سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے وکلا نے ان کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کے لیے تحریک جمع کرادی جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد کے خلاف اس دعوے کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ انہوں نے سابق سعودی انٹیلی جنس عہدیدار کے قتل کے لیے ہِٹ اسکواڈ کو حکم دیا، جبکہ امریکی عدالت میں الزامات سے انہیں استثنیٰ حاصل ہے۔
106 صفحات پر مشتمل یہ مقدمہ اگست میں سابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف کے جلاوطن سابق ساتھی سعد الجبری کی طرف سے دائر کیا گیا تھا۔
شہزادہ محمد بن نائف کو 2017 میں شاہی محل میں بغاوت کے دوران برطرف کردیا گیا تھا، جس کے بعد شہزادہ محمد بن سلمان ملک کے عملی طور پر حکمران بن گئے تھے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سعد الجبری نے دعویٰ کیا کہ انہیں بطور معاون اور اعلیٰ انٹیلی جنس عہدیدار کے طور پر کچھ ایسی معلومات ملی جو محمد بن سلمان کے لیے خطرہ بن سکتی تھی، جس پر سعودی ولی عہد نے نام نہاد ‘ٹائیگر’ ہٹ اسکواڈ کے ذریعے ان پر قاتلانہ حملہ کرایا۔