|

وقتِ اشاعت :   March 28 – 2026

کوئٹہ :  امیر جمعیت علمائے اسلام بلوچستان سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جے یو آئی کے ساتھ 2024 کے انتخابات اور اس کے بعد ہونے والے ضمنی انتخابات میں دھاندلی کا جو تسلسل جاری ہے، وہ اب خضدار میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں بھی واضح طور پر نظر آ رہا ہے،

جہاں خضدار کی قومی اسمبلی کی نشست NA-256 میں حکومتی اثر و رسوخ جس بے باکی، شدت اور تسلسل کے ساتھ سامنے آیا ہے وہ محض چند انتظامی بے ضابطگیوں کا معاملہ نہیں بلکہ جمہوری اصولوں، آئینی تقاضوں اور ادارہ جاتی غیرجانبداری کی کھلی اور سنگین پامالی ہے، انتظامی مشینری کا بے دریغ استعمال، سرکاری وسائل کی جانبدارانہ تقسیم، مقامی انتظامیہ پر واضح سیاسی دباؤ اور ووٹرز کی رائے پر اثرانداز ہونے کی منظم کوششیں اس امر کو پوری طرح آشکار کرتی ہیں

کہ انتخابی عمل کو دانستہ طور پر ایک مخصوص سیاسی نتیجے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جبکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں پر معنی خیز خاموشی، شکایات کے ازالے میں مجرمانہ غفلت اور بعض معاملات میں یکطرفہ و امتیازی کارروائیاں اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں

کہ متعلقہ ادارے اپنی آئینی ذمہ داریوں سے روگردانی کے مرتکب ہو رہے ہیں، اور الیکشن کمیشن جو غیرجانبداری، شفافیت اور آئینی بالادستی کا ضامن ہونا چاہیے اس پورے عمل میں ایک مؤثر محافظ کے بجائے عملاً سہولت کار کا کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے جس سے اس کی ساکھ بری طرح مجروح ہو چکی ہے، مزید برآں بلوچستان کے حالیہ ضمنی انتخابات مجموعی طور پر اسی طرزِ عمل کی عکاسی کرتے ہیں جہاں بظاہر الیکشن کمیشن کی نگرانی کے باوجود عملی طور پر حکومتی منشاء اور سیاسی مفادات کو فوقیت دی گئی، جس نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے کہ انتخابی عمل کو ایک منظم حکمتِ عملی کے تحت مخصوص سیاسی جماعتوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جو جمہوری روح کے منافی اور عوام کے حقِ رائے دہی پر براہِ راست ضرب ہے،

اور ہم حکومت کی مرضی و منشاء کے مطابق انتخابات کو آگے پیچھے کرکے اپنے لیے راہیں ہموار کرنے کے اس گھناؤنے کھیل کو کسی صورت قبول نہیں کرتے، جمعیت علمائے اسلام کے خلاف جاری یہ رویہ کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم، مربوط اور سوچی سمجھی سیاسی و انتظامی سازش کا تسلسل ہے

جس کا مقصد جماعت کی عوامی قوت کو محدود کرنا اور اس کے حقیقی مینڈیٹ کو مسخ کرنا ہے، اور خضدار کے ضمنی انتخابات کے حوالے سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے

کہ اگر انتخابی عمل واقعی آزاد، شفاف اور غیرجانبدار بنیادوں پر مکمل کیا جائے تو مخالفین نہ صرف واضح اور عبرتناک شکست سے دوچار ہوں گے بلکہ اپنی ضمانتیں ضبط کروانے پر بھی مجبور ہو جائیں گے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ایک تشویشناک منظر پیش کرتے ہیں جہاں سرکاری وسائل، انتظامی اثر و رسوخ اور غیر اعلانیہ دباؤ کے مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے جے یو آئی کو ہرانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے،

جو نہ صرف عوامی مینڈیٹ کی توہین بلکہ جمہوریت کے نام پر ایک سنگین فریب ہے، اور اگر یہی روش برقرار رہی تو اس کے نتائج دیرپا سیاسی عدم استحکام اور شدید عوامی ردِعمل کی صورت میں سامنے آئیں گے، لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ انتخابی ادارے فوری طور پر اپنی روش درست کریں اور مکمل غیرجانبداری و آئینی دیانتداری کا مظاہرہ کریں بصورت دیگر تاریخ انہیں جمہوری اقدار کی پامالی، عوامی اعتماد کی تباہی اور سیاسی نظام کو کمزور کرنے کے ذمہ دار کے طور پر یاد رکھے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *