کوئٹہ : صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ و قبائلی امور حمزہ شفقات، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورایہ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی میں افغانستان ملوث ہے اور دہشت گردی میں ملوث افغان طالبان جنگجو حبیب اللہ کو اس کے 2 ساتھیوں سمیت گرفتار کیا ہے
امن کی بحالی کو یقینی بنانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے کاشت کی گئی پوست کی فصل کو تلف کیا گیاہے اور افغان مہاجرین کو اپنے ملک جانا ہوگا جو واپس نہیں جائے گا اسے زبردستی واپس بھیجیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکندر آڈیوٹوریم سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ اس وقت خطے میں جنگی صورتحال ہے اور ایک سازش کے تحت پاکستان کو بھی غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے
جب سے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے اس وقت سے لیکر اب تک ہمارے 1 لاکھ کے قریب لوگ شہید ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے جس کو ہمارے دشمن اپنی ناکام سازشوں کے تحت نقصان پہنچانا چاہتے ہیں انڈیا نے افغانستان میں 18 قونصلیٹ کھولے تھے اور پاکستان نے بارہا افغان حکومت ان حالات کے حوالے سے سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ وہ دہشت گردوں کا ساتھ چھوڑ دیں اور افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں لیکن بدقسمتی افغان حکومت ملک و قوم کو ترقی دینے کی بجائے وہ دہشت گردوں کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہیں افغانستان اپنے پراکسی پر پیسے خرچ کرکے پاکستان میں بد امنی پیدا کررہا ہے
ہم نے افغانستان کے شر سے اپنی سرزمین کو محفوظ بنانا ہے کیونکہ افغانستان کے شر سے ہماری سرزمین محفوظ نہیں ہے افغان عوام سے ہمیں کوئی گلہ نہیں ہے ہم نے ان کی ترقی و خوشحالی چاہتے ہیں اور افغانستان حکومت سے کہتے ہیں
ہم جنگ نہیں چاہتے مگر جو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا اسے بھر پور جواب دیا جائے گا اور دشمن کو ایسا جواب دیں گے جسے یاد رکھیں گے انہوں نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے لنکس سامنے آئے ہیں اور اس صورتحال کے حوالے سے ہم اپنے عوام کو زمینی حقائق سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ افغان طالبان جنگجو حبیب اللہ کو گرفتار کیا ہے
جو صوبے میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہے انہوں نے بتایا کہ صوبائی ایکشن پلان موثر انداز میں کام کررہا ہے اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ و قبائلی امور حمزہ شفقات نے کہا کہ گرفتار حبیب اللہ کو اس کے 2 ساتھیوں سمیت گرفتار کیا ہے حبیب اللہ کا ایک بھائی ٹی ٹی پی کا اہم کمانڈر ہے بلوچستان میں ون ڈاکومنٹ رجیم ہے اس لئے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو ڈی پورٹ کیا ہے۔
ایک سوال کے جواب ا نہوں نے کہا کہ جنگل پیر علی زئی میں کیمپ قائم کردیا ہے اور کاشت کی گئی افیون کو تلف کیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورایہ نے کہا کہ حبیب اللہ نے افغانستان میں تربیت حاصل کی ہے اور دہشت گردی میں افغان شہری ملوث ہیں جو امریکن اسلحہ فروخت کرتے ہیں اور دہشت گردوں کے تانے بہانے افغانستان نے ملتے ہیں ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو نے کہا کہ افیون اورپوست کی کاشت کی روک تھام کررہے ہیں۔
حکومت کا موقف واضح ہے کہ افغانیوں کو اپنے ملک چلے جانا چاہئے اور وہ واپس چلے جائیں اگر واپس نہیں جاتے انہیں زبردستی بھیجا جائے گا۔
Leave a Reply