عمان کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے ساتھ ملاقات میں آبنائے ہرمز سے ’بنا کسی تعطل کے آمدورفت یقینی بنانے‘ کے لیے مختلف آپشنز پر بات چیت کی ہے۔
بیان کے مطابق دونوں جانب کے ماہرین نے ملاقات کے دوران ’متعدد تجاویز‘ پیش کیں جن کا اب جائزہ لیا جائے گا۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ’امریکی قیادت میں ہونے والی ہر اس کوشش میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے‘ جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں ’محفوظ جہازرانی‘ کو یقینی بنانا ہو۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خیال میں جنگ کے دوران ایران کی جانب سے پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی مؤقف اور اثر و رسوخ کو تقویت ملی ہے۔
Leave a Reply