کوئٹہ:وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے کوئٹہ ویسٹرن بائی پاس روڈ، ڈیرہ مراد جمالی بائی پاس اور زیارت موڑ کچ ہرنائی سنجاوی روڈ کی تعمیر کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی کے حکمرانوں کے مقابلے میں وزیراعظم عمران خان نے بلوچستان کی ترقی اور اس کے عوام کے مسائل پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے وقتاً فوقتاً اپنے دوروں سے بلوچستان اور اہل بلوچستان کے معاملات میں اپنی ذاتی اور خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلی نے کہا کہ جب سے ہم نے حکومت سنبھالی ہے ہماری یہ کوشش رہی ہے
کہ بلوچستان کو ترقی کی ایسی راہ پر گامزن کیا جائے کہ جس کی منزل ایک خوشحال، پرامن اورترقیافتہ صوبہ ہو، جہاں عوام کو صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی، روزگار اور کاروبار کی تمام سہولتیں یکساں بنیادوں پر میسر ہوں۔
وزیراعلی نے کہا کہ یہ صرف ہمارا دعویٰ ہی نہیں اور نہ ہی کوئی خواب ہے بلکہ گذشتہ اڑھائی برسوں کے دوران ہم نے عملی طور پربھی ان اقدمات کو عملی شکل دینے کیلئے صحیح سمت میں پیشرفت شروع کررکھی ہے جس کے مثبت نتائج ہر شعبہ زندگی پر مرتب ہورہے ہیں اور صوبے کے عوام ان تبدیلیوں کا خود بھی مشاہدہ کررہے ہیں۔ وزیراعلی نے کہا کہ کوئٹہ شہرکی ترقی صوبائی دارالحکومت ہونے کی بناء پر ہماری ترجیحات میں شروع ہی سے شامل رہی ہے۔ کوئٹہ شہر کی ترقی کیلئے تقریباً40ارب روپے کے ترقیاتی منصوبہ جات جاری ہیں۔ اہم منصوبہ جات میں نئی سڑکوں کی تعمیر، فلائی اوور کی تعمیر، سپورٹس کمپلیکس، نئے پارکس کی تعمیر وغیرہ شامل ہیں۔
وزیراعلی نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے بلوچستان میں صرف تختیاں لگائی اور منصوبوں کے ٹینڈر جاری کیے لیکن عملی طور پر کوئی کام نہیں ہوا اور نہ ہی زمین پر کوئی کام نظر آیا۔ ہماری حکومت نے صوبے کے تمام علاقوں میں یکساں بنیادوں پر ترقیاتی عمل شروع کر رکھا ہے صوبے میں پہلی مرتبہ کارڈیک سنٹر یو اے ای گورنمنٹ کے تعاون سے تعمیر کر رہے ہیں یہ کارڈک سنٹر 120 بستروں پر مشتمل ہے جس کا 70 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے اسی طرح حکومت پہلی بار صوبے میں کینسر اسپتال تعمیر کر رہی ہے۔ بلوچستان میں پہلی مرتبہ ایسے ترقیاتی کام ہو رہے ہیں جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ بلوچستان کے وہ اضلاع جو پسماندہ رہ گئے ان کو ترقی دینے کے لیے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کر رہے ہیں۔
صوبے بھر میں ڈیمز بنائے جارہے ہیں۔ وزیراعلی نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جو وعدے کیے ہیں انہیں پایہ تکمیل تک پہنچا رہے ہیں آئندہ پی ایس ڈی پی میں پورے بلوچستان کے لیے منصوبے رکھے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی تعمیر وترقی میں تعاون اور خاص طور سے جنوبی بلوچستان کے اضلاع کیلئے ترقیاتی پیکج کے اعلانات پر ہم وفاقی حکومت کے مشکور ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ صوبائی حکومت کے وسائل کی کمی کو پیش نظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت صوبے میں اہم ترقیاتی منصوبوں خاص طور سے انفراسٹرکچر کی فراہمی میں فعال تعاون جاری رکھے گی۔
وزیراعلی نے وزیراعظم کی کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ہونے والے حادثات کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ کراچی تا کوئٹہ اور کوئٹہ تا چمن آرسی ڈی شاہراہ صوبے کی مصروف ترین شاہراہ ہے عرصہ دراز سے بلوچستان کے عوام اس شاہراہ کو دو رویہ کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ایک رویہ ہونے کے باعث اس شاہراہ پر حادثات کی شرح غیر معمولی طور پر بہت زیادہ ہے اب تو اس شاہراہ کو خونی شاہراہ کہا جانے لگا ہے۔
وزیراعلی نے کہا کہ انشاء اللہ بہت جلد اس شاہراہ کا دسمبر میں سنگ بنیاد رکھا جائے گا جو بلوچستان کے عوام کے لئے ایک بہت بڑا تحفہ ہو گا۔ وزیراعلی نے اس موقع پر وزیراعظم سے درخواست کی کہ کوئٹہ تا نصیر آباد شاہراہ کو بھی دو رویہ بنایا جائے۔ وزیراعلی نے کہا کہ میں زیارت موڑ۔کچ۔ہرنائی۔سنجاوی روڈ کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھنے پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور توقع رکھتے ہیں کہ اس سڑک کی مقررہ وقت میں معیاری تعمیر سے نہ صرف علاقے کے لوگوں کو آمدورفت میں آسانی ہوگی بلکہ مذکورہ علاقے کے پھلوں اور دیگر زرعی اجناس کو منڈی تک پہنچانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ کوئٹہ ویسٹرن بائی پاس کو دورویہ بنانے سے کوئٹہ کو مغربی علاقے سے آمدورفت اور نقل حمل میں آسانی پیدا ہوگی
جبکہ ڈیرہ مراد جمالی بائی پاس کی تعمیر سے بلوچستان کے اناج گھر کی عمومی ترقی اور پسماندگی کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے تمام اضلاع کی ترقی، صوبے بھر میں شاہراہوں کا جال بچھانے اور خود صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی ترقی میں آپ نے جس دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے ہم اس کیلئے آپ کے مشکور ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے خوشگوار تعلقات اور سرگرم تعاون کے نتیجے میں صوبے اور اس کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کی کوششیں بارآور ہوں گی۔
تقریب میں گورنر بلوچستان جسٹس ریٹائرڈ امان اللہ خان یاسین زئی، وفاقی وزراء مراد سعید، اسد عمر، محترمہ زبیدہ جلال، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری، ایم این اے میر خالد خان مگسی، نوابزادہ شاہ زین بگٹی، منورہ منیر، سینیٹر انوار الحق، سینیٹر منظور خان کاکڑ،سینیٹر عبدالقادر،سینیٹر دنیش کمار، تحریک انصاف بلوچستان کے صوبائی پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند، ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی سردار بابر خان موسی خیل، صوبائی وزراء، سردار صالح محمد بھوتانی، میر سلیم احمد کھوسہ، نور محمد دمڑ، انجینئر زمرک خان اچکزئی،میر ضیاء لانگو،میر اسد اللہ بلوچ، سردار عبدالرحمن کھیتران،میر عمر جمالی،صوبائی مشیر عبدالخالق ہزارہ،صوبائی مشیر حاجی محمد خان لہڑی،صوبائی مشیر ملک نعیم خان بازئی، پارلیمانی سیکرٹریز محترمہ بشریٰ رند، محترمہ ماہ جبین شیران، مبین خلجی، میر سکندر عمرانی،اراکین صوبائی اسمبلی نوابزادہ گہرام بگٹی، میر نصیب اللہ مری، قادر نائل، شاہینہ کاکڑ، لیلی ترین، ترجمان حکومت بلوچستان لیاقت شاہوانی، چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا ،انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر رائے سمیت دیگر دیگر متعلقہ حکام بھی شریک تھے۔