|

وقتِ اشاعت :   February 8 – 2026

کراچی: وفاقی حکومت کا بلوچستان اور ایران و افغانستان سے ملحقہ سرحدوں کے تحفظ کے لیے انٹیلی جنس نیٹ ورک مضبوط بنانے اور ایک خصوصی فورس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بات صوبائی حکومت کے ایک عہدیدار نے بتائی۔یہ پیش رفت عرب نیوز کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق سامنے آئی ہے، جو اس اعلان کے چند دن بعد ہوئی جب کینیڈین مائننگ کمپنی بیرک مائننگ کارپوریشن نے کہا کہ وہ بلوچستان میں واقع اربوں ڈالر کے ریکوڈک تانبہ اور سونے کے منصوبے کے تمام پہلوؤں کا فوری اور جامع جائزہ لے گی۔

بیرک کا یہ فیصلہ گزشتہ ہفتے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کالعدم تنظیم کے حملوں کے بعد سامنے آیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے میڈیا اور سیاسی امور کے معاون شاہد رند نے عرب نیوز کو بتایا،”دہشت گردی کے ان واقعات کے پیش نظر صوبائی حکومت سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کر مکمل سیکورٹی نظام کو ازسرنو ترتیب دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس میں معدنی علاقوں کے لیے ایک علیحدہ فرنٹیئر کور کا قیام اور ایران و افغانستان دونوں سرحدوں کا تحفظ شامل ہے۔”عرب نیوز نے اس معاملے پر پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ سے رابطہ کیا، تاہم انہوں نے سوالات کا جواب نہیں دیا۔بلوچستان حکومت انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مزید مضبوط کرے گی اور خطے میں کام کرنے والی مائننگ کمپنیوں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھے گی۔شاہد رند کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے نہایت سنجیدہ ہے اور ریکوڈک کو صوبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا علمبردار سمجھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔حالیہ حملوں نے بظاہر بین الاقوامی سرمایہ کاروں، بالخصوص بیرک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جو بلوچستان میں دنیا کی سب سے بڑی تانبہ اور سونے کی کانوں میں سے ایک کو ترقی دے رہی ہے۔

بیرک کے ترجمان نے عرب نیوز کو ای میل کے ذریعے بتایاجیسا کہ ہم اپنی عوامی دستاویزات میں واضح کر چکے ہیں، بیرک ریکوڈک منصوبے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے، جس میں سیکورٹی انتظامات، ترقیاتی شیڈول اور سرمایہ جاتی بجٹ شامل ہیں۔5 فروری کو جاری کی گئی چوتھی سہ ماہی مالی رپورٹ میں بیرک نے کہا تھا کہ ریکوڈک منصوبے پر چوتھی سہ ماہی کے دوران سائٹ پر کام جاری رہا، تاہم سیکورٹی واقعات میں حالیہ اضافے کے باعث انتظامیہ منصوبے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔

بیرک کے ترجمان کے مطابق یہ جائزہ فوری طور پر شروع کیا جا رہا ہے اور مکمل ہونے پر اس سے متعلق آگاہ کیا جائے گا۔ریکوڈک منصوبے میں بیرک کا 50 فیصد حصہ ہے، جب کہ پاکستان کی تین وفاقی سرکاری ملکیتی کمپنیاں 25 فیصد اور حکومت بلوچستان بقیہ 25 فیصد کی شراکت دار ہے۔منصوبے سے 2028 میں پیداوار شروع ہونے کی توقع ہے، اور یہ پاکستان کے معدنی برآمدات بڑھانے اور مائننگ کے پسماندہ شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کی امیدوں کا مرکز ہے۔

بلوچستان میں سیکیورٹی خدشات کے باوجود، منصوبے سے منسلک ترقیاتی سرگرمیاں ملک کے دیگر حصوں میں جاری ہیں۔بیرک جلد پاکستان کی بندرگاہی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری شروع کرنے والی ہے تاکہ برآمدات کی تیاری کی جا سکے۔

کراچی میں واقع پورٹ قاسم پر پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل لمیٹڈ (پی آئی بی ٹی) جو ملک کی پہلی ڈرٹی بلک ٹرمینل ہے، ریکوڈک کی پیداوار کی ترسیل کے لیے مخصوص سہولیات فراہم کرے گی۔پی آئی بی ٹی کے چیف ایگزیکٹو شریق عظیم صدیقی نے عرب نیوز کو بتایا کہ بیریک 150 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے ایک شیڈ تعمیر کرے گی اور دیگر سہولیات کو اپ گریڈ کرے گی تاکہ 2028 میں پیداوار شروع ہونے پر تانبہ اور سونے کے کنسنٹریٹ کی ترسیل ممکن ہو سکے۔

بیرک کی پاکستانی ذیلی کمپنی، ریکوڈک مائننگ کمپنی نے گزشتہ ہفتے پی آئی بی ٹی کے ساتھ ایک برآمدی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت پہلے مرحلے میں 8 لاکھ ٹن تانبہ اور سونے کا کنسنٹریٹ برآمد کیا جائے گا، جبکہ دوسرے مرحلے میں یہ مقدار دگنی کر دی جائے گی۔2012 میں قانونی تنازعات کے بعد 2022 میں بحال ہونے والا ریکوڈک منصوبہ حکومت کے مطابق بلوچستان جو پاکستان کا سب سے بڑا مگر پسماندہ صوبہ ہے کے لیے ایک انقلابی سرمایہ کاری ثابت ہو سکتا ہے۔