|

وقتِ اشاعت :   March 26 – 2021

کوئٹہ، : وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت پی ایس ڈی پی 22-2021 کے لیے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں، کانسپٹ پیپرز اور جنوبی بلوچستان ترقیاتی پروگرام سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات، وزیراعلی کے پرنسپل سیکرٹری اور متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس کو محکمہ سوشل ویلفیئر، لیبر، وومن ڈیویلپمنٹ اور اقلیتی امور کے نئی پی ایس ڈی پی کے لیے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں متعلقہ محکموں کے نئے ترقیاتی پروگرام 22-2021 کے لیے تجاویز اور کانسپٹ پیپرز زیر بحث آئے۔

اجلاس کو سیکرٹری سماجی بہبود نے بتایا کہ نئے مالی سال کے لیے کل 23 کانسپٹ پیپرز موصول ہوئے ہیں جن میں سے 12 کانسپٹ پیپرز سلیکٹ کئے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آئندہ مالی سال کے دوران 10 ہزار چنگ چی رکشہ کی فراہمی کا منصوبہ بنایا گیا ہے

جبکہ معذور افراد کے لیے خصوصی وین خریداری کا منصوبہ بنایا گیا ہے اسی طرح آئندہ پی ایس ڈی پی میں 400 ٹرائی موٹر سائیکل مستحق معذور افراد میں تقسیم کرنے کا منصوبہ کے لیے کانسپٹ پیپر تیار کیا گیا ہے۔

اجلاس کو سیکرٹری لیبر نے آئندہ مالی سال کے لیے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں سے متعلق بتایا کہ 23 ترقیاتی منصوبوں کے کانسپٹ پیپرز کلیئر کیے گئے ہیں۔ ہائی ٹیک ٹریننگ سینٹر کوئٹہ کی عمارت کی تعمیر کے منصوبہ کا کانسپٹ پیپر تیار کیا گیا ہے۔ سیکریٹری وومن ڈیویلپمنٹ نے اجلاس کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے متعدد منصوبے نئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیے جارہے ہیں۔

وومن ڈیویلپمنٹ سینٹرز قائم کرنے کے منصوبے کا کانسپٹ پیپر تیار کیا گیا ہے۔ نئے پی ایس ڈی پی میں تمام جیلوں میں وومن سہولت وارڈز ، لرننگ سینٹر اور وومن بیرکس کے منصوبے شامل کے جا رہے ہیں۔

محکمہ اقلیتی امور کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی ترقی کے منصوبے شامل کیے جارہے ہیں۔

وزیراعلی نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ لیبر کو ہدایت کی کہ آئندہ مالی سال کے لیے نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لیے انٹرن شپ پروگرام متعارف کرایا جائے۔ وزیراعلی نے کہا کہ ہنگلاج ماتا مندر اور کالی ماتا مندر قلات میں کرتار پور ماڈل کی طرز پر سہولت کا منصوبہ بنایا جائے۔