|

وقتِ اشاعت :   April 1 – 2026

کوئٹہ:  بلوچستان کے تیس سے زائد اضلاع میں تیز ہواؤں، گرج چمک کیساتھ بارش اور ژالہ باری کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا، منگل کے روز کوئٹہ،خضدار، قلات،سوراب،لسبیلہ،حب، کیچ،گوادر، قلعہ سیف اللہ،قلعہ عبد اللہ، ژوب، ہرنائی،لورالائی، کو ہلو، آواران،خاران،مستونگ، شیرانی، زیارت میں بھی تیزبارش اور سیلابی صورتحال پید ہوگی، سبی وگردونواح میں بارشوں کا سلسلہ رات گئے جاری رہا

جس کی وجہ سے موسم سرد ہوگیا جبکہ ہرنائی وگردونواح میں آنے والے سیلابی ریلے میں بابر کچھ کے مقام پر ایک مسافر پک آب ریلے میں بہہ گئی تاہم پک اپ میں سوار تینوں افراد محفوظ رہے بارش کے باعث دریائے ناڑی میں نچلے درجے کے سیلابی ریلے نے بکھٖڑا غلام بولک کے مقام پر بچاؤ بند کو جزوی نقصان پہنچایا

بارش کی صورت حال کی مانٹیرنگ کرنے کے لئے ڈپٹی کمشنر سبی میجر(ر) محمد الیاس کبزئی نے ضلعی انتظامایہ کو ہائی الرٹ کردیا اور سیلابی صورت حال کی سخت مانیٹرنگ شروع کردی انہوں نے سبی شہر وگردونواح میں بارشوں کا جائزہ لینے کے لئے بھی دورہ کیا۔تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات نے بلوچستان میں 33 اپریل تک شدید موسلا دھار بارشوں، آندھی اور ژالہ باری کے باعث بڑے پیمانے پر سیلابی صورتحال اور نقصانات کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق کو شمال مشرقی بلوچستان کے اضلاع ژوب، موسیٰ خیل، شیرانی، بارکھان، سبی، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، نصیر آباد، جھل مگسی، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، مستونگ، قلات، خضدار اور لسبیلہ میں پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کا شدید خطرہ ہے جبکہ تیز ہواؤں، آندھی، ژالہ باری اور آسمانی بجلی کے باعث کمزور ڈھانچوں جیسے بجلی کے کھمبے، بل بورڈز اور سولر پینلز کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق بدھ کو کوئٹہ، زیارت، چمن، پشین، نوشکی، پنجگور، تربت، کیچ، آواران، گوادر، پسنی، اورماڑہ، خاران، چاغی اور دالبندین میں وقفے وقفے سے تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ چند مقامات پر موسلا دھار بارش اور ژالہ باری کا سلسلہ جاری رہا۔ ضلع قلعہ عبداللہ میں شدید بارش اور تیز ہواؤں کے باعث ندی نالوں میں اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق ماچکا، آرامبی، باغک اور گلستان کاریز میں پانی کے بہاؤ میں خطرناک اضافہ ہوا۔ گلستان میں خواتین اور بچوں سمیت 15 افراد پر مشتمل ایک منی کوچ سیلابی پانی میں پھنس گئی جسے ریسکیو آپریشن کے ذریعے بحفاظت نکال لیا گیا، جبکہ مچکا ندی سے مزید دو گاڑیوں کو بھی ریسکیو کیا گیا۔

ضلعی انتظامیہ نے کسی جانی نقصان کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ تمام افراد محفوظ رہے۔ضلعی انتظامیہ نے ندی نالوں میں ہر قسم کی گاڑیوں کی آمد و رفت پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے پولیس کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے جبکہ دفعہ 144 پہلے ہی نافذ ہے۔ قلعہ عبداللہ کے مختلف علاقوں بشمول بازار، حبیب زئی، عبدالرحمن زئی، گلستان، آرامبی اور توبہ اچکزئی میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال بدھ کی رات گئے تک برقرار ہی اور ڈیموں و ندی نالوں کے پانی کی سطح کی مسلسل نگرانی کی گئی۔ادھر ضلع کچھی میں دریائے ناری کے پشتے میں شگاف پڑنے سے بلوچھانی کے علاقے میں فصلوں اور مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ہرنائی میں مسلسل تیسرے روز بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا

جس کے باعث کچے مکانات متاثر ہوئے ہیں۔ بابو محلہ میں ایک گھر کے کمرے کی چھت گرنے سے مویشی ملبے تلے دب گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث ہرنائی کا ملک کے دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے جبکہ ہرنائی-پنجاب، ہرنائی-کوئٹہ اور ہرنائی-سبی شاہراہیں بند رہی اس دوران ایک ڈبل کیبن پک اپ سیلابی ریلے میں بہہ گئی تاہم تمام مسافروں نے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچالی۔

ڈپٹی کمشنر کچھی ممتاز علی کھیتران کی صدارت میں ممکنہ فلڈ ایمرجنسی صورتحال کے حوالے سے اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر کچھی ممتاز علی کھیتران کی صدارت میں ڈی سی آفس کچھی میں منعقد ہوا جس میں مختلف محکمہ جات مواصلات و تعمیرات کچھی، محکمہ ایم ایم ڈی، ایجوکیشن، لوکل گورنمنٹ، محکمہ صحت، پولیس، ایریگیشن کے ضلعی سربراہان نے شرکت کی اجلاس میں حالیہ بارشوں کے پیش نظر درپیش ممکنہ خطرات،برساتی سیلابی صورتحال میں طغیانی ریلوں کا جائزہ لیا گیا

اس موقع پر فلڈ ایمرجنسی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹنے کیلئے جامع لائحہ عمل ترتیب دیا گیا اور تمام اداروں کی ذمہ داریوں کا واضح تعین بھی کیا گیا ڈپٹی کمشنر ممتاز علی کھیتران نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تمام محکموں کے ضلعی آفیسران کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ محکمے کسی بھی ممکنہ سیلابی صورتحال سے پیشگی ہمہ وقت الرٹ رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اقدامات کو ہر صورت یقینی بنائیں انہوں نے کہا کہ ریسکیو اور ریلیف آپریشن کیلئے ضروری مشینری، عملہ اور وسائل کو فوری طور پر تیار رکھا جائے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال میں بروقت کارروائی ممکن ہو سکے انہوں نے مزید ہدایت کی کہ نشیبی علاقوں کی نشاندہی کرکے وہاں سے لوگوں کی بروقت منتقلی کیلئے پلان تیار کیا جائے جبکہ حفاظتی بندات کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کی جان و مال کو ہر ممکن تحفظ فراہم کی جاسکے۔

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ندی نالوں اور نشیبی علاقوں سے دور رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ دریں اثناء پی ڈی ایم اے کی صوبائی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (PEOC) کی رپورٹ کے مطابق ضلع کچھی کے علاقے ڈھاڈر میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک بچے کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ تحصیل بالا ناری میں دریائے ناری کے پشتے میں شگاف پڑنے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جہاں 100 سے زائد مکانات تباہ، تقریباً 400 ایکڑ زرعی اراضی زیر آب اور 50 سے زائد مویشی ہلاک ہو گئے۔ہرنائی میں ایک مکان کی چھت گرنے کا واقعہ پیش آیا

تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، جبکہ مسلسل بارشوں کے باعث ہرنائی سے سنجاوی اور ہرنائی سے کوئٹہ جانے والی شاہراہیں ٹریفک کے لیے بند ہو گئی ہیں اور متعدد اندرونی رابطہ سڑکیں بھی متاثر ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہرنائی اور چمن میں وقفے وقفے سے ہونے والی درمیانی سے شدید بارش کے باعث ندی نالوں میں فلیش فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ضلع قلعہ عبداللہ میں موسلا دھار بارش کے باعث شدید سیلابی صورتحال دیکھنے میں آئی، خصوصاً قلعہ عبداللہ بازار، حبیب زئی، عبدالرحمن زئی، گلستان، آرامبی اور توبہ اچکزئی میں پانی کی سطح میں خطرناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مچکا، آرامبی، باغک اور گلستان کاریز میں اونچے درجے کا سیلاب بہتا رہا۔قلعہ عبداللہ میں ڈپٹی کمشنر اور ضلعی پولیس افسر کی نگرانی میں پی ڈی ایم اے کی مشینری کے ذریعے ریسکیو آپریشنز کیے گئے، جہاں گلستان کے قریب سیلابی پانی میں پھنسنے والی خواتین اور بچوں سمیت 15 افراد پر مشتمل ایک منی کوچ کو بحفاظت نکال لیا گیا، جبکہ مچکا ندی سے مزید دو گاڑیوں کو بھی ریسکیو کیا گیا۔پی ڈی ایم اے کے مطابق ہرنائی میں متاثرہ خاندان کو فوری امدادی سامان فراہم کیا گیا،

جبکہ کچھی میں دریائے ناری کے پشتے کی مرمت کے لیے بھاری مشینری تعینات کر دی گئی ہے اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔ریلیف کمشنر و ڈی جی پی ڈی ایم اے جہانزیب خان غوری کے مطابق صوبائی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر مکمل طور پر فعال ہے اور تمام ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے امدادی کارروائیوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے تمام ریسکیو عملے اور ریلیف ٹیموں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ اور اسٹینڈ بائی رکھا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *