|

وقتِ اشاعت :   June 30 – 2021

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت اپنا کام جانتی ہے اور کر بھی رہی ہے اگر کسی کو حکومت سے کوئی رنج ہے تو اسے حکومت کی بدنامی کا باعث نہ بنائیں معلوم تھا کہ بجٹ سے متعلق بہت سے لوگ کہانیاں بنائیں گے بجٹ پر دلائل، اعداد وشمار کے ساتھ وضاحت دینے کے لئے تیارہوں، بجٹ کو یکجا کر کے کابینہ اور اسمبلی میں پیش کیا جاتا ہے۔

بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ پر پیش کیا گیا ٹی وی پر ایک تجزیہ کار کے الفا ظ اور زبان دیکھ کر تعجب ہوا ایسی زبان اور الفاظ صحافت جیسے مقدس پیشے کو زیب نہیں دیتی ، یہ بات انہوں نے اپنے ایک ویڈیو بیان اور ٹوئٹ میں کہی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک تجزیہ کار کی بات سن کر تعجب ہوا کہ جنہوں نے کہا مجھے صحت ، تعلیم سمیت بجٹ کی دیگر معلومات نہیں ہیں اور مجھے استعفیٰ طلب دینا چاہیے انہوں نے کہا کہ میری لند ن میں کوئی جائیداد نہیں ہے جسکا میں کوئی حساب کتاب دوں لند ن والے شاید کوئی اورلوگ ہیں جن سے میرا کوئی واسطہ نہیں انہوں نے کہا کہ بجٹ کے حوالے سے اسمبلی میں اڑھائی گھنٹے کی تقریر کی جس میں حکومت کی تین سالہ کاکردگی بجٹ کے تمام خد و خال ، آنے والے وقت کے لئے حکومتی اقدامات، حکمت عملی بیان کئے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ کو بجٹ سے متعلق معلومات نہ ہوں تو وہ اڑھائی گھنٹوں تک 37محکموں سے متعلق تفصیلی بات نہیں کرسکتا بجٹ بنانے میں پانچ ماہ کا وقت لگا اس دوران 40سیکٹرز کا جائزہ لیا اور تجاویز لیں ایک ایک اسکیم پر غور ، تجزیہ ،افادیت سمیت ہر پہلو پر غور کیا گیا انہوں نے کہا کہ جنوری سے لیکر جون تک جتنے اجلاس کئے انکی تفصیلات سامنے لائونگا بجٹ سے متعلق میری پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں ابہام پیدا ہوا سوال کے جواب میں میں نے کہا تھا کہ جس بجٹ کو حکومت یعنی کابینہ میںپیش نہیں کیا گیااس متعلق اپوزیشن کو کیسے معلوم ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہرمحکمے کو اپنے بجٹ کے خدو خال معلوم تھے لیکن بجٹ کی کتاب جسے جامع انداز میں یکجا کر کے کابینہ میں منظوری کے لئے پیش کیا جاتا اور بعد میں یہی بل اسمبلی میں بھی منظور کیا جاتاہے جب تک یہ بجٹ اور ہر انفرادی گرنٹ کو وزیر خزانہ اسمبلی میں پیش نہیں کرتے اس وقت تک اس کے مجموعی خدوخال معلوم کرنا ناممکن ہے حکومت بلوچستان کے بجٹ کو یکجا کیا جاتا ہے اور کتاب کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے جس کے بعد مجموعی طور پر ہر محکمے کو دیکھ کر تجزیہ کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ بجٹ کو یکجا کرنے کی ذمہ داری محکمہ خزانہ کی ہوتی ہے جو بجٹ کے تمام سیکٹرز اور محکموں کو یکجا کر تا ہے انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ کسی نے آدھا گھنٹا پہلے بجٹ دیا صوبائی حکومت نے بجٹ سازی میں طویل مشق کی ہے جسکی کسی بھی محکمے میں جا کر تصدیق کی جاسکتی ہے ہماری حکومت واحد صوبائی حکومت نے جس نے فنانس ایکٹ بنایا ہے۔

ہمیں منفی تاثرات کو تبدیل اور بے بنیاد تجزیے دینے سے گریز کرنا چاہیے ایسے تجزیے جو صرف برائی کی طرف لیکر جارہے ہیں مناسب نہیں ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت کے بجٹ کے حوالے سے کسی بھی موضوع پر بات کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن کسی بات پر کوئی رنج ہے تو اسے حکومت کے لئے بدنامی کا باعث بنائیں حکومت بلوچستان اپنا کام جانتی اور کر بھی رہی ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں مثبت پہلوئوں پر بات کرنی چاہیے ہم سے پوچھیں کہ بجٹ میں ہے کیا میں تفصیلات اور قائل کرنے کو تیار ہوں اگر ایسانہ کرسکوں تو اعتراضات کے حق بجانب ہوںلیکن ایک بیان کو بنیاد بنا کر کہنا کہ بجٹ کسی اور نے بنایا نامناسب عمل ہے انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ مطمئن نہیں ہونگے اور کہانیاں بنائیں گے مگر میں ان تمام چیزوں پر حقائق کے ساتھ وضاحت دونگا۔دریں اثناء وزیراعلیٰ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ اگر تجزیہ کار ٹی وی پر آکر ابہام آمیز باتیں کریں گے تو پھر صحافت جیسے مقدس پیشے کا اللہ حافظ ہے جس قسم کی گفتگو کی گئی ایسی گفتگو کوئی دیہاتی رپورٹر بھی نہیں کرتا میری بات کو غلط نہ لیا جائے اور اصلاح کر لیں لوگ تجزیہ کاروں کو روز سنتے ہیں۔

زبان اور لہجے کا ایسا معیار کسی بھی طرح تہذیب یافتہ معاشرے میں استعمال ہوتا ۔ دریںاثناء وزیراعلیٰ بلوچستان جا م کمال خان نے کہا ہے کہ بلوچستان کے فیصلے صوبائی حکومت کرتی ہے مداخلت کا تاثر غلط ہے اپوزیشن کو کسی نے گرفتار نہیں کیا وہ خود تھانے میں بیٹھے ہیں ،اپوزیشن کو خوف ہے کہ اگر حکومت نے ترقیاتی منصوبے مکمل کر لئے تو انکی سیاسی ساکھ ختم ہو جائیگی ،پی ٹی آئی ہماری اتحادی ہے انکے پارلیمانی لیڈر جو ناراض ہیں انکے حلقے کو بھی بڑی تعداد میں ترقیاتی پیکج دیا گیا ہے ،سردار یارمحمد رندکا استعفیٰ اب تک منظور نہیں کیاگیا ، پانچ سال میں وفاقی اور صوبائی منصوبے مکمل ہونے پر بہت حد تک محرومیوں کو دور کرنے میں کامیاب ہونگے۔

لیکن کچھ عناصر ایسے ہونگے جنہوں نے لال عینکیں پہنی ہیں تو انہیں پھر بھی لال دیکھے گا، 18ویں ترمیم کے تحت مالی، انتظامی خودمختاری اور اختیارات کی منتقلی ہوئی ہے صوبوں کو پیروں پر کھڑا ہونے میں وقت لگے گا، یہ بات انہوں نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی، وزیراعلیٰ جام کمال خان نے کہا کہ حکومت نے طویل المدتی حکمت عملی بنائی اور ہر بجٹ میں پانچ سے دس سال تک نتائج دینے والے منصوبے شامل کئے اس سال کے بجٹ میں 60فیصد حکومتی عملی اور 40فیصد ایسی اسکیمات شامل ہیں جو گزشتہ سالوں سے چلی آرہی ہیں ،انہوں نے کہا کہ پریس کانفرنس میں بیان کا غلط تاثر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 75ارب روپے کی اتھاریشن ہوئی جس کا 80فیصد خرچ کر چکے ہیں بلوچستان حکومت نے وفاق اور صوبوں کی نسبت گزشتہ دو سالوں میں سب سے زیادہ پیسے خرچ کئے پیسے لیپس نہیں ہوتے اور لیپس ہونے کی خبریں غلط ہیں انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومت کے مالی انتظامی امور کو جاننے کے لئے انکے ضمنی بجٹ کو دیکھا جاتا ہے موجودہ حکومت نے گزشتہ تین سالوں میں سب سے کم ضمنی بجٹ پیش کرکے نئی مثال قائم کی ہے محفوظ علی خان اور دیگر لوگوں سے سوال ہے کہ پچھلے تین سالوں میں صوبائی حکومت نے کم ترین ضمنی بجٹ پیش کیا لہذا یہ تین بجٹ اور آئندہ بجٹ میں ضمنی اخراجات مزید کم ہونگے انہوں نے کہا کہ صوبے کا بجٹ مختلف شعبوں میں جاتا ہے تعلیم کے لئے15.5، سڑکوں کے لئے 12فیصد بجٹ ،زراعت کے لئے 3.8،فیصد، صحت کے لئے 10،امن امان عدل و انصاف کے لئے 10فیصدبجٹ مختص کیا گیا۔

کھیلوں میں اس سال 7ارب روپے رکھے ہیں جبکہ گزشتہ سال ہم نے 35ارب کے کام شروع کئے ،سیاحت کے فروغ کے لئے رقم مختص کی گئی ، خواتین کی بہتری کے لئے پورے ملک میں بلوچستان کے جیسے پروگرام کہیں شروع نہیں ہوئے پہلے سال خواتین کے لئے تین ارب، دوسرے سال پانچ ارب اس سال 5.9ارب روپے رکھے ہیں خواتین کے لئے تربیت، معاشی بہتری کے مواقع پیدا کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے احتجاج کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ حکومت انکے حلقوں میں پیسے خرچ کر رہی ہے جس سے انہیں تکلیف ہورہی ہے گزشتہ حکومتیں صرف حکومتی حلقوں میں پیسے خرچ کرتی تھیں ہم نے بلوچستان کے تمام حلقوں کو یکساں توجہ دینے کی حکمت عملی بنائی ہے۔

کوئٹہ میں پانچ سیٹیں اپوزیشن کی ہیں،خضدار اور پشین کی تین تین سیٹیں اپوزیشن کی ہیں، قلعہ عبداللہ میں بھی اپوزیشن کی ایک نشست ہے صرف پشین میں میرے اپنے ضلع سے زیادہ پیسے خرچ ہور ہے ہیں اپوزیشن اس بات سے خوفزدہ ہے کہ پانچ سال اگر ہمارے حلقوں میں حکومت نے پیسے خرچ کر دئیے تو یہ سیاسی تباہی ہوگی میرا اپوزیشن سے سوال ہے کہ ہسپتال، اسپورٹس کمپلکس، تعلیمی ادارے حکومت یا اسکی اتحادی جماعتوں کے نہیں ہیں ان سے اپوزیشن کو بھی فائدہ ہوگا اگر حکومت انفرادی کام کرے تو اس پر اعتراض بجا ہے مگر پی ایس ڈی پی میں تمام اضلاع کے لئے کام ہورہا ہے۔

اپوزیشن کو خدشہ ہے کہ اگر حکومتی منصوبے مکمل ہوگئے تو انکی سیاسی ساکھ کمزور ہوگی جو کہ بہت حد تک کمزور ہوچکی ہے انہوں نے کہا کہ دو سالوں میں 35ارب روپے خرچ کئے ہیں مزید 15ارب خرچ ہونے کے بعد ہمارا پورٹ فولیو50ارب تک ہونے جارہا ہے انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت سے بہتر تعلقات کسی بھی حکومت نے اپوزیشن سے نہیں رکھے وہ الگ بات ہے کہ اپوزیشن یہ بات تسلیم نہیں کرتی حالیہ صورتحال صرف سیاسی ساکھ بچانے کے لئے پیدا کی گئی اپوزیشن دس دن سے تھانے میں بیٹھی ہے لیکن انکے حلقوں سے لوگ نہیں نکل رہے۔

پہلے اپوزیشن کا ایک رکن گرفتار ہوتا تھا تو پورا بلوچستان بند ہوجا تا تھا آج اپوزیشن کے ارکان اسمبلی پریس کانفرنس کر کے کہہ رہے ہیں کہ انکی جماعتیں غلط پالیسیاں بنا رہی ہے ،غلط امیدواروں کو سینیٹ میں بھیجا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں بلخصوص بی این پی مینگل جن دعووں کے ساتھ آئی تھی وہ اپنے موقف کو چھوڑ چکے ہیں ہم عوام کے حقوق کے لئے کام کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو ہم نے بند نہیں کیا بجٹ میں ہنگامی آرائی کے بعد ایف آئی آر کٹی کیونکہ وہ اسمبلی کے اند ر بہت سے لوگ لائے گئے جنہوں نے تور پھوڑ کی جس پر قانون نے اپنا کام کیا ایف آئی آر کے بعد ہم نے نہیں کہا کہ وہ گرفتاریاں دیں اپوزیشن ارکان خود تھانے میں جا کر بیٹھے ہیں۔

وہاں پریس کانفرنسیں کر رہے ہیں، دعوتیں کھا رہے ہیں مزے بھی لے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اسمبلی میں نہیں جائیں گے انہوں نے کہا کہ میں اپوزیشن سے معذرت جام کمال پر حملے کی نہیں چاہتا میں انکے ورکروں کی جانب سے اسمبلی کی بے عزتی اور تورپھوڑ پر چاہتاہوں ،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مبین خلجی، عمر جمالی، بابر موسیٰ خیل سمیت پی ٹی آئی کے دیگر ایم پی ایز کو بلا کر پوچھا جائے کہ کیا انہیں مجھ سے کوئی شکایت ہے پچھلے تین سالوں میں دیگر اتحادیوں کی طرح پی ٹی آئی کو بجٹ اور منصب دئیے گئے ہیں پی ٹی آئی ہماری اتحادی ہے انکے پارلیمانی لیڈر جو ناراض ہیں انکے حلقے کو بھی بڑی تعداد میں ترقیاتی پیکج دیا گیا ہے سردار یارمحمد رند نے استعفیٰ گورنر کو دیا ہے یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ اسے منظور کرتے ہیں یا نہیں سردار یار محمد رند نے کہا تھاکہ اسمبلی سے نکل کر خود گورنر کے پاس جائونگا لیکن وہ نہیں گئے اور اپنے بیٹے کے ذریعے استعفیٰ گورنر کو دیا میری معلومات کے مطابق استعفیٰ منظور نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے بلوچستان کی ترقیاتی پر خصوصی توجہ دی ہے جس پر انکے مشکور ہیں پانچ سال میں وفاقی اور صوبائی منصوبے مکمل ہونے پر بہت حد تک محرومیوں کو دور کرنے میں کامیاب ہونگے لیکن کچھ عناصر ایسے ہونگے جنہوں نے لال عینکیں پہنی ہیں تو انہیں پھر بھی لال دیکھے گا، انہوں نے کہا کہ افغانستان کے حالات کے بہت سے اثرات پاکستان اور بلوچستان پر آئیں گے حکومت بلوچستان امن و امان پر توجہ دے رہی ہے پولیس اور لیویز کی استعداد کار بڑھانے پر کام کر رہے ہیں اگر حالات خراب ہوں تو حکومت بلوچستان کے اپنے محکمے امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بہت سے ہاتھ ملوث رہیں گے۔

ہم ان عناصر سے مستقل مقابلہ کریں گے اور چیزوں کو آہستہ آہستہ بہتر کریں گے ہم سسٹم کو بہتر بنا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ عام تاثر ہے کہ حکومتی حلقوں کو کچھ اور لوگ کے چلانے اور حکومتی حلقوں سے باہر بیٹھے لوگوں کو مختلف عناصر مینج کر رہے ہیں ہمیں ان تاثرات سے باہر آنا ہوگاپانچ فیصد کو 70فیصد تک بڑھایا جاتاہے بلوچستان سندھ اور پنجاب سے مختلف ہے صوبے کے ساتھ افغانستا ن اور ایران کی سرحدیں ہیں یہ کشیدہ کا علاقہ بھی رہا ہے یہاں بہت سے معاملات ہیں جنہیں مختلف طرح سے دیکھا جاتاہے ہماری حکومت اور کابینہ صوبے کے فیصلے کرتی ہے سینیٹ انتخابات میں ہمارے فیصلے انکے عکاسی کرتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ عثمان کاکڑکی موت پر سوالات اٹھے جن پر حکومت نے بہتر انداز میں حل کیا عثمان کاکڑ کے لواحقین نے مطالبہ کیا کہ جوڈیشل انکوائری کروائی جائے جس پر حکومت نے کچھ نام رکھے اور بلوچستان ہائی کورٹ کے سینئر ججز کے نام منتخب کئے گئے تاکہ ایک اور پنڈوا بکس نہ کھلے ان ناموں پر کسی کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیے عدلیہ کو اعتماد کرنا چاہیے اور اگر چاہیں تو نام تبدیل کر دئیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسنگ پرسنز کے مسئلے کو حل اور بات کریں گے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس مسئلے پر کام کیا تین سالوں میں سب سے زیادہ مسنگ پرسن واپس آئے ہیں اب تک کئی لوگ مسنگ پرسنز کے طور پر شناخت بھی نہیںہوئے بعض فراری سینڈر ہوتے تو معلوم ہوتا ہے وہ بھی مسنگ پرسنز تھے اور ایسے لوگ بھی ہیں جو بیرون ملک گئے ہیں انکے نام بھی مسنگ پرسنز میں شامل ہیں بی این پی نے بہت سے لوگوں کا کہا کہ انکی وجہ سے لوگ بازیاب ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے تحت مالی، انتظامی خودمختاری اور اختیارات کی منتقلی ہوئی ہے زراعت، اعلیٰ تعلیم سمیت دیگر محکمے صوبوں کے پاس آئے جس سے صوبوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لئے وقت لگے گا انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی پوری کوشش کر رہی ہے کسی بھی چیز پر پچھتاوا نہیں ہے لیکن اگر اپوزیشن بجٹ کو غیر ضروری طورپر بجٹ عدالتوں میں لیکر گئی، صوبے میں استعداد کار کو بڑھانے میں بہتری کر سکتے ہیں،کورونا وائرس اگر نہ ہوتا تو آج صورتحال بہتر ہوتی انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومتیں سی پیک میں بلوچستان کو کچھ نہیں دلوا سکیں لیکن دو سالوں میں سی پیک میں رہنے والے بلوچستان کے منصوبے شروع کئے گئے ہیں