|

وقتِ اشاعت :   January 22 – 2021

دالبندین: دالبندین بازار میں کمسن بھکاریوں کی بھرمار،معزز شہریوں کا جینا حرام تفصیلات کے مطابق دالبندین شہر گذشتہ کئی ہفتوں سے کمسن بھکاریوں کا آماجگاہ بنا ہوا ہے ان بھکاریوں میں چھوٹے عمر کے بچے اور بچیاں شامل ہیں جو کہ بازار کے فٹ پاتھوں پر چلنے والے لوگوں یا ہوٹلوں میں بیٹھے ہوئے معزز شہریوں کی ناک میں دم کر بیٹھے ہیں صبح سے لے کر شام تک کمسن بھکاری لوگوں کے سامنے نہ صرف ہاتھ پھیلاتے ہیں۔

بلکہ لوگوں کی قمیض یا چادر پکڑ کر زور زبردستی پیسے مانگتے رہتے ہیں اور بعض اوقات لوگ عاجز آکر پیسے دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں کمسن بھکاریوں کی دیکھا دیکھی میں اب یہ رجحان بہت سارے دیگر بچوں میں بھی پروان چڑھ رہا ہے۔بعض اوقات یہی کمسن بھکاری بازار میں واقع دکانوں سے سامان وغیرہ اٹھاکر چوری کی وارداتوں میں بھی ملوث پائے گئے ہیں جن میں گھی کے ڈبے۔تھیلہ آٹا۔

برتن وغیرہ شامل ہیں ستم ظریفی یہ ہے کہ شہر کی انتظامیہ کمسن بھکاریوں کے خلاف اقدامات اٹھانے سے کیوں کتراتی ہے عوامی وسماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر چاغی آغا شیر زمان ایس پی چاغی پولیس۔

کیپٹن ر زوہیب محسن اور ایس ایچ او دالبندین عبدالستار سمالانی سے مطالبہ کیا کہ دالبندین بازار میں پھرنے والے کمسن بھکاریوں کو بیدخل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ لوگوں کو ذہنی کرب سے نجات مل سکے۔