کوئٹہ: صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے گزشتہ مالی سال 75بلین روپے ریلیز کئے جن میں سے 97فیصد استعمال ہوئے ہیں فنڈز لیپس ہونے کا اپوزیشن کا دعویٰ بے بنیاد ہے حکومت نے ہمیشہ اپوزیشن کے جائز مطالبات کا خیال رکھا اپوزیشن ہم سے اتنی دور نہیں تھی جتنی وہ بتا رہے اور اب ہوگئے ہیں،بلوچستان کی عوام نے 2023تک مینڈیٹ دیا ہے جمہوری طریقے سے اپوزیشن کے احتجاج پر کوئی اعتراض نہیں،
اسمبلی میں جو کچھ کیا گیا وہ غیر جمہوری عمل تھا اپوزیشن عوام سے معافی مانگے، سردار یار محمد رند اتحادی ہیں وہ استعفیٰ واپس لیں انکے مسائل سنے جائیں گے۔ یہ بات انہوں نے سول سیکرٹریٹ کوئٹہ کے سکندر جمالی آڈیٹوریم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی، میر ظہور بلیدی نے کہا کہ نئے مالی سال کا 584ارب روپے کا بجٹ منظور کیا گیا جس میں غیر ترقیاتی مد میں 340جبکہ ترقیاتی مد میں 237ارب روپے رکھے گئے ہیں
صوبائی پی ایس ڈی پی 172ارب روپے کا ہے جبکہ وفاق سے 48ارب غیر ملکی امداد سے 16ارب روپے کے منصوبوں پر عملدآمد ہوگا انہوں نے کہا کہ اپوزیشن بجٹ خرچ نہ ہونے کی خبریں پھیلا کر عوام میں ابہام پیدا کرنا چاہتی حکومت نے مالی سال 2018-19میں 94فیصد، جبکہ 2020-21میں 75ارب روپے ریلیز کئے جن میں سے 97فیصد فنڈز استعمال ہوئے صرف 1.8ارب روپے ایسے ہیں جو مختلف وجوہات کی بناء پر استعمال نہیں ہوسکے، انہوں نے کہا کہ 30ارب روپے کا تھرو فاروڈ اس مالی سال میں آگے بڑھایا ہے صوبائی حکومت تھرو فاروڈ کو 288ارب سے کم کرکے 200ارب پر لائی ہے جبکہ ماضی میں صوبہ اوور ڈرافٹ پر جاتا تھا
اس سال 859اسکیمات مکمل ہونگی جبکہ گزشتہ مالی سال میں 1647اسکیمات کو مکمل کیا گیا ا نہوں نے کہا کہ بجٹ کو سیمنٹ سریے کا بجٹ کہنے والوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ موجودہ حکومت نے مائنز اینڈ منرلز کے لئے 1ارب 49کروڑ، فشریز کے لئے 3ارب، تعلیم کے لئے 18ارب ر وپے مختص کئے ہیں،ترقی نسواں کے لئے 62کروڑ، محکمہ کھیل کے لئے 5ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ صوبے بھر میں سڑکوں اور ڈیمز کے منصوبے بھی بجٹ کا حصہ ہیں انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال میں کم قیمت پر ہاؤسنگ اسکیم،نواجوانوں کے لئے روزگار پروگرام،ہر ضلع میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کالونی، کولڈ اسٹوریس سمیت دیگر اہم منصوبے بھی بجٹ کا حصہ ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے الزامات میں صداقت نہیں ہے پولیس نے اپوزیشن ارکان کے نام ایف آئی آر سے خارج کردئیے ہیں
اب انکے احتجاج کا کوئی جواز نہیں ہے 18جون کو پور ی قوم نے دیکھا کہ جو جماعتیں جمہوریت کی دعویدار تھیں انہوں نے ہی جمہوری روایات کو پامال کرتے ہوئے اسمبلی کے گیٹ کو تالے لگائے، گملے پھینکے، نازیبا نعرے کسے جو کچھ اسمبلی میں کیا گیا وہ غیر جمہوری عمل تھا اس حرکت سے صوبے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا اپوزیشن نے اگر احتجاج کرنا تھا تو وہ اسمبلی کے اندر کرتی بجٹ پر اعتراضات پر کٹوتی کی تحریکیں لاتی اسمبلی تمام ارکان کی مشترکہ ہے اس پر تالے لگانے کا کسی کو حق نہیں ہے اپوزیشن اپنی حرکت پر معافی مانگے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے اگر ریکوزیشن اجلاس بلایاتو حکومت اس میں ضرور شرکت کریگی اور اپوزیشن کے اعتراضات کا جواب دیگی بجلی روڈ تھانے میں صحافیوں کے داخلے پر پابند ی سے لاعلم ہوں
البتہ پولیس نے حفاظتی طورپر یہ اقداما اٹھایا ہوگا ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ اتحادی جماعتوں میں تحفظا ت اور ناراضگیاں ہوتی رہتی ہیں سردار یار محمد رند اتحادی اور محترم شخصیت ہیں استعفیٰ دینا انکا ذاتی فیصلہ ہے وزیراعلیٰ نے بھی ان سے کہا ہے کہ وہ استعفیٰ واپس لیں ہماری کوشش ہوگی کہ وہ کابینہ میں واپس آجائیں انکے تحفظات سنے جائیں گے وہ ایک قد م آگئے بڑھائیں گے تو حکومت دو قد م آگے آئیگی انہوں نے کہا کہ بجٹ بنانا، پیش کرنا اور اسے منظور کروانا آئین کے آرٹیکل 120کے تحت حکومت کی ذمہ داری ہے کئی اسمبلی اجلاسوں میں بجٹ پر بات ہوئی مختلف شعبہ جات زندگی سے تجاویز لی گئیں بجٹ میں غیر منتخب افراد کو نوازنے کا الزام بے بنیاد ہے
کیا حکومت صوبے میں ضروریات کے مطابق کام نہیں کرسکتی اپوزیشن نے بجٹ کو پیش ہونے سے روک کر آئین اور اپنے اکابرین کی تعلیمات کی خلاف ورزی کی انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی وجہ سے کسی رکن نہیں بلکہ پوری اسمبلی کا استحقاق مجروع ہوا سینئر ارکان پر مشتمل ایک پارلیمانی کمیٹی بنا کر واقعہ کی تحقیقات ہونی چاہیے ذمہ داران اپنی غلطی پر عوام سے معافی مانگیں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے بجٹ کے حوالے سے کوئی بھی واضح مطالبہ نہیں کیا البتہ انکی جانب سے چہ مہگوئیاں کی گئیں حکومت نے اپوزیشن کے پاس مذاکرات کے لئے 4وفود بھیجے مگر اپوزیشن نے مذاکرات نہیں کئے
جمہوریت کے چمپئن بننے والے جمہوری طریقہ اختیار کریں عوام نے ہمیں 2023تک کا اکثریتی مینڈیٹ دیکر اسمبلی میں بھیجا ہے ہم عوام کے مینڈیٹ اور استحقاق کا احترام کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے جائز مطالبات کا خیال رکھتے رہے ہیں وہ اتنا دور نہیں تھے جتنے وہ اس وقت گئے ہیں اور ظاہر کر رہے ہیں۔