کوئٹہ: کوئٹہ میں تین لاپتہ نوجوانوں کے اہلِ خانہ نے پیر کے روز الگ الگ پریس کانفرنسز کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے بیٹے یا بھائی کا کسی مسلح تنظیم سے تعلق ثابت ہوا تو وہ اس سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں اور اس سے کسی قسم کا تعلق نہیں رکھتے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کلی لوڑ کاریز کے رہائشی قادر بخش نے کہا کہ ان کا 24 سالہ بیٹا بالاچ گزشتہ دس ماہ سے لاپتہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اہلِ خانہ نے متعدد بار مقامی تھانوں بشمول سیٹلائٹ ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کرانے کی کوشش کی، تاہم کوئی باقاعدہ مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وسیع پیمانے پر تلاش کے باوجود اب تک بیٹے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔ قادر بخش نے کہا، ’’اگر میرا بیٹا کسی مسلح تنظیم میں شامل ہوا ہے تو میرا اور میرے خاندان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘
ایک اور پریس کانفرنس میں کلی بائزئی سریاب کے رہائشی نذیر احمد شاہ نے بتایا کہ ان کا بیٹا شاہ فیصل گزشتہ ڈھائی ماہ سے لاپتہ ہے۔ ان کے مطابق شاہ فیصل 5 دسمبر 2025 کو گھر سے نکلا تھا اور واپس نہیں آیا۔ نذیر شاہ، جو ریلوے لیویز میں ملازم ہیں، نے کہا کہ ان کے بیٹے کا موبائل فون بند ہے اور تمام تر کوششوں کے باوجود اس کا سراغ نہیں مل سکا۔ انہوں نے بھی واضح کیا کہ اگر شاہ فیصل کا کسی عسکری تنظیم سے تعلق ثابت ہوا تو خاندان اس سے لاتعلقی اختیار کرے گا۔
ادھر بشیر احمد شاہوانی نے اپنے بھائیوں محمد طارق اور محمد جاوید کے ہمراہ صحافیوں کو بتایا کہ ان کا چھوٹا بھائی شہزاد احمد، جو کلی سردہ سریاب کا رہائشی ہے، خاندانی تنازع کے بعد تقریباً ایک سال سے لاپتہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سریاب تھانے میں اطلاعی رپورٹ درج کرائی گئی ہے، تاہم تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اہلِ خانہ نے کہا کہ وہ محنت مزدوری اور ڈرائیونگ کرکے اپنا گزارا کرتے ہیں اور اگر شہزاد احمد کا کسی مسلح تنظیم سے تعلق نکلا تو وہ اور ان کی بہنیں اس سے کسی قسم کا رشتہ نہیں رکھیں گے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں اس نوعیت کی متعدد پریس کانفرنسز ہوچکی ہیں جن میں خاندانوں نے اپنے لاپتہ بچوں کی ممکنہ عسکری سرگرمیوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔ یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب حکومت بلوچستان نے اعلان کیا کہ خاندان پہلے سے لاپتہ بچوں کی رپورٹ کریں اور اگر بعد میں وہ عسکریت پسندی میں ملوث پائے جائیں تو باضابطہ طور پر لاتعلقی ظاہر کریں، بصورت دیگر اہلِ خانہ کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔