|

وقتِ اشاعت :   February 28 – 2021

کوہلو: چھ ارب سے زائد کی لاگت سے تعمیر ہونے والا کوہلو سبی قومی شاہراہ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے اور غیر معیاری تعمیرات کے باعث زبوں حالی کا شکار ہے ٹوٹ پھوٹ اور مختلف مقامات پرپل بارشوں کے پانی میں بہہ جانے سے یہاں پرگزرنے والے مسافر بردار اور مال بردار گاڑیوں کو شدید مشکلات درپیش ہیں ،کوہلوسے کوئٹہ چھ گھنٹے کاسفر سڑک کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے آٹھ سے دس گھنٹے میں طے کیا جارہا ہے۔

عوامی حلقوں کا سڑک کی فوری مرمت کا مطالبہ رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی تعاون سے کوہلو سے تلی 168کلومیٹر طویل قومی شاہراہ جو چھ ارب سے زائد کی خطیر رقم سے تعمیر ہوئی تھی اورسابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اس وقت کے وزیراعلی نواب ثناء اللہ زہری کے ہمراہ گُرانڈ وڈھ کے مقام پر بین الصوبائی قومی شاہراہ کاافتتاح کیا تھا جو پانچ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد ٹوٹ پھوٹ اور زبوں حالی کا شکار ہوگیا ۔

یہاں سے گزرنے والے مسافر بردار اور مال بردار گاڑیوں کو شدید مشکلات درپیش ہیںیہ سڑک پنجاب کو اندرون بلوچستان ملانے والے سب سے مختصراًاور قریب ترین شاہراہ ہے جو براستہ ڈی جی خان ،رکنی ،بارکھان ،کوہلو سے گزر کر سبی اور اندرون بلوچستان اور سندھ کو ملانے والا تین صوبائی قومی شاہراہ ہے جس سے بلوچستان کے پسماندہ اضلاع میں معاشی انقلاب برپا ہوسکتی ہے۔

اور یہاں کے رہنے والے لوگ بین الصوبائی سڑک کی تعمیر سے بڑی تعداد میں برسرروزگار آئیں گے رکنی ،کوہلو اور سبی صنعتی حب بن سکتے ہیں اگر موجودہ صوبائی اور وفاقی حکومت نے اس قومی شاہراہ پر توجہ دی تو یقینا یہاں کے مقامی افراد روزگار ،تعلیم ،صحت کے جدید سہولیات سے مستفید ہونگے ماہرین کے مطابق پنجاب کو بلوچستان اور سندھ کے متصل اضلاع سے ملانے والاتین صوبائی قومی شاہراہ پر موجودہ حکومت نے فوری توجہ دینی ہے۔

کیونکہ اس سڑک کی تعمیر سے نہ صرف تجارتی فاصلوں میں کمی آئیگی بلکہ بلوچستان کے پسماندہ شمال مشرقی اضلاع میں معاشی انقلاب برپا ہوگی یہاں کے رہنے والے افراد نا صرف جدید سہولیات سے استفادہ حاصل کریں گے بلکہ روزگار کے وسیع مواقع اور صنعتی شعبے میں تاریخی اضافہ دیکھنے کو ملے گی اس سلسلے میں موجودہ صوبائی اور وفاقی حکو متوں کو عوامی مفاد کے حامل اجتماعی ترقیاتی منصوبے پر خصوصی توجہ مرکوز کرنا ہے۔

تاکہ یہاں کے مقامی افراد کے ساتھ ساتھ دیگر صوبوں کے لوگوں کو بھی روزگار کے وسیع مواقع فراہم کئے جاسکے جس سے نہ صرف محرومیوں کا خاتمہ ہوگا بلکہ ملک کے معیشت پر بھی مثبت اثرات مُرتب ہونگے کوہلو کے عوامی سماجی سیاسی حلقوں نے وزیراعظم عمران خان ۔

وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی شاہراہ کی فوری مُرمت اور چاکر ندی میں زیر غور شاہراہ کی از سر نو تعمیر پر فوری عملدرآمد کرائیں تاکہ بین الصوبائی قومی شاہراہ پر مال بردار اور مسافر بردار گا ڑیوں کی آمدورفت کا سلسلہ شروع ہوسکے جس سے بلوچستان کے پسماندہ اضلاع میں روزگار کے وسیع مواقع دستیاب ہونگے اور علاقے میں خوشحالی و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا ۔