|

وقتِ اشاعت :   September 16 – 2020

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی ہدایات کی روشنی میں اہم معاملات پر قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کچھ دیر میں ہوگا۔

حکومت اور اپوزیشن نے اپنے اپنے اراکین کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔مشترکہ اجلاس میں انسداد منی لانڈرنگ بل، اسلام آباد متروکہ وقف املاک بل اور دیگر بل منظوری کےلیے پیش کیے جائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کیلئے ایوان میں پہنچ گئے ہیں جبکہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور بلاول بھی ایوان میں موجود ہیں۔

قبل ازیں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ آج کےاجلاس کی اہمیت سمجھیں، پاکستان کے لیے ایف اے ٹی ایف بلز کو منظور کرانا ہے، تمام ارکان مشترکہ اجلاس میں اپنی حاضری یقینی بنائیں۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کے شور شرابے کے باوجود اسلام آباد وقف املاک بل 2020 کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

بل کے مطابق وفاق کےزیرانتظام علاقوں میں مساجد، امام بارگاہوں کے لیے زمین وقف کرنے سے پہلے رجسٹرڈ کرانا ہوگی،  مدارس اور دیگر فلاحی کاموں کے لیے زمین وقف کرنے سے قبل رجسٹر کرانا ہوگی۔

بل کے مطابق حکومت کو وقف املاک پر قائم تعمیرات کی منی ٹریل معلوم کرنے اور آڈٹ کا اختیار ہوگا،  وقف کی زمینوں پر قائم تمام مساجد، امام بارگاہیں، مدارس وغیرہ وفاق کے کنڑول میں آجائیں گی، وقف املاک پرقائم عمارت کے منتظم منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے تو حکومت انتظام سنبھال سکے گی۔

بل کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو ڈھائی کروڑ روپے جرمانہ اور 5 سال تک سزا ہوسکے گی، حکومت چیف کمشنر کے ذریعے وقف املاک کے لیے منتظم اعلیٰ تعینات کرےگی، منتظم اعلٰی کسی خطاب، خطبے یا لیکچر کو روکنے کی ہدایات دےسکتا ہے، منتظم اعلٰی قومی خود مختاری اور وحدانیت کو نقصان پہچانے والے کسی معاملے کوبھی روک سکے گا۔