|

وقتِ اشاعت :   January 11 – 2022

اسلام آباد: سول ایوی ایشن ڈویژن نے ایوان بالا (سینیٹ) کو آگاہ کیا ہے کہ جعلی ڈگری پہ ملازمین کو بھرتی کرنے والے ریٹائرڈ افسران کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی ہے۔ یہ بات سول ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے سینیٹ کے وقفہ سوالات میں تحریری جواب کے ذریعے بتائی گئی ہے۔

ہم نیوز کے مطابق سینیٹ کے وقفہ سواالات میں سول ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے جمع کرائے جانے والے تحریری جواب میں ایوان بالا کو بتایا گیا کہ اب تک جعلی تعلیمی ڈگریوں پر 819 ملازمین کو ملازمتوں سے نکالا جا چکا ہے اور یہ کیسز ایف آئی اے کے سپرد کیے گئے ہیں۔

تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ جعلی ڈگری پر پی آئی اے کے 21 ملازمن کے کیسز پر کارروائی تاحال چل رہی ہے۔

ہم نیوز کے مطابق سول ایوی ایشن ڈویژن نے جمع کرائے گئے تحریری جواب میں کہا ہے کہ جعلی ڈگری والے ملازمین کو بھرتی کرنے والے افسران ملازمتوں سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔

اس ضمن میں سول ایوی ایشن ڈویژن نے وضاحت کی ہے کہ پی آئی اے قوانین کے تحت ان افسران کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی ہے۔

ہم نیوز کے مطابق اس موقع پر جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مشتاق احمد نے مؤقف اختیار کیا کہ جن افسران نے پی آئی اےمیں جعلی ڈگریوں پر ملازمین بھرتی کیے ان کے خلاف تو کرمنل کارروائی بنتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پہلے بتایا گیا تھا کہ جعلی ڈگری پر 1500 ملازمین کو نکالا گیا ہے۔