|

وقتِ اشاعت :   March 19 – 2024

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریکوڈک معاہدے میں بلوچستان کو سب سے زیادہ حصہ ملا ہے قوم پرست جس وزیراعلیٰ کو لائے اسی کے معاہدے پر اعتراض اب انہیں نہیں جچتا، بلوچستان سے تین سالوں میں 30ہزار نوجوانوں کو ہنر سیکھاکر بیرون ملک بھیجیں گے،

400ملین ڈالر کے منصوبے کے تحت سیلاب متاثرین کی بحالی کا کام جلد شروع کریں گے، مافیاء سے لڑائی مشکل ہے یہی لوگ سروس ڈیلیوری میں رکاوٹ ہیں انکا مقابلہ کریں گے ، مسنگ پرسنز کا مسئلہ بہت سیاسی بنادیا گیا ہے

اس پر ہر ایک کے اپنے اعداد وشمار ہیں ،کابینہ میں پاور شیئرنگ کا فارمولہ تاحال نہیں بنا 22مارچ کو اس حوالے سے پیش رفت کریں گے ۔یہ بات انہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں صحافیوں سے ملاقات اور افطار ڈنر کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔اس موقع پر ارکان اسمبلی حاجی علی مدد جتک، زرک مندوخیل، میر شعیب نوشیروانی، عبید اللہ گورگیج ،میر لیاقت لہڑی بھی موجود تھے ۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم سے بدنیتی ،بد دیانتی کی توقع نہ کی جائے ہم نظام کو ٹھیک کر نے جارہے ہیں سولین اور فوج کے کلچر میں ایک ہی فرق ہے کہ وہاں جب بھی کوئی عہدیدار آتاہے کوئی نہ کوئی بہتری لاتا ہے ہمارے یہاں چیزیں ہلچل کا شکار رہتی ہیں بلوچستان میں بھی گزشتہ کچھ سالوں میں سیاسی طور پر تبدیلیاں ہوئیں جبکہ وفاقی حکومت کے اثرات بھی یہاں مرتب ہوتے ہیں، صوبے میں امن و امان کا مسئلہ بھی درپیش ہے

جسکی وجہ سے معاملات بہتری کی جانب گامز ن نہیں تھے ۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ ہمارا چہرہ اور سب کا مشترکہ گھر ہے جام کمال خان کے دور میں یہاں سریاب روڈ سمیت دیگر سڑکوں کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا

جب عہدہ سنبھالا تو محسوس کیا کہ ایڈمنسٹریٹر اور کمشنر کی سوچ میں واضح فرق موجود ہے جس کے بعد 2ماہ کے لئے کمشنر کوئٹہ کو شہر کی بہتری کا ٹاسک دیا ہے کوئٹہ میں ڈیڑھ لاکھ ٹن کچرہ ٹھکانے لگانا ہے ،ٹریفک کا مسئلہ ہے ، دیواروں پر وال چاکنگ اور جھنڈے بنے ہوئے ہیں ہم نے ٹریفک کے نظام کی بہتری کے لئے اقدامات شروع کردئیے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں صحت کے شعبے میں 80ارب روپے خرچ کئے جاتے ہیں مگر اس سے متوسط اور غریب طبقے کے افراد کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات نہیں ملتیں

انتے پیسوں میں ہر مریض کا قومی سطح کے اچھے ہسپتال میں علاج ممکن ہے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں صحت سیکرٹری کو ذمہ داری دی ہے کہ وہ سندھ اور خیبر پختونخواء طرز پر ریفامز لائیں ، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سمیت دیگر معاملات کے حوالے سے تجاویز بنائیں ۔ انہوں نے کہا کہ میرے جتنے بھی رشتے دار ڈاکٹر ہیں سب کو کہا ہے کہ وہ ڈیرہ بگٹی جاکر فرائض سرانجام دیں ، صوبے کے مختلف علاقوں میں ڈاکٹر ہی موجود نہیں ہوتے بدقستمی سے صوبے میں ڈاکٹر او ر استاد ڈیوٹی نہیں کرتے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ صنعت و افرادی قوت کے ساتھ بلوچستان کا مستقبل وابستہ ہے آج انکے سیکرٹری کو بریفنگ میں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ انکے محکمے میں منصوبے کہاں چل رہے ہیں

سیکرٹری کو تین دن کا وقت دیا ہے کہ صوبے کے ٹیکنیکل ٹریننگ اسکولوں کو پبلک پرائیویٹ پارنٹر شپ میں چلانے کے لئے تجاویز لائیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت اس سال 1ہزار نوجوانوں کو ٹرین کرنے جارہی ہے تاکہ وہ بیرون ملک جا کر اپنے لئے روزگار تلاش کریں اگلے دو سالوں میں 30ہزار بچوں کو ہنر سیکھائیں گے ،سعودی حکومت سے 1ہزار خدام بلوچستان کے غریب گھرانوں سے لینے کی سفارش کی ہے ، بلوچستان میں کوئی بھی ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر عالمی معیار کے مطابق اور الحاق شدھ نہیں ہے ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو تیار کر کے بیرون ملک بھیجیں تاکہ صوبے کی غربت میں کمی کی جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستنا میں موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ سنگین ہے موسمیاتی تبدیلی میں پاکستان کا دوفیصد حصہ ہے جبکہ بلوچستان کا اس میں کوئی بھی کردار نہیں لیکن صوبہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہے

آج ٹیکنالوجی کی مدد سے بارشوں کی پیش گوئی کی جاسکتی ہے ہم چاہتے ہیں کہ وزرات ماحولیاتی تبدیلی سمیت دیگر شراکت داروں کے ساتھ ملکر بہتری کریں ۔انہوں نے کہا کہ گوادرمیں ڈپٹی کمشنر نے پیشگی تیاریاں کرلی تھیں جس سے بارشوں سے نقصانات کم ہوئے بصورت دیگر گوادر میں حالیہ بارشوں سے بہت تباہی ہوسکتی تھی ۔ صوبائی حکومت پی ڈی ایم اے کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی تیاریاں کریگی ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں بلڈنگ کوڈ، اربن پلاننگ و ڈوپلمنٹ کی صریحا خلاف ورزیاں ہوئی ہیں ہم اس معاملے پر کابینہ کی کمیٹی بنائیں گے کہ کس طرح ہم سیلاب، زلزلے سمیت دیگر آفات سے نمٹ سکتے ہیں ہمیں اپنی زرعی زمینوں کا تحفظ اور پانی کے نظام کو بہتر بنانا ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ مافیاء سے لڑنا مشکل ہے صوبے میں انکی وجہ سے سروس ڈیلیوری نہیں ہورہی ہم پھر بھی انکا مقابلہ کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے سیلاب متاثرین کے لئے ملنے والے 400ملین ڈالر کے قرض کو بلوچستان کے لئے گرانٹ میں تبدیل کیا ہے جس پر انکے شکر گزار ہیں ہم نے 8ماہ بعد اسفند یار کاکڑ کو سیلاب زدگان بحالی کے منصوبے کا پروجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کیا ہے اس منصوبے کے تحت گھروں، سڑکوں ، بندات کی تعمیر کی جائے گی، جلد ہی اس کا اجلاس ہوگا اور کام شروع کردیا جائے گا ۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان صحت کارڈ اچھا منصوبہ ہے اسے مزید بہتر بنائیں گے ، جعلی بلنگ کا مسئلہ برطانیہ کو بھی درپیش ہے ہم بتدریج مسائل کو بہتر بنائیں گے ۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ کابینہ کے حوالے سے اتحادی جماعتوں کی قیادت کی کوئی بات چیت نہیں ہوئی 22مارچ کو ہونے والے اجلاس میں اتحادیوں سے وزارتوں کی تقسیم کے معاملے کو طے کریں گے توقع یہی ہے کہ 50سے 60فیصد وزراتیں اتحادیوں میں تقسیم ہونگی تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ سنگین ہے اور اب اسے بہت زیادہ سیاسی بنادیا گیا ہے

وفاقی حکومت کے مسنگ پرسنز کمیشن نے 87فیصد کیس حل کئے خود ساختہ گمشدگی اور جبری گمشدگی میں فرق کرنے کی ضرورت ہے ، یہ بھی طے کرنا ہوتا ہے کہ بندہ کس نے مسنگ کیا ہے لواحقین سب کے سانجھے ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز، ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ، سردار اختر مینگل نے الگ الگ اعداد و شمار پیش کئے ہیں اس مسئلے کو سیاسی بنادیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریکوڈک کا معاہدہ جو عبدالقدوس بزنجو کے دور میں ہوا اس میں بلوچستان کا سب سے زیادہ حصہ لیا گیا ہے اس معاہدے پر کوئی قوم پرست اعتراض نہیں کرسکتا کیونکہ جس وزیراعلیٰ نے یہ معاہدہ کیا اسے قوم پرست اور سردار اختر مینگل نے وزیراعلیٰ بنایا اب انہیں اعتراض نہیں ججتا ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے ہم نے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن ایک پولیس آفیسر کو لگانے کے لئے اقدامات کئے ہیں جبکہ اینٹی کرپشن کے ایکٹ میں ترمیم کر کے اسے بہتر بنائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ استاتذہ اور ڈاکٹر ڈیوٹی نہیں کرتے اس کا حل آسان ہے ہم تمام اسکولوں اور ہسپتالوں میں بائیومیٹرک مشینیں نصب کر یں گے اسسٹنٹ ایگزیکٹو افسران کو مختلف اضلاع میں ذمہ داریاں دینے کی بھی تجویز زیر غور ہے ۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے تمام سفارتکاوں کو افطار پر مدعو کر رہے ہیں جتنی بھی ہوسکے ہم بیرونی سرمایہ کاری لانے کی کوشش کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ کچلاک میں موٹر وے پولیس کا ڈرائیونگ اسکول ہے وہاں پر موٹروے پولیس کے ساتھ ملکر نوجوانوں کو ٹریننگ دیں گے اور اپنے نوجوانوں کو بیرون ملک ٹرک چلانے کے لئے بھی بھیجیں گے ،

اومان سمیت دنیا بھر میں مرد و خواتین نرسوں کی اشد ضرورت ہے ہم پڑھے لکھے نوجوانوں کو اس جانب بھی بھیجیں گے بیرون ملک بیٹھے لوگ نوجوانوں کو ورغلاتے ہیں ہم اپنے نوجوانوں کی استعداد کار میں اضافہ کر کے انہیں بہتر روزگار کی فراہمی اور غربت کے خاتمے کے لئے استعمال میں لائیں گے ۔