|

وقتِ اشاعت :   June 5 – 2022

سی پیک خطے کے لیے ایک گیم چینجر ہے اور اس کا مرکز بلوچستان گوادر ہے اب تک سی پیک سے جڑے جتنے بھی بڑے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل ہوئی ہے وہ سب بلوچستان کے باہر ہی ہوئے ہیں جبکہ بلوچستان میں کوئی ایک بڑا منصوبہ اب تک نہیں بنایا گیا ،ٹرانسپورٹ سے لیکر بجلی گھر تک بلوچستان میں نہیں بنائے گئے جس سے عوام کو اور صنعتکاروں کو فائدہ پہنچتا کیونکہ ٹرانسپورٹ نظام سے عوام کو سستی سفری سہولیات میسر آتیں جبکہ بجلی گھر لگنے سے صنعتوں سے تجارت کے ساتھ بڑے پیمانے پر عوام کو روزگار ملتا ۔

مگر افسوس اب تک بلوچستان میں سی پیک منصوبے کاغذی کارروائی کی حد تک محدود ہیں المیہ تو یہ ہے کہ گوادر خود جو سی پیک کامرکز ہے،پانی تک کی سہولت سے محروم ہے دیگر مسائل تو اپنی جگہ ہیں۔ بلوچستان کا سب سے پہلا حق سی پیک پر ہونا چاہئے تھا اور وفاقی حکومت کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے تھا مگر بلوچستان کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا،اسی وجہ سے گوادر حق دو تحریک شروع کی گئی، طویل دھرنا دیا گیا یقین دہانیاں کرائی گئیں کہ مسائل حل ہوجائینگے ،موجودہ حکومت جو اپوزیشن میں تھی گوادر حق دو تحریک کی مکمل حمایت کرتی رہی۔

اب حکومت میں ہے تو اب انہیں اس جانب توجہ خصوصی طور پر دینا ہوگی یہ نہ ہو کہ ماضی کی طرح محض اپوزیشن سیاست کے لیے بلوچستان کے لیے ہمدردیاں ظاہر کی جائیں۔ بہرحال وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے وزیراعظم شہباز شریف کی موجودگی کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام مسائل کو سامنے رکھا اور بلوچستان کامقدمہ پیش کیا ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے سی پیک کے تحت گوادر کے مختلف منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کی وجہ شہرت فوری فیصلے اور ترقی کے عمل کو تیز تر کرنے کے حوالے سے ہے۔

ہمیں یقین ہے کہ آپ گوادر کی ترقی کے منصوبوں کو بھی تیز رفتاری سے آگے بڑھاتے ہوئے انہیں پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے اور گوادر کو صحیح معنوں میں اس ملک اور صوبے کا اثاثہ بنائیں گے ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ ہم گزشتہ 20سال سے گوادر کی ترقی اور اس کی جغرافیائی و تجارتی اہمیت پر بات تو کرتے چلے آرہے ہیں لیکن بدقسمتی سے ان 20سالوں میں نہ تو گوادر کو قومی ٹرانسمیشن لائن سے منسلک کرکے اس کی بجلی کی َضروریات کو پورا کیا جاسکا ہے اور نہ ہی یہاں کے پانی کے سنگین مسئلے کا کوئی دیرپا حل نکالا جاسکا ہے جبکہ ایم 8-گزشتہ 15سال سے زیر تعمیر ہے ،اس صورتحال میں ہم کس طرح گوادر کے وسائل کو قومی اور صوبائی ترقی کیلئے بروئے کار لاسکتے ہیں ۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گوادر کا سب سے بڑا مسئلہ بجلی اور پانی کا ہے جس کے حل سے یہاں صحیح معنوں میں ترقی آسکے گی ۔وزیراعلیٰ نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ گوادر پورٹ کے مقامی ملازمین کو مستقل کیا جائے اور ان کیلئے مزید آسامیاں بھی پیدا کی جائیں، لوگوں کے دستیاب ذرائع معاش کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے ، بارڈر ٹریڈ کو مکمل طور پر کھولتے ہوئے پاک ایران سرحد پر مزید تجارتی گیٹ قائم کئے جائیں اور قومی شاہراہوں اور شہروں کے اندر وفاقی اداروں کی غیر ضروری چیک پوسٹوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان اپنے جغرافیائی محل وقوع اور اس سرزمین میں پائی جانی والی معدنیات کی وجہ سے انتہائی اہمیت کا حامل خطہ ہے ہماری آبادی کم اور وسائل بے پناہ ہیں اور آبادی کا یہ تناسب کسی بھی علاقے کی ترقی کے لئے خوش قسمتی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ابھی تک نہ تو ہم اپنی جغرافیائی اہمیت کا فائدہ اٹھاسکے اور نہ ہی ہم اپنی معدنیات کو عوام کی بہتری کے لئے استعمال کرسکے ،سی پیک کی شکل میں ہمیں اپنے دوست ملک چین کی طرف سے ایک موقع ملا ہے جو کہ مختلف شعبوں میں وسائل اور مہارت کی فراہمی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کی شکل میں ہے یقینا سی پیک ایک بڑا پروگرام ہے جس میں پورے ملک کے لئے منصوبے ہیں لیکن ان کے خیال میں اس کی اہمیت بلوچستان کے لئے کہیں زیادہ ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی پیک کے تحت ریل، روڈ، بجلی اور پانی کے منصوبے بلوچستان اور اس کے لوگوں کی تقدیر بدل سکتے ہیں لیکن اس میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ بلوچستان اہم ہے مگر اس کے لوگ اس سے زیادہ اہم ہیں، ہمیں اپنی منصوبہ بندی کرتے وقت اپنے لوگوں کو نہیں بھولنا چاہئے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ یہاں موجود ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے صنعتکارں، بیرون ملک سے آئے ہوئے سرمایہ کاروں اور اپنے چائینیز دوستوں سے گزارش کریں گے کہ بلوچستان کو بھی دنیا کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔

آپ آئیں بلوچستان میں سرمایہ کاری کریں ہم آپ کو خوش آمدیدکہتے ہیں ہم کوشش کررہے ہیں کہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے ماحول سازگار بنائیں ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے اپنی طرف سے حق تو ادا کردیا اب وفاقی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے پیش کردہ نکات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے تاکہ بلوچستان بھی ترقی کی رفتارمیں شامل ہوسکے، نظرانداز کرنے سے بلوچستان کی پسماندگی اور محرومیاں مزید بڑھیں گی، بلوچستان کے عوام کو قریب لانے کے لیے یہ بہترین موقع ہے تاکہ جوتلخیاں موجود ہیں ان کا کم ازکم کسی حد تک ازالہ ہوسکے تاکہ مستقبل میں اس کے مثبت اثرات سیاسی حوالے سے پڑسکیں۔