|

وقتِ اشاعت :   May 8 – 2022

سابق وزیراعظم عمران خان کو جب فارغ کیا گیا تو اول روز سے قارئین کے سامنے یہ نکتہ رکھتے آئے ہیں کہ مبینہ خط کے اندر کچھ نہیں ہے اور کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کے اندر مداخلت سازش یا دھمکی باقاعدہ تحریری طور پر لکھ کر نہیں بجھواتا جس کی ایک طویل تاریخ اورفہرست ہے، جہاں بھی رجیم چینج ہوا اور براہ راست امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے طاقت کا استعمال کیا وہ ہمارے سامنے ہیں جن میں بیشتر مسلم ممالک ہیں، البتہ جواز ضرور پیش کیا گیا اور خوفناک انداز میں ان پر حملہ آور ہوئے اور وہاں اندرون خانہ جنگی پیدا کی گئی۔

مگرسابق وزیراعظم عمران خان نے ایک مبینہ خط اسلام آباد کے جلسے میں لہراتے ہوئے کہا کہ ا مریکہ نے مجھے ہٹانے کے لیے پاکستان اور بیرون ملک میں سرمایہ کاری کرکے منصوبہ بندی کی اور مجھے ہٹایا گیا مگر گزشتہ دنوں سوشل میڈیا کے ایک انٹرویو میں سابق وزیراعظم پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کا کہناتھا کہ جولائی 2021ء میں ہی ان کو پتہ لگ چکا تھا کہ ان کے خلاف ن لیگ عدم اعتماد کے حوالے سے کام کررہی ہے ۔اس اعترافی بیان کے بعد امریکی خط کا جھوٹ واضح ہوجاتا ہے کہ کس طرح سے ملک میں ایک انارکی اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک جھوٹا بیانیہ بنایا گیا او ر جلسوں کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے عوام کو مکمل گمراہ کیا گیا، اصل حقائق سے بالکل عوام کو دور رکھا گیا تاکہ مکمل ہمدردیاں عمران خان کی طرف موڑی جائیں ۔

اب پی ٹی آئی کے قائدین تو اپنے کارکنان اور عوام کے سامنے اپنے چیئرمین کے اعترافی بیانات کا ذکر کرکے عوام سے گمراہ کن بیانیہ پر معافی مانگیںمگر ایسا پی ٹی آئی کے قائدین نہیں کرینگے بلکہ اب بھی ہٹ دھرمی کے ساتھ اسی بیانیہ کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے عام انتخابات کے لیے عوام میں مزید ہمدردیاں پیدا کرنے کی کوشش کرینگے ۔مگر اب عوام کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عمران خان کے بیانات کی سرجری کرکے نتیجہ پر پہنچ جائیں، کسی من گھڑت اور جھوٹے بیانیہ کا حصہ بننے کی بجائے ملک کے وسیع تر مفاد میں سوچیں۔ عمران خان اور اس کی جماعت لوٹا کریسی کا تذکرہ بھی باربار کرتی آرہی ہے جب پی ٹی آئی حکومت بنانے جارہی تھی تو کن کن جماعتوں کے اراکین کو جہاز میں بھر بھرکر ان کی وفاداریاں تبدیل کی گئیں تو کیا وہ لوٹاکریسی نہیں تھی؟ اصول اور نظریاتی کہلانے والے اپنے ماضی کی طرف بھی جھانکیں آج اداروں پر حملہ آور ہورہے ہیں

کل یہی ادارے پی ٹی آئی کے سر کے تاج تھے اور ایک پیج کا رٹا لگاتے ہوئے تھکتے نہیں تھے ،اب بھی اسی آسرے میں ہیں کہ انہیں موقع فراہم کیاجائے مگر اب بات بہت آگے نکل چکی ہے اس کے ساتھ ہی نئے کیسز بھی کھلنے جارہے ہیں آنے والے دن پی ٹی آئی کے لیے مزیدکڑے اور سخت ثابت ہونگے۔ جہاں تک امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بات ہے تو ڈونلڈٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے بعد ورلڈ کپ جیتنے کا ذکر اور جوبائیڈن کے کال کے انتظار کی باتیں ذہن نشین رہیں مگر پھر بھی عمران خان کہتے ہیں کہ امریکہ کو اب پاکستان میں جی حضوری کرنے والے مل گئے ہیں۔تاریخ تلخ ہے مگر یہ ایک اچھی اور مثبت سوچ ہے کہ دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے چاہئیں جی حضوری نہیں ہونی چاہئے مگر دشمنی کا متحمل بھی ملک نہیں ہوسکتا جس طرح سابق وزیراعظم عمران خان ڈونلڈٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے بعد بہت پرجوش دکھائی دے رہے تھے اور بتایا گیا کہ ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں تو اس ملاقات میں کیا حاصل کیا گیا تھا؟ جوبائیڈن کے کال کا انتظار کیونکر کیاجارہا تھا؟ اسے بھی صرف تعلقات کی نوعیت تک ہی دیکھا جاسکتا ہے مگر ہم کریں تو خودداری دیگر کریں تو غداری ! یہ ایک کھلاتضاد ہے۔