کوئٹہ: گرینڈ الائنس کے ملازمین کا دھرنا ساتھویں روز بھی جاری رہا دھرنے کے شرکاء نے آزادی نیوز کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن ضلع کوئٹہ کے صدر نظام الدین کاکڑ کا کہنا تھا حکومتی وفد کی جانب سے روز اول سے ہمارے دھرنے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا ہے دھرنے میں بیٹھے ہوئے لوگ نہ کسی کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔
نہ ہم انڈیا سے آئے ہیں اور نہ ہی اسرائیل کے باسی ہیں ہم یہاں اپنے گھر بار چھوڑ کر صرف اور صرف اس لیئے بیٹھے کے اس مہنگائی میں جب وزیر اعظم کا گزارا نہیں ہوسکتا ہے تو ہم غریبوں کا کیسے ہوگا افسوس کی بات ہمارے وزیر اعلیٰ جام کمال صاحب کو جو اعداد و شمار دیئے گئے ہیں جس میں وہ کہتے ہیں کہ اساتذہ کرام کو ڈیڑھ لاکھ روپے تنخواہ دی جارہی ہے وہ مجھے ایک سلپ دکھادیں۔
جس میں کسی استاد کو ڈیڑھ لاکھ روپے تنخواہ دی گئی ہوان کا کہنا تھا کہ جب ہماری سروس پینتیس سال ہوجاتی ہے تب جاکہ ہمیں ایک لاکھ روپے کی تنخواہ دی جاتی ہے اس میں بھی ہماری گریجیوٹی اور ریٹائر منٹ سے کٹوتی ہوتی ہے۔انکا کہنا تھا کہ جتنا ہمارے وزیر اعلیٰ اور انکے منسٹرز کے ایک دن کے پروٹوکول پر خرچ کرتے ہیں وہ ہماری ایک سال کے تنخواہ کے برابر ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس تناسب سے مہنگائی دن بدن بڑھ رہی ہے اسی مناسبت سے اگر ہمارے پانچ فیصد بھی تنخواہیں بڑھائی جاتی تو آج نہ کوئی دھرنا دیتا نہ کوئی یہاں پہ بیٹھا ہوتا ہرشخص اپنی اپنی ڈیپارٹمنٹس میں اپنے کام سر انجام دے رہے ہوتے۔انکا مزید کہنا تھا کہ کتنے نا اہلی کی بات ہے کے بلوچستان جیسے صوبے کا وزیر اعلیٰ کہتا ہے کہ ہمارا سسٹم اور ہماری حکومت نہیں چل پارہی کیونکہ ہماری معشیت کمزور ہے۔
سیندک اورگوادر کا مالک یہ کہتا ہے کہ ہمارے پاس خزانے میں ملازمین کو تنخواہ دینے کے پیسے نہیں ہے انکا مزید کہنا تھا کہ ہماری آپ سے کوئی دشمنی تو نہیں ہے ہم اپنا گھر بار چھوڑ کر یہاں بیٹھے ہیں آپ ہمارئے مسائل حل کرنے بجائے وزیراعلیٰ ہاؤس میں بیٹھ کر ٹوئیٹ کر کے ہماری زخموں پر نمک پاشی کررہے ہیں میں جام صاحب سے اپیل کرتا ہوں کے وہ یہاں آئیں یہاں انکی مائیں بہنیں بھائی بیٹھے ہوئے ہیں۔
آپ کا تعلق بھی ایک قبیلہ سے آپ بھی ایک نواب سردار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں آپ کیوں بلوچستان کی روایات کو پامال کررہے ہیں سی اینڈ ڈبلیو کے ملازمین کا کہنا تھا کہ ہم 361ملازمین ہے ہمیں بغیر کسی نوٹس کے برخاست کیا گیا ہیں ہماری عمر اب نہ کسی ادارے میں کام کرنے کی ہے اور نہ ہی ہم یہاں بیٹھے کسی سے بھیک مانگ رہے ہیں۔
ہم صرف اپنے حق کیلئے یہاں دھرنا دیے بیٹھے ہیں پچھلے چار ماہ سے ہم کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاج کررہے تھے ہمارے ساتھ حکومت کی جانب سے اسپیکر بلوچستان اسمبلی قدوس بزنجو نے مذاکرات کئے مگر کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے ملازمین کا کہنا تھا کہ ہم پر رحم کیا جائے ہم اس عمر میں بھیک بھی نہیں مانگ سکتے ہم کہاں جائیں۔