کوئٹہ: نیشنل پارٹی بلوچستان کے صدر اسلم بلوچ نے کہا ہے کہ پی پی ایل اے اور سوئی سدرن گیس کمپنی کا رشتہ بلوچستان کے ساتھ محض لوٹ مار کی حد تک ہے پی پی ایل اے کا سارا کاروبار بلوچستان جبکہ دفاتر کراچی میں ہیں ،
معمولی نوعیت کی مرمت کا سامان بھی بلوچستان میں دستیاب نہیں اب گزشتہ تین دن سے مغربی بائی پاس کے مقام پہ گیس پائپ لائن دھماکہ سے متاثر ہوا ہے پائپ کی مرمت کیلیئے پائپ کا ٹکڑا بھی کراچی سے منگوایا جارہا جو صرف بلوچستان کے عوام کو تکلیف دینا ہے انہوں نے کہا کہ گیس پائپ لائن پہ دھماکہ کرنا بجلی کے کھمبے اڑانے سے عام شہری ، مریض ، ہسپتال ، اسکول کے بچے اور بزرگ مردوخواتین ہی متاثر ہوتی ہیں اس لیئے اشرافیہ کو اس سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی اس کے لیئے متبادل ذرائع کی کوئی کمی نہیں
اس لیئے وہ قوتیں جن کا دعوی ہیکہ ساری قربانیاں ہم عوام کے لیئے دے رہے ہیں وہ گیس پائپ لائن اڑانے یا بجلی کے کھمبے گرانے کی پالیسی پہ نظر ثانی کریں کیونکہ بجلی کا ایک کھمبا گرنے پر جان بوجھ کر کیسکو بلوچستان کے عوام کو پندرہ دن اندھیرے میں رکھتا ہے جبکہ دو فٹ گیس پائپ لائن متاثر ہونے پر سوئی سدرن گیس کمپنی جان بوجھ کر ایک ہفتہ تک لوگوں کو گیس سے محروم رکھتے ہیں ان کا یہ سردمہری خود ان کمپنیوں کے عمل و کردار کو مشکوک بناتا ہے ،
اسلم بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کا روز اول سے یہ مطالبہ ہے کہ پی پی ایل کے دفاتر بلوچستان منتقل کیئے جاہیں اور پی پی ایل کے ساتھبجائے اس کے کہ دہاہیوں پرانے معاہدوں کی تجدید کی جائے بلکہ از سر نو معائدہ کیئے جاہیں انہوں نے واضع کیا کہ جب ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ وزیراعلی بلوچستان تھے انہوں نے پی پی ایل کے پرانے معائدے کی تجدید نہیں کی اور پی پی ایل پر زور دیا کہ ریونیو اور ملازمتوں میں بلوچستان کا حصہ بڑھا دیا جائے جس کے لیئے پی پی ایل تیار تھی ڈاکٹر مالک بلوچ کے حکومت کے اختتام کے بعد پی پی ایل سے گٹھ جوڑ کرکے پرانے معائدہ کی تجدید کی گئی جو بلوچستان کے عوام کے ساتھ ظلم اور ناانصافی کے مترادف ہے اسلم بلوچ نے مطالبہ کیا ہے کہ مغربی بائی پاس پر متاثرہ گیس پائپ لائن کو جلد مرمت کرکے گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
Leave a Reply