خضدار: این اے 256 کی نشست پر آزاد امیدوار آغا شکیل احمد درانی نے کہا ہے کہ 05اپریل کے انتخاب کے لیے مکمل تیار تھے، التوا پر صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا
انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے خضدار کے ضمنی انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلے پر گہرے افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے خضدار کے عوام میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ حلقہ کے چند مخصوص علاقوں میں ووٹنگ کے عمل کے متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے گئے، تاہم مجموعی طور پر حالات پرامن اور انتخابی عمل کے انعقاد کے لیے سازگار تھے، اس لیے انتخابات کا ملتوی ہونا عوامی رائے کے اظہار میں غیر ضروری تاخیر کے مترادف ہے۔
آغا شکیل احمد خضداری نے کہا کہ وہ اور ان کی پوری ٹیم 5 اپریل کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے مکمل طور پر تیار تھے۔
انہوں نے کہا کہ این اے-256 خضدار کے شہری و دیہی علاقوں میں عوام نے جس جوش و خروش کے ساتھ ان پر اعتماد کا اظہار کیا، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام اپنے حقوق کے حصول کے لیے متحد ہوچکے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوتے تو ان کے مخالفین کو واضح شکست کا سامنا کرنا پڑتاانہوں نے اپنے کارکنوں، ہمدردوں اور اتحادیوں کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات، دباؤ، منفی ہتھکنڈوں اور مختلف رکاوٹوں کے باوجود جس ثابت قدمی، حوصلے اور وابستگی کا مظاہرہ کیا گیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے کارکنان نہ صرف ان کی انتخابی مہم کی ریڑھ کی ہڈی رہے بلکہ انہوں نے گھر گھر جا کر عوامی شعور بیدار کرنے، لوگوں کو منظم کرنے اور ایک مثبت سیاسی ماحول قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔آغا شکیل احمد خضداری نے کہا کہ وہ اپنے ہر کارکن، سپورٹر اور اتحادی کے جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں
جنہوں نے دن رات محنت کرکے اس تحریک کو مضبوط بنایا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے عوام کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھیں گے اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ ان کے حوصلے کو کمزور نہیں کرسکتی۔انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ اسی جذبے، اتحاد اور نظم و ضبط کے ساتھ آئندہ کے مراحل کے لیے بھی تیار رہیں کیونکہ ان کی جدوجہد صرف ایک انتخاب نہیں بلکہ خضدار کے بہتر مستقبل کی جنگ ہے
Leave a Reply