|

وقتِ اشاعت :   June 18 – 2022

حکومت بڑی مشکل میں پھنس گئی ہے۔ وفاقی وزراء کی جانب سے جس طرح کے بیانات معاشی صورتحال پر دیئے جارہے ہیں بالکل پی ٹی آئی کے ٹریک اور طرز کی ہیں، عوام سے اخراجات کم کرنے کی اپیلیں کی جارہی ہیں ۔یہی باتیں پی ٹی آئی کے وزراء کرتے رہتے تھے کہ آدھی روٹی کھائیں، دودھ کا استعمال کم کریں وغیرہ وغیرہ اب احسن اقبال جیسے ذمہ دار اور سنجیدہ سیاستدان بھی عوام کوچائے کم پینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

بہرحال یہ پہلی بار نہیں ہورہا کہ عوام سے قربانی دینے کے تقاضے کئے جارہے ہیں عوام تو پہلے سے ہی ملک کے قرضوں اور حکمرانوں کی شاہ خرچیوں کا بوجھ اٹھارہے ہیں جس کی براہ راست وصولی ٹیکس کی صورت میںکی جارہی ہے جوہرچیز پر ٹیکس دے رہے ہیں ،محدود وسائل میں مہنگائی کو گزشتہ کئی دہائیوں سے برداشت کرتے آرہے ہیں صرف اس امید کے ساتھ کہ آنے والا دن بہتر ہوگا مگر جس تیزی کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے ،عوام خوفناک مہنگائی میں دھنستے جارہے ہیں موجودہ حکومت کو جب یہ سب معلوم تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کیا شرائط طے کئے گئے تھے پھر پی ٹی آئی نے اس کی خلاف ورزی کی تو حکومت سنبھالنے کی بجائے الیکشن کی طرف چلے جاتے ۔

کم از کم موجودہ معاشی مسائل ان کے گلے نہ پڑتے مگر خواہش حکمرانی کی ہو تو پھر کیا برا کیا بھلا جو کچھ کرنا ہے اس کا ملبہ پچھلی حکومت پر ڈالنا ہے مگر اس سے اب ن لیگ کی ساکھ بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ پنجاب میں بڑا ووٹ بینک رکھنے والی ن لیگ سیاسی انجینئرنگ سے متاثر تو نہیں ہوئی مگر موجودہ گورننس سے بڑا دھچکا لگے گا کیونکہ عوام کی خواہشات اور توقعات کچھ اور تھے،لیکن نتائج کچھ اور ہی برآمد ہورہے ہیں، ستم یہ کہ آگے چل کر صورتحال کے مزید گھمبیرہونے کا خدشہ ہے ۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ ن لیگ موجودہ حکومت کو جاری رکھتے ہوئے مزید اپنی سیاسی ساکھ متاثر کرے گی یا پھر لندن پلان پر جائے گی جس میں نواز شریف نے واضح طور پر یہ کہہ دیا تھا کہ حکومت کرنے کی بجائے انتخابات کرائے جائیں تاکہ عمران خان کی بیڈ گورننس اور بدترین معاشی پالیسیوں کا ملبہ ہم پر نہ گرے جس سے سیاسی نقصان اٹھانا پڑے جس کا اب سامنا ہے۔