|

وقتِ اشاعت :   March 31 – 2026

کوئٹہ :  مسیح برادری کے سیاسی و مذہبی رہنماؤں پاسٹر آصف جان، پاسٹر ارشد جان، سابق رکن صوبائی اسمبلی انتیا عرفان، شہزاد کندن اور چوہدری زبیر سمیت دیگر نے لاہور میں 12 سالہ ماریہ نامی لڑکی سے جبری مذہب کو تبدیل کرکے کم عمری میں شادی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت دیئے گئے فیصلے پر نظر ثانی کرکے مسیحی برادری میں پائے جانے والے تحفظات کو دور کرے تاکہ اس طرح کا غلط اقدام اٹھانے والوں کا راستہ روکا جاسکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کم عمر بچی کے حقوق کو نظر انداز کیا گیا جس سے مسیحی برادری وفاقی آئینی عدالت پاکستان کے اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے اور قانونی اعتراض پر پر امن احتجاج کا اظہار کرتی ہے جو ایک مسیحی کم عمر لڑکی کی مبینہ شادی سے متعلق مقدمے میں فیصلہ دیا گیاہے۔

اس مقدمے کا بنیادی نکتہ ایک کم عمر بچی کی عمر، قانونی اہلیت اور تحفظ تھا تاہم عدالت کے فیصلے میں اس بنیادی سوال پر واضح اور حتمی رائے دینے کی بجائے ابہام پیدا کیا گیا ہے جس سے انصاف کے تقاضے متاثر ہوئے ہیں۔

ایک نہایت سنگین قانونی پہلو یہ بھی ہے کہ مجسٹریٹ نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ایک کم عمر بچی کا بیان اس کے قومی شناختی کارڈ یا مستند شناختی دستاویزات کی تصدیق کے بغیر ریکارڈ کیا یہ عمل بذات خود بچی کی عمر کے تعین پر سوالات کو جنم دیتا ہے اور قانونی تقاضوں کے برعکس ہے۔ دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق مذکورہ لڑکی کی عمر 12 سال 10 ماہ تھی جو اسے واضح طور پر کم عمر ثابت کرتی ہے اس حقیقت کے باوجود اس اہم نکتے کو نظر انداز کیا گیا اور اس پر کوئی واضح قانونی فیصلہ نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929ء کے تحت کم عمر فرد کی شادی ممنوع ہے ایسی کسی بھی شادی کو قانونی تحفظ حاصل نہیں ہوسکتا۔ کم عمر بچی کے بہتر مفاد کو مقدم رکھنا عدالت کی بنیادی ذمہ داری تھی جسے نظر انداز کیا گیا۔ ایک کم عمر بچی کی مبینہ رضا مندی قانوناً نا قابل قبول ہے لہذا دفعہ 164 کے تحت دیا گیا بیان کسی غیر قانونی عمل کو جائز نہیں بناسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ سے آئین پاکستان کے آرٹیکل 25,14,9 اور 36 میں دیئے گئے

بنیادی حقوق کے موثر تحفظ میں ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ دفعہ 491 کے تحت کارروائی مختصر نوعیت کی ہوتی ہے تاہم جہاں بادی النظر میں کم عمری اور غیر قانونی حراست جیسے سنگین مسائل موجودہوں وہاں عدالت کی ذمہ داری تھی کہ واضح مداخلت کرتی یہ فیصلہ واضح قانونی موقف اختیار کرنے کی بجائے ابہام پیدا کرتا ہے جو مستقبل میں ایسے مقدمات میں غلط تشریح اور کم عمر شادیوں کو جواز دینے کا سبب بن سکتا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس فیصلے کا فوری ازسرنو جائزہ لیکر کم عمری کے پہلو پر کم عمر بچی کے بیان کے طریقہ کار اور قانونی حیثیت کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور چائلڈ پروٹیکیشن قوانین پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ مسیحی برادری میں پائی جانے والی تشویش دور ہوسکے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سطح پر مسیحی برادری مشاورت کرکے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *