|

وقتِ اشاعت :   January 23 – 2021

مستونگ: مستونگ میں گیس کا بحران بدستور جاری،خواتین و بچوں کی احتجاج دھرنا، اور جی ایم گیس سمیت دیگر کی طفیل و تسلیاں دھرے کہ دھرے رہ گئی، عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔

سوئی سدرن گیس کمپنی کو عوام کی تکلیف سے کوئی سروکار نہیں تفصیلات کے مطابق سردیوں کا سیزن و ہو یا گرمی کا مستونگ کے نواحی علاقوں کلی تیری کلی ریک کاریز سیف اللہ کلی جہیون کلی کنڈاوہ کلی سربند کوششکک و دیگر کلیوں میں گیس کی بحرانی کیفیت بدستور جاری ہے۔گیس کی انتہائی نا قصں اور لو پریشر کے باعث گیس کے چہولہے تو درکنار گیس کے بلب بھی جلنے کی قابل نہیں ہے۔

نواحی علاقوں میں صبح اور شام کے اوقات میں گیس بلکل غائب رہنے سے خواتین کو امور خانہ داری میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔متاثرہ علاقوں کے عوامی حلقوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے کہا کہ گزشتہ ماہ متاثرہ علاقوں کے عوام بلخصوص خواتین و بچوں نے قومی شاہراہ پر جنگل کراس کے مقام پر 4 گھنٹہ تک دھرنا دیا تھا۔احتجاج کے دوران سینٹر میر کبیر جان محمد شہی سابق ایم این اے سردار کمال خان بنگلزئی سردار عاصم جان سرپرہ اور سیاسی جماعتوں کے ضلعی قائدین سمیت اسسٹنٹ کنشنر نے آکر اس یقین دہانی پر روڈ کھلایا کہ ایک ہفتے کے دوران گیس بحران مسلے کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا مزکورہ احتجاج کو ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود مسلہ جوں کا توں ہے۔جبکہ گیس کے صوبائی اور مقامی آفیسران کو اس سنگین صورتحال کے بارے میں بھی آئے روز آگاہ کر رہے ہیں لیکن کوئی ٹس سے مس تک نہیں ہوئے۔۔۔ انھوں نے کہا کہ نواحی علاقوں میں گیس بحران کی وجہ سے اس سخت سردی میں ہمیں دانستہ طور پر گیس کی نعنت سے محروم رکھ کے سخت تکلیف اور پریشانی میں دھکیل دیا گیا ہے۔

جبکہ گیس نا پید ہونے سے لوگوں کی معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے سردی کے باعث بچے مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہے۔ایک طرف ہمارے علاقوں میں گیس بلکل نایاب ہوچکے ہے اور دوسری جانب گیس کمپنی صارفین کو ہزاروں اور لاکھوں روپے کی بل بھیجنے میں کوِئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہے۔

انھوں نے کہا ہم سینٹر میر کبیر جان محمد شہی سابق ایم این اے سردار کمال خان بنگلزئی سردار عاصم جان سرپرہ اور اسسٹنٹ کمشنر مستونگ سے اپیل کرتے ہے کہ اپنی وعدے اور اعلانات پر عمل در آمد یقینی بنا کر نواحی علاقوں میں گیس پریشر کی کمی کا مسلہ فوری طور پر حل کروا کر عوام کو اس عزاب سے چھٹکارہ دلائیں۔بصورت دیگر ہم سوئی سدرن گیس کمپنی کے لاپروائی کے خلاف ایک بار قومی شاہراہ بلاک کرنے پر مجبور ہونگے۔