|

وقتِ اشاعت :   April 3 – 2026

کوئٹہ:  بلوچستان میں حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید3اموات رپورٹ ہلاکتوں کی تعداد 9ہوگئی ۔ محکمہ پی ڈی ایم اے بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ژوب، دکی اور لورالائی میں تین بچوں کی ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، جن میں ژوب اور دکی میں چھت گرنے جبکہ لورالائی میں ایک،ایک بچہ پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوا۔

اسی دوران لورالائی اور ژوب میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد زخمی بھی ہوئے، جہاں دیوار اور چھت گرنے کے واقعات پیش آئے۔

رپورٹ کے مطابق انفراسٹرکچر اور نجی املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے، ژوب اور دکی میں مکانات کو جزوی و مکمل نقصان کی اطلاعات ہیں جبکہ دیگر علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

پی ڈی ایم اے کی مجموعی رپورٹ کے مطابق 20 مارچ سے اب تک جاری بارشوں اور سیلابی صورتحال کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق افراد میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں جبکہ ہلاکتوں کی وجوہات میں سیلابی پانی میں ڈوبنا، چھتیں اور دیواریں گرنا اور آسمانی بجلی گرنا شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کچھی، ژوب، قلعہ عبداللہ، ہرنائی اور دیگر اضلاع میں مکانات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جہاں مجموعی طور پر 150 سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 28 مکمل جبکہ 122 جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔

سب سے زیادہ نقصان ضلع کچھی میں رپورٹ ہوا جہاں 100 مکانات متاثر ہوئے۔

سڑکوں اور رابطہ نظام کے حوالے سے بھی صورتحال متاثر ہوئی ہے، خاص طور پر ہرنائی، کوہلو اور دیگر اضلاع میں بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث کئی شاہراہیں اور لنک روڈز بند ہیں جس سے زمینی رابطہ متاثر ہوا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں جبکہ نقصانات کے حتمی تخمینے کے لیے سروے کا عمل تاحال جاری ہے۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ مزید بارشوں کے پیش نظر عوام احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔

ژوب کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارشوں اورژالہ باری سے کلی والہ آکرم مندوخیل میں بارش کے دوران کمرے کی چھت گرنے سے ماسٹر خان محمد کے 16 سالہ بیٹا فیصل خان جاں بحق جبکہ خواتین سمیت چار افراد زخمی ہوگئے سول ہسپتال منتقل ایک اور واقعے گھوسہ کیبزئی کے علاقے غنڈی سیلمان زئی میں بارش کے باعث تین سالہ بچہ اسرار اللہ خان جاں بحق جبکہ پانچ افراد زخمی ہوگئے علاقہ والمہ میں دیوار گرنے سے ایک شخص جاں بحق جبکہ کئی افراد زخمی حالیہ طوفانی بارشوں اور ژالہ باری سے فصلوں کو کروڑوں روپے کا نقصان مواصلاتی رابطے منقطع انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا مختلف علاقوں میں بارشوں کے باعث رہائشی مکانات منہدم ہو گئے

مال مویشی ہلاک ہوئے ژوب کے عوامی سماجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ژوب میں بارشوں سے نقصانات کا ازالہ کریں اور پی ڈی ایم اے کی ٹیمیں روانہ کریںپولیس کے مطابق تحصیل سوئی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک خستہ حال مکان کی چھت اچانک گرنے سے ایک نوجوان ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گیا

مقامی افراد نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کی لیکن نوجوان کو نہ بچایا جا سکا بعد ازاں لاش ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی گئی دوسری جانب ڈیرہ بگٹی کے علاقوں سنگسیلہ سمیت سیاہ آف سوئی کے علاقے اوچ اور اپر ڈیرہ بگٹی میں تیز بارشوں اور طوفانی ہواؤں کے باعث کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے لیویز ذرائع کے مطابق گندم سمیت دیگر فصلیں متاثر ہوئی ہیں جس سے کاشتکاروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا علاقہ مکینوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین کی فوری مدد کی جائے جبکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نقصانات کے جائزے کے لیے ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں

اور جلد ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ ادھر نصیرآباد، جعفرآباد ،جھل مگسی ،کچھی، صحبت پور، بختیارآباد، تمبو منجھو شوری ،نوتال، گنداواہ، چھتر ،فلیجی، ڈیرہ بگٹی سمیت دیگر علاقوں میں گزشتہ دو روز سے شدید بارشیں اور ژالہ باری کا سلسلہ جاری لاکھوں ایکڑز پر تیار کھڑی گندم چنا سرسوں ودیگر فصلیں تباہ سینکڑوں مال مویشی ہلاک سینکڑوں کچے مکانات منہدم ہزاروں افراد بے گھر ہوکر رہ گئے بجلی 48 گھنٹوں سے غائب معمولات زندگی شدید متاثر متعدد علاقوں کا زمینی راستے منقطع عوام کو سخت مشکلات کا سامنا تفصیلات کے مطابق کچھی کے علاقوں حاجی شہر غازی بھاگ کے علاقے جلال خان سمیت دیگر علاقوں میں بارشوں کے سیلابی پانی نے بڑے پیمانے پر تباہی مچاتے ہوئے سینکڑوں دیہات ڈوب گئے

اور ہزاروں ایکڑز پر کھڑی گندم کی فصیلات تباہ اور متعدد مال مویشیکی ہلاکتیں ہوئیں جبکہ سینکڑوں افراد بے گھر ہوکر رہ گیے جمعہ کے روز ڈیرہ مراد جمالی تمبو منجھو شوری بالان شاخ باری شاخ قیدی شاخ عمرانی شاخ روپا غفوراباد لہڑی قبولہ واہ گوٹھ میر رسول بخش لہڑی میر گل حسن منجھو ابادسمیت دیگر علاقوں میں شدید بارش اور ڑالہ باری سے لاکھوں ایکڑز پر مشتمل گندم چنا سرسوں کی فصیلات تباہ ان علاقوں میں بارشوں کے پانی نے سیلابی شکل اختیار کرلی متعدد علاقوں کا زمینی راستہ کٹ گیا بارشوں کے پانی میں سینکڑوں خاندان پھنس کر رہ گئے ڈیرہ مراد جمالی شہر غربی اور شرقی میں طوفانی بارشوں نے انسانی زندگی مفلوج کرکے رکھ دی

سیوریج سسٹم جام ہونے سے بارشوں کا پانی تالابوں کا منظر پیش کرنے لگا ٹیچنگ ہسپتال سمیت متعدد سرکاری دفاتر پانی میں ڈوب گئے ڈیرہ اللہ یار صحبت پور اوستہ محمد نوتال گنداواہ اور جھل مگسی گنداخہ ودیگر علاقوں میں بھی بارشوں نے وسیع پیمانے پر تباہی مچادی دی سینکڑوں کی تعداد میں کچے مکانات منہدم ہوگئے اور کئی خاندان بے گھر اور بے یارومددگار پڑے ہوئے ہیں جبکہ ڈیرہ بگٹی چھتر فلجی میں بارشوں کے پانی نے سیلابی شکل اختیار کرتے ہوے اونچے درجہ کا سیلابی ریلہ نصیراباد ربی ون اور ربی ٹو کی جانب گامزن ہے جبکہ مزکورہ علاقوں میں گزشتہ 48 گھنٹوں سے بجلی کی فراہمی بھی معطل ہے

جس سے عوام کی مشکلات میں مذید اضافہ ہوا ہے نوتال گنداواہ جھل مگسی کا زمینی راستہ گزشتہ دو روز سے کٹا ہوا ہے اور ٹریفک کی روانگی بھی متاثر ہے تاہم ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تاحال امدادی سرگرمیاں شورع نہیں کی جاسکی ہیں ۔ضلع موسی’ خیل میں بارشوں کے بعد ضلعی انتظامیہ کی فوری کارروائی قبرستان اور دیگر رہائشی علاقے سیلابی ریلے سے محفوظ گزشتہ روز موسیٰ خیل میں موسلادھار بارش کے بعد ضلعی انتظامیہ نے میونسپل کمیٹی اور محکمہ بی اینڈ آر کے تعاون سے فوری کارروائی کرتے ہوئے بڑے نقصان کا خدشہ ٹال دیا۔ انتظامیہ نے ماڈل ہائی اسکول کے سامنے واقع اجتماعی قبرستان میں داخل ہونے والے سیلابی ریلے کا رخ موڑا۔

ادھر ضلع ہرنائی میں حالیہ دنوں میں ہونے والی مسلسل بارشوں اور پہاڑی سلسلوں سے آنے والے شدید سیلابی ریلوں نے حفاظتی بندوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد سلیم ترین نے فیلڈ کا دورہ کیا اور سروتی بند کے حفاظتی پشتوں کی تکنیکی حالت کا معائنہ کیا۔

دورانِ معائنہ ایس ڈی او آبپاشی سید آصف شاہ بخاری نے اے ڈی سی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ محکمہ آبپاشی تمام حساس مقامات کی نگرانی کر رہا ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے موقع پر موجود عملے کو ہدایات جاری کیں کہ پشتوں کی بحالی اور مضبوطی کے کام میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے تاکہ قریبی آبادیوں اور زرعی اراضی کو سیلابی بردگی سے بچایا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر ہرنائی ارشد حسین جمالی نے گزشتہ روز ہونے والی شدید بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اہم قومی شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔

اس موقع پر ان کے ہمراہ انتظامی افسران اور متعلقہ محکموں کی نفری بھی موجود تھی۔دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے شاہراہوں پر پانی کے بہاؤ، ندی نالوں کی صورتحال اور نکاسی آب کے عمل کا معائنہ کیا۔ انہوں نے وہاں موجود عملے کو سخت ہدایات جاری کیں کہ شاہراہوں پر پھسلن اور ندی نالوں میں طغیانی کے خدشے کے پیشِ نظر مسافروں اور ڈرائیور حضرات کی رہنمائی اور امداد کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں۔ڈپٹی کمشنر نے مزید حکم دیا کہ تمام حساس مقامات اور ندی نالوں کے قریب بھاری مشینری اور ریکوری ٹیمیں 24 گھنٹے الرٹ رہنی چاہئیں تاکہ کسی بھی ممکنہ لینڈ سلائیڈنگ یا سڑک کی بندش کی صورت میں فوری طور پر بحالی کا کام شروع کیا جا سکے۔

انہوں نے افسران کو تاکید کی کہ وہ فیلڈ میں رہ کر عوام کو درپیش مسائل کا فوری حل یقینی بنائیں، کیونکہ بارشوں کے دوران معمولی غفلت بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے ضلعی انتظامیہ کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے اور اس ہنگامی صورتحال میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ موسم کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں اور ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کر کے ہی کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکتا ہے۔ ضلعی کنٹرول روم کو بھی فعال کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی شکایت پر فوری ریسپانس دیا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *