|

وقتِ اشاعت :   February 11 – 2026

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عظیم شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ وہ شہداء کے ورثاء کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک کنفیوژن پیدا کیا جا رہا ہے، بلوچستان کا سیاسی مسئلہ الگ ہے جبکہ دہشت گردی ایک علیحدہ مسئلہ ہے، دونوں کو آپس میں ملانا درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک منظم طریقے سے حالات خراب کیے گئے اور ہمارے معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بے روزگاری اور دیگر مسائل صرف بلوچستان کے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے مسائل ہیں۔ ہم نے کبھی سیاسی ڈائیلاگ سے انکار نہیں کیا، تاہم بندوق کے ذریعے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اگر دھاندلی کے الزامات ہیں تو میرٹ پر بات کی جائے، اسے دہشت گردی سے نہ جوڑا جائے۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ اسمبلی آئین کی بات کرنے کی جگہ ہے، یہاں اسمگلنگ کی اجازت دینے کی باتیں کی جا رہی ہیں جو افسوسناک ہیں۔ آئین پہلے ذمہ داری کی بات کرتا ہے، حقوق بعد میں آتے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ دہشت گرد ہندوستان کی پراکسی بن چکے ہیں اور بلوچ نوجوانوں کو لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا دہشت گردوں نے ایک بھی یونین کونسل آزاد کر لی ہے؟

وزیراعلیٰ نے گوادر میں حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پانچ مزدوروں کو گولیوں سے چھلنی کیا گیا، ان کا کیا قصور تھا؟ انہوں نے کہا کہ آئین کے بعد نیشنل ایکشن پلان سب سے اہم ہے اور اس پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ عناصر مذہب کا نام استعمال کر رہے ہیں۔ آج اپوزیشن ایوان میں موجود نہیں، لیکن ہم اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ بندوق اٹھانے والوں سے بات نہیں کریں گے جو معصوم لوگوں کا خون بہا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو محرومی کے ساتھ جوڑنے سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہوگا۔ گوادر میں 66 ارب روپے خرچ کیے گئے اور ایک بھی اسکول بند نہیں ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گرد افغانستان میں بیٹھ کر اس قوم کو مرعوب نہیں کر سکتے، اور بارود سے راستے تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔