اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس میں سانحہ ترلئی اور ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے تفصیلی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں دہشت گردی کی جڑیں ماضی کی عالمی جنگوں اور طاقتوں کی کشمکش سے جڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب روسی افواج افغانستان میں داخل ہوئیں تو دنیا کی بڑی طاقتیں اس جنگ میں شامل ہوئیں اور پاکستان فرنٹ اسٹیٹ بنا۔
اس جنگ کے نتیجے میں افغانستان تباہ ہوا، لاکھوں لوگ متاثر ہوئے اور بڑی تعداد میں مہاجرین پاکستان آئے۔اچکزئی نے کہا کہ دہشت گردی کا آغاز اس وقت ہوا جب خطے کو عالمی طاقتوں کی پراکسی جنگوں کا میدان بنایا گیا۔
ان کے مطابق عالمی قوتیں خطے میں اثر و رسوخ کی جنگ لڑتی رہیں جبکہ نقصان مقامی عوام نے اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک خطرناک اور ظالمانہ عالمی ماحول میں رہ رہے ہیں جہاں لوگوں کو قتل کی تربیت دی جاتی ہے۔
ان کے بقول دہشت گردی کا مستقل حل طاقت نہیں بلکہ عدل و انصاف ہے، کیونکہ بے انصافی معاشروں کو ٹکرا دیتی ہے اور بھائی کو بھائی کے خلاف کھڑا کر دیتی ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ملک کے اندر سیاسی اور جمہوری کمزوریاں بھی مسائل کو بڑھا رہی ہیں۔ ‘‘ہماری اس پارلیمنٹ کے پر اپنے ووٹ سے کاٹے گئے، ہم نے عدالتوں کے پر کاٹے، اخبارات کے پر کاٹے’’، انہوں نے کہا۔
ان کے مطابق اصل قیادت عوام میں سے نکلتی ہے اور ملک کو انصاف کے اصولوں پر چلانا ہوگا۔انہوں نے کسانوں کی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کا کسان اپنی پیداوار سڑکوں پر پھینکنے پر مجبور ہے، جو معاشی بدنظمی کی علامت ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ دنیا کی افواج کی طرح پاکستان کی افواج کو بھی پیشہ ورانہ انداز میں کام کرنا چاہیے، جبکہ اداروں کو سیاسی عمل میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔اپوزیشن لیڈر نے قومی حکومت کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ بٹھا کر قومی حکومت بنائی جائے جو متفقہ، آزاد اور شفاف انتخابات کرائے۔ ان کے مطابق ایسی حکومت، جو حقیقی عوامی تائید سے قائم ہو، دہشت گردی پر مؤثر قابو پا سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں خود بیٹھ کر بات کرنی ہوگی، اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا ہوگا اور ملک کو بچانے کے لیے اجتماعی طور پر راستہ نکالنا ہوگا۔