں کو لاکھوں کا نقصان ہوا۔ انہوں نے وزیر اعلی جام کمال، وزیرداخلہ میر ضیا لانگو دیگر حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے نمائندے نیمرغ روانہ کرکے نقصانات کا جائزہ لیکر زمینداروں کے نقصانات کا ازالہ کرے۔
دکی میں بارش کے باعث کمرے کی چھت گرنے سے 5سالہ بچی زخمی ہوگئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق شدید بارش کے باعث غریب آباد کے علاقے میں گھر کے کمرے کی چھت گر گئی جس کے نتیجے میں 5سالہ بچی یاسمین بی بی دختر سیف اللہ شدید زخمی ہوگئی جسے فوری طور پر سول ہسپتال دکی منتقل کردیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی جارہی ہے۔ڈیر ہ مراد جمالی شدید بارشوں کے بعدپہاڑوں سے آنے والے سیلابی ریلے نے نصیر آباد کی تحصیل چھتر کے کئی دیہاتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
لوگوں نے محفوظ مقامات پر نقل مکانی کرنا شروع کر دی ڈیرہ مراد جمالی ٹو چھتر زیر تعمیر روڈ بھی سیلابی پانی میں بہہ گیا چھتر کا ڈیرہ مراد جمالی سے زمینی ر ابطہ منقطع، بلوچستان میں حالیہ بارشوں کے باعث پہاڑی علاقوں سے آنے والا سیلابی ریلہ نصیر آباد کی تحصیل چھتر میں داخل ہو گیا جس سے تحصیل چھتر کے کئی دیہات دیگر زیر آب آ گئے جن میں کنڈی کے دیہات بھی شامل ہیں۔
سیلابی ریلے کے باعث کئی گھر پانی کی زد میں آ گئے اور لوگوں نے محفوظ مقامات پر منتقل ہونا شروع ہو گئے ہیں سیلابی ریلے کے باعث ڈیرہ مراد جمالی ٹو چھتر زیر تعمیر روڈ کا کافی حصہ بھی سیلابی پانی میں بہہ گیا جس سے تحصیل چھتر کا ڈیرہ مراد جمالی سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ڈپٹی کمشنر حافظ محمد قاسم کاکڑ نے ربیع پل کے مقام پر آنے والی سیلابی ریلے کا معائنہ کیا ضلعی انتظامیہ نے چھتر کے مختلف علاقوں میں امدادی سر گر میاں شروع کر دی ہیں ڈپٹی کمشنر حافظ محمد قاسم کاکڑکا کہنا ہے کہ اس سیلابی ریلے سے ڈیرہ مراد جمالی شہر کوئی بھی خطرہ نہیں اس سیلابی ریلے کو ربیع کینال کی طرف موڑ دیا جائے گا۔
صحبت پور اورگردونواح میں دودن سے جاری بارشوں نے تباہی مچادی ہے۔جس کے باعث صحبت پور،مانجھی پور، فرید آباد،حیردین،سعیدآبادسمیت مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیداکردی ہے۔مسلسل بارش سے ندی،نالوں میں طغیانی آگئی ہے۔جس سے حیردین ڈرینج،آعظم خان ڈرینج،بھنڈڈرینج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔اورپانی کے تیزبھاؤ کی وجہ سے ان سم نالوں میں کٹاؤ کی وجہ سے پشتیں کمزورہورہی ہیں۔جب کہ دیگر کینالزمیں مانجھوٹی کینال،اوچ کینال،نصیرشاخ کینال اور چھوٹی بڑی ڈسٹری بیوٹریز میں بھی طغیانی ہے۔
اوران کینالزکی پشتیں بالکل کمزورہیں۔صحبت پور شہرکے وسط سے گزرنے والی سم کینال میں بھی پانی کے بھاؤکی اضافے کی وجہ سے سیم کینال کے پشتیں جمالی محلہ،ڈی پی او آفس، گوٹھ سردارخان اور کنرانی محلہ کے مقام پر انتہائی کمزورہیں۔پشتیں کمزورہونے کی وجہ سے شگاف پڑنے کا خطرہ برھ گیاہے۔شہریوں نے اپنے مددآپ کے تحت سیم نالے کی پشتوں پر مٹی ڈالناشروع کردی ہے۔جب کہ محکمہ ایریگیشن کے افسران و عملہ خواب خرگوش کت مزے لوٹنے میں مصروف۔کسی بھی کینال یاسیم نالے پر ایریگیشن عملہ نظرنہیں آرہا۔
جب کہ حکومت کی جانب سے سالانہ بجٹ میں ان پشتوں کی مرمت کی مدمیں کروڑوں روپے مختص کیئے جاتے ہیں جوکہ صرف کرپشن کی نظرہوجاتے ہیں۔اگرفوری طورپر سیم نالوں،اورکینالزکے پشتیں مضبوط نہیں کیئے گئے تو علاقہ ایک بڑی آبی تباہی سے نہیں بچ سکے گا۔اوستہ محمدمیں بھی بارشوں نے تباہی مچا دی اوستہ محمد میں بارش دوسرے روز بھی جا ری رہی، املاک کو نقصان پیپلز مل میں سنیٹری اور مٹھائی کی دکان کی چھت گر گئی، دکان میں پڑے ہوئے سامان کو نقصان پہنچاجبکہ گھروں، دکانوں کے دیواروں کو نقصان ہوا۔
پیپلز مل مین قائم مٹھائی اورسنیٹری کی دکان کی چھت گر گئی جس سے کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا لیکن مالی نقصان ہو الاکھوں کے سامان ملبے خراب ہو گیا، جبک روڈ بازار میں پانی جھل کا منظر پیش کرنے لگا اور پانی نکاسی کا کوئی بندو بست نہ کیا گیا میونسپل کمیٹی کے چیف آفیسر اور عملہ غائب عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔