|

وقتِ اشاعت :   February 5 – 2026

کوئٹہ: حکومت بلوچستان کے معاون میڈیا اور سیاسی امور شاہد رند ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ و قبائلی امور حمزہ شفقات اور صوبائی وزرا ء حاجی علی مدد جتک ، بخت محمد کاکڑ، میر شعیب احمد نوشیروانی، حاجی ولی محمد نورزئی نے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کی کارروائیوں کو ناکام بنادیا گیا

افراتفری کے دوران فورسز کے 22جوان اور 36معصوم شہری شہید ہوے جبکہ 216دہشتگرد مارے گے تمام قومی شاہراہوں کو کھول دیا گیا کوئٹہ میں 100مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے حکومت نے تھانوں پر حملے کرنے والوں کی شناخت کرلی ہے جلد انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ حکومت بلوچستان کے ترجمان برائے سیاسی امور ومیڈیا شاہد رند نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں صوبے بھر میں فساد برپا کرنے کے دوران سیکورٹی فورسز کی جانب سے موثر کارروائی کی گئی اور کوئٹہ سمیت صوبے کے 12مقامات پر ہونے والے حملوں اور جوابی کارروائیوں میں سیکورٹی فورسز کے 22 جوان 36 معصوم شہری شہید جبکہ جوابی کارروائی اور آپریشن کے دوران 216 دہشت گرد مارے گئے انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ میں سرچ ، کومبنگ اور سینٹائزیشن آپریشن جاری ہے انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ کو 24 گھنٹوں میں کلیئر کرلیا تھا جبکہ نوشکی میں تھوڑا وقت لگا جس کی بنیادی وجہ حملہ آور عام معصوم شہریوں کے درمیان گھل مل کر کارروائیاں کررہے تھے

جس کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کوئٹہ میں آپریشن کے دوران گھروں سے اینٹی ایئر کرافٹ گن ، آر پی جی سمیت دیگر خطرناک ہتھیار ، اسلحہ ایمونیشن ملا ہے ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی نعشیں ہسپتال میں رکھی گئی ہے جن کی شناخت کا عمل جاری ہے کیونکہ اس وقت کوئٹہ اور نوشکی کے کچھ علاقوں میں آپریشن جاری ہے

اسکے علاوہ بلوچستان میں آپریشن مکمل ہوچکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان پہلے ہی لوگوں کو آگاہ کرچکے ہیں کہ جن خاندانوں کے بچے لاپتہ ہیں وہ سیکورٹی اداروں ، ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کریں تاکہ ایسے عناصر کا پتہ چل سکے کیونکہ قانون میں ایسے لوگوں کیلئے کارروائی کا جواز موجود ہے انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ تفتان قومی شاہراہ کی بحالی کا کام پی ڈی ایم اے کی ٹیمیں تواتر کے ساتھ کررہی ہے اور آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران قومی شاہراہ کو بحال کردیا جائے گا اس وقت بلوچستان کی تمام قومی شاہراہیں ٹریفک کی آمدو رفت کیلئے راستے بحال ہیںانہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں پولیس کے جوانوں نے واضح جواب دیا

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں تھانوں پر حملے کرنے والوں کی نشاندہی ہو چکی ہے اب ان کی گرفتاری کا عمل شروع کیا جائے گا ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ نوشکی قومی شاہراہ کو نقصان پہنچا ہے جس کی بحالی کا کام جاری ہے۔ انہوں نے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اور دیگر اعلیٰ حکام حملے کے دوران ریڈ زون میں موجود تھے اور اس وقت بھی سرچ ، کومبنگ آپریشن جاری ہے نیٹ کی بحالی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ میں آپریشن والے علاقوں کے علاوہ دیگر علاقوں میں آج رات نیٹ بحال کردیا جائے گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ تھریٹ مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں اسی لئے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی، آئی جی پولیس بلوچستان خود ریڈ زون کے مقامات پر موجود تھے۔اور سیکورٹی کی بہتری کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔

حملوں میں 2 خودکش خواتین جاںبحق اور جبکہ 3 خواتین حملوں میں مارے گئے۔انہوں نے بتایا کہ سیکنڈری کے ہونے والے امتحانات اور پولیو مہم معمول کے مطابق ہوں گی۔

اس موقع پر ایک سوال کے جواب ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ و قبائلی امور حمزہ شفقات نے بتایا کہ سپرنٹنڈنٹ نوشکی جیل جو حملے میں زخمی ہوئے تھے ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور ان کارروائیوں کے دوران بلوچستان کی 2 جیلوں پر حملے ہوئے ہیںاور حملوں کے دوران جیلوں سے فرار ہونے والے قیدیوں کی تلاش جاری ہے۔

اس موقع پر صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ 31 جنوری کو کوئٹہ سمیت صوبے کے 12 مقامات پر ہونے والے حملوں کے دوران ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذکرکے تمام زخمیوں کو سہولیات فراہم کی گئیں۔