|

وقتِ اشاعت :   April 2 – 2026

گوادر: گوادر میں سیلاب متاثرین کی امداد میں بے ضابطگیوں کا الزام، بی این پی کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ،8511 متاثرین میں سے صرف 284 کو امداد،

سیاسی بنیادوں پر تقسیم کا دعویٰ، عملدرآمد نہ ہوا تو احتجاج کی وارننگ۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی مینگل) تحصیل گوادر نے 2024 کے تباہ کن سیلاب کے متاثرین کو دی جانے والی حکومتی امداد میں مبینہ بے ضابطگیوں، اقربا پروری اور ناانصافیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔پارٹی رہنماؤں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سیلاب متاثرین کے لیے مختص امدادی رقوم مستحق افراد تک پہنچنے کے بجائے مخصوص سیاسی شخصیات اور ان کے قریبی افراد میں تقسیم کی گئیں۔

رہنماؤں کے مطابق 2024 میں ہونے والے شدید سیلاب اور طوفانی بارشوں کے نتیجے میں گوادر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، جس سے سینکڑوں خاندان متاثر اور متعدد افراد بے گھر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق مجموعی طور پر 8511 افراد متاثر ہوئے، تاہم ان میں سے صرف 284 افراد کو مالی امدادی چیکس جاری کیے گئے،

وہ بھی مبینہ طور پر سیاسی بنیادوں پر۔پریس کانفرنس میں مزید کہا گیا کہ بلدیاتی نظام اس وقت غیر مؤثر ہو چکا ہے اور شہر کو صفائی، بنیادی سہولیات اور انتظامی امور میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

رہنماؤں نے الزام لگایا کہ کروڑوں روپے کے بجٹ کے باوجود شہری مسائل حل نہیں ہو سکے اور بلدیاتی نمائندے عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کے تحفظ میں مصروف ہیں، جس کے باعث عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد متاثر ہو رہا ہے۔

بی این پی تحصیل گوادر نے مطالبہ کیا کہ امدادی رقوم کی تقسیم کے عمل کی فوری اور شفاف انکوائری کرائی جائے، تمام متاثرہ خاندانوں کو بلاامتیاز مالی امداد فراہم کی جائے اور مبینہ طور پر ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے شفاف اور منصفانہ طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ متاثرین کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پر فوری عملدرآمد نہ کیا گیا تو پارٹی احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ عوامی مسائل کو حکام بالا تک پہنچانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *