|

وقتِ اشاعت :   March 26 – 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور حیران کن دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی قیادت، جس کے ساتھ ان کی انتظامیہ مذاکرات کر رہی ہے، نے انہیں ایران کا نیا سپریم لیڈر بنانے کی پیشکش کی تھی، تاہم انہوں نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔

بدھ 25 مارچ 2026 کو واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل ریپبلکن کانگریشنل کمیٹی (NRCC) کے سالانہ فنڈ ریزنگ ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے یہ “پیشکش” قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا، “کبھی بھی کسی ملک کے سربراہ نے ایران کی قیادت سنبھالنے کی خواہش اتنی کم نہیں رکھی جتنی میں نے رکھی۔”

انہوں نے مزید کہا، “ہم انہیں واضح طور پر سنتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم آپ کو اگلا سپریم لیڈر بنانا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا نہیں، شکریہ، مجھے یہ عہدہ نہیں چاہیے۔”

یہ تقریب ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران پہلے ہی دن ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی تھی۔

ٹرمپ اس سے قبل بھی دعویٰ کر چکے ہیں کہ ان کی انتظامیہ ایران کی قیادت کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے، تاہم ایران نے مذاکرات کی خبروں کو مسترد کیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق بات چیت “بہت بااثر افراد” کے ساتھ جاری ہے، لیکن انہوں نے کسی کا نام ظاہر نہیں کیا۔

اپنے خطاب میں ٹرمپ نے کہا، “ہم مشرق وسطیٰ میں ایران کے حوالے سے بڑی کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں مگر اپنے لوگوں کے ردعمل کے خوف سے اس کا اعتراف نہیں کر رہے۔ انہیں یہ بھی خوف ہے کہ یا تو ان کے اپنے لوگ انہیں مار دیں گے یا ہم۔”

تہران کا جنگ جاری رکھنے کا عزم

دوسری جانب تہران نے تصدیق کی ہے کہ اسے ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ 15 نکاتی تجویز موصول ہوئی، تاہم اسے مسترد کرتے ہوئے جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی شرائط بھی پیش کر دی ہیں۔

سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ایران امریکا کو جنگ کے خاتمے کے وقت کا تعین کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

عہدیدار کے مطابق، “ایران جنگ اسی وقت ختم کرے گا جب وہ خود مناسب سمجھے گا اور جب اس کی شرائط پوری ہوں گی۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی دفاعی کارروائیاں جاری رکھے گا اور مطالبات کی تکمیل تک دشمن کو “بھاری نقصان” پہنچاتا رہے گا۔

ایرانی حکام کے مطابق امریکا مختلف سفارتی ذرائع سے مذاکرات کی کوشش کر رہا ہے، تاہم تہران ان تجاویز کو “غیر حقیقت پسندانہ” اور زمینی حقائق سے متصادم قرار دیتا ہے۔

اس سے قبل بھی تہران امریکا کو جنگ میں کامیابی کے دعوؤں سے باز رہنے کی تنبیہ کر چکا ہے۔

خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا، “اگر خود کو سپر پاور کہنے والا ملک اس صورتحال سے نکل سکتا تو اب تک نکل چکا ہوتا۔ اپنی شکست کو معاہدہ قرار نہ دیں۔”